'غلطی رینجرز، آئی ایس آئی کی تو سندھ پولیس کے خلاف کیسی کارروائی؟'

 سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد ایڈووکیٹ نےکہا:'کیپٹن صفدرکی گرفتاری اور آئی جی کے'اغوا' کیس میں آئی ایس آئی، رینجرز کےخلاف کارروائی کرکے فوج نے اپنی غلطی تسلیم کی تو پھر سندھ پولیس کے افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ درست نہیں۔

گذشتہ ماہ کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو مزار قائد کی 'بے حرمتی' کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا(فائل تصویر: سوشل میڈیا)

سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی کراچی میں گرفتاری اور آئی جی سندھ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کے بعد واقعے میں ملوث پاکستان رینجرز اور فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے متعلقہ افسران کو ان کی  ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دینے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کی جانب سے سندھ حکومت سے پولیس کے افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، تاہم قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ 'ایسے مطالبے کی کوئی تُک نہیں بنتی۔'

گذشتہ ماہ کراچی میں حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے قبل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے مزار قائد کی 'بے حرمتی' کے الزام میں گرفتاری کے لیے مبینہ طور پر سندھ کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) کے 'اغوا' کے واقعے پر حکومت مخالف سیاسی جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا جبکہ واقعے کے بعد سندھ پولیس کے متعدد افسران نے احتجاجاً چھٹی کی درخواستیں بھی دیں جو بعد میں واپس لے لی گئی تھیں۔  

جس کے بعد گذشتہ روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر کی گئی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان واقعات میں ملوث پاکستان رینجرز اور فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے متعلقہ افسران کو سبکدوش کر دیا گیا ہے۔ 

فوج کی اس کارروائی کا پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیرمقدم کیا جب کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے تحقیقاتی رپورٹ کو 'مسترد' کرتے ہوئے کہا کہ 'اس واقعے کی انکوائری رپورٹ ایک کور اپ (حقائق کو چھپانا) ہے، جس کا مقصد جونیئرافسران کو قربانی کا بکرا بنانا اور اصل مجرموں کو بچانا ہے۔'

دوسری جانب تحقیقاتی رپورٹ کے بعد وفاقی وزیر برائے اطلاعات شبلی فراز اور وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ایس پی آر کے فیصلے کے بعد سندھ حکومت بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے اور 'ڈیوٹی چھوڑنے' کا اعلان کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کرے، تاہم قانونی ماہرین اس مطالبے کو بلاجواز قرار دیتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور ممتاز آئین و قانونی ماہر یاسین آزاد ایڈووکیٹ نے کہا: 'اس کیس میں آئی ایس آئی اور رینجرز کے خلاف کارروائی کرکے فوج نے یہ تسلیم کیا ہے کہ غلطی ان کی تھی تو پھر سندھ پولیس کے افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ درست نہیں۔ ان افسران نے تو اپنی عزت نفس کی باعث چھٹی کی درخواستیں دی تھیں، جو غیر قانونی عمل نہیں ہے۔ جب کسی کےساتھ ناانصافی ہو تو احتجاج کرنا ان کا قانونی حق ہے۔ سندھ پولیس کے افسران نے کیا غلط کیا جو ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔'  

ساتھ ہی یاسین آزاد ایڈووکیٹ نے سوال اٹھایا: 'کیا فوج نے اس انکوائری کے لیے وزیراعظم سے اجازت لی تھی؟ یہ بتایا جائے کہ اگر اجازت نہیں لی تھی تو پھر وزیراعظم کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ انکوائری رپورٹ میں یہ بھی واضح طور پر عوام کو بتایا جائے کہ آئی جی سندھ کے اغوا کے لیے کس نے آرڈر دیا تھا، ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی یا نہیں؟'  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی نے کہا کہ وفاقی وزرا کی جانب سے سندھ پولیس کے افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا: 'جس انداز میں رینجرز اور سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ آئے اور آئی جی سندھ کو اغوا کرکے لے گئے، اس پر تو پولیس افسران کو اپنی عزت کی خاطر نوکری سے استعفیٰ دینا چاہیے تھا، انہوں نے صرف احتجاج کرتے ہوئے چھٹی کی درخواست دی، تو کیا غلط کیا جو ان کے خلاف کارروائی ہو؟' 

رشید اے رضوی کے مطابق اس کیس میں سرکاری پروٹوکول کو بھی نظرانداز کیا گیا۔ 'پروٹوکول کے مطابق ڈی جی رینجرز کو اگر کوئی کام تھا تو وہ خود جاتے نہ کہ اس طرح آئی جی کو اپنے پاس بلاتے، اس ملک میں الٹی گنگا بہتی ہے۔ اب اوپر سے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔' 

دوسری جانب انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا نے کہا ہے کہ آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا کے معاملے پر رینجرز اور آئی ایس آئی کے افسران کے خلاف اقدامات کے بعد سندھ پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ تکنیکی طور پر درست نہیں ہے۔  

عبدالرشید چنا کے مطابق: 'کراچی میں موجود وفاقی اداروں کی مانند مزار قائد کا تمام رقبہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے، مزار کا کوئی بھی حصہ سندھ پولیس کی حدود میں نہیں آتا۔ وہاں اگر کوئی کیس ہو تو بھی مجسٹریٹ کے اختیارات ہیں، نہ کہ سندھ پولیس کے، تو اس معاملے میں جب مزار سندھ پولیس کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں تو سندھ پولیس کے خلاف کسی بھی کارروائی کا مطالبہ بے بنیاد ہے۔' 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان