پنجاب میں امن و امان رینجرز کے حوالے کرنے کا حکم: شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پنجاب میں امان و امان رینجرز کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت جہاں چاہے رینجرز کو استعمال کر سکتی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پنجاب میں امان و امان رینجرز کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت جہاں چاہے رینجرز کو استعمال کر سکتی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وہ کراچی کی طرح پنجاب حکومت کو بھی 60 روز کے لیے صوبے میں رینجرز تعینات کرنے کا اختیار دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 147 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی شق نمبر پانچ کے تحت حکومت پنجاب کو اختیار دے رہے ہیں کہ وہ جہاں چاہیں رینجرز کو استعمال کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں سے کہتے ہیں کہ وہ واپس چلے جائیں۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق 5 کے تحت دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کو استعمال کرنے کا ضابطہ کار موجود ہے۔ 

اس شق کے مطابق کسی بھی پولیس افسر یا مسلح افواج یا سول آرمڈ فورس کے اہلکار کو تعینات کیا جا سکتا ہے اور تعینات کیے گئے افسران کے پاس پولیس افسر کے تمام اختیارات ہوں گے۔

تحریک لبیک پاکستان سے بطور عسکری تنظیم نمٹنے کا فیصلہ

اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان سے بطور عسکری تنظیم نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان سیاسی جماعت نہیں ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’’صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے، پاکستان نے بڑی بڑی تنظیموں کو دھول چٹائی ہے، ٹی ایل پی کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہندوستان کے اکاؤنٹس تحریک لبیک کی حمایت کر رہے ہیں۔‘

فواد چوہدری نے بتایا کہ تحریک لبیک کے مارچ کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں اب تک تین پولیس اہلکار ہلاک اور 49 کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مطابق ان کے ’ناموسِ رسالت‘ مارچ کے شرکا پر سادھوکی کے مقام پر پولیس نے ایک بار پھر شیلنگ کی ہے جس سے 50 سے زائد کارکنان زخمی ہوئے ہیں۔

تحریک لبیک کے مارچ کے دوران گجرانوالہ میں ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’مقامی آبادی اور مارچ کے شرکا کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا جارہا ہے پیٹرول کی بوتلیں پھینکی جا رہی ہیں جس سے پولیس اہلکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور پولیس صرف آنسو گیس کے شیل فائر کرکے بچاؤ کر رہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گوجرانوالہ پولیس سادھوکی میں لگائی جانے والی رکاوٹیں چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئی ہے اور مظاہرین نے سادھوکی میں لگائے گئے کنیٹنرز عبور کر لیےہیں۔

اس موقع پر مارچ کے شرکا نے پولیس اہلکاروں اور گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا ہے۔

اُدھر سٹی پولیس چیف آفسر کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ مارچ کے شرکا اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں پولیس کے ایک اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

تحریک لبیک کے ترجمان کے مطابق حکومت معاملات کو سلجھانے کے بجائے مزید خراب کر رہی ہے۔

تحریک لبیک کا موقف ہے کہ نہتے کارکنان اور قائدین پر ایسے حملوں کی مثال نہیں ملتی۔

بدھ کی صبح مطالبات تسلیم کرنے کی مدت ختم ہونے کے بعد تحریک لبیک کی مجلس شوریٰ نے مرید کے میں موجود مارچ کے شرکا کو اسلام آباد روانہ ہونے کی ہدایت کی تھی جس کے ردعمل میں صوبائی حکومت نے راستوں کو بلاک کردیا تھا۔

ٹی ایل پی کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور رکن مجلسِ شوریٰ مفتی محمد وزیر علی نے تحریک لبیک پاکستان کے ناموسِ رسالت مارچ کے اسلام آباد کی جانب سفر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے پوری کوشش کی تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں لیکن حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کو مذاق بنایا ہے اور ان کی جماعت ہرگز اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

مفتی محمد وزیر علی کے مطابق: ’فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے حکومت نے کہا کہ اسمبلی میں قرارداد لائیں گے، ایسے اچانک فیصلے تبدیل کرنا سمجھ سے بالاتر ہیں۔‘

دھر صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا پنجاب اسمبلی کے احاطے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’کل رات وفاقی حکومت نے کچھ فیصلے کیے ہیں اور صوبائی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔ ان فیصلوں پر آج اجلاس ہوگا جس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ معاملات خوش اسلوبی سے طے کر لیے جائیں۔‘

دوسری جانب حکومت نے بھی مارچ کو غیر موثر بنانے کی پوری حکمت عملی تیار کر رکھی ہے اور پنجاب سے چھ اعلیٰ افسران سمیت سینکڑوں پولیس اہلکار پہلے ہی راولپنڈی روانہ کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے مرید کے سے راولپنڈی تک جی ٹی روڈ کو بلاک کیا ہوا ہے تاکہ شرکا کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے جبکہ مرید کے سے آگے کنٹینرز لگائے گئے ہیں اور گجرانوالہ شہر میں بھی بذریعہ جی ٹی روڑ داخلہ مشکل ہے۔

اس سے اگلے شہر گجرات کے قریب کئی روز سے جی روڈ کو کھود کر گڑھے بنا دیے گئے ہیں۔ جہلم سے پہلے بھی کنٹینرز میں مٹی بھر کر جی ٹی روڑ کو بلاک کردیا گیا ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس کے علاوہ راولپنڈی براستہ جی ٹی روڑ کے ذریعے داخلہ بھی مشکل ہے کیونکہ وہاں بھی کنٹینرز لگا کر راستہ بند کیا گیا ہے۔

مارچ کے شرکا دوبارہ رکاوٹیں عبور کر پائیں گے؟

ترجمان ٹی ایل پی صدام حسین نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے مذاکرات کے ذریعے تمام مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن اب وزیر داخلہ نے دوبارہ معاہدے سے انحراف کا اعلان کردیا ہے، جس کے بعد ٹی ایل پی حق رکھتی ہے کہ وہ مرید کے میں روکا گیا مارچ دوبارہ اسلام آباد کی طرف شروع کرے جس کا اعلان کر دیا گیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست