اسلام آباد کی کافی جو’مکہ، مدینہ کی یاد دلاتی ہے‘

حال ہی میں دارالحکومت میں کھلنے والی کیف کافی شاپ اس وقت اسلام آباد میں ’مستند‘ عربی کافی شاپ سمجھی جا رہی ہے، جہاں عرب ثقافتی برتنوں میں کافی اور سعودی عرب کی کھجوریں پیش کی جاتی ہیں۔

دنیا بھر میں کرونا (کورونا) وبا کی وجہ سے جہاں سب کچھ تھم سا گیا تھا، وہیں بہت سی دوریاں بھی پیدا ہوگئی تھیں اور جو جس جگہ پر تھا، وہیں رہ گیا تھا۔ ایسا ہی کچھ چار نسلوں سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری عبدالمالک عبداللہ اور وائل واصل کے ساتھ بھی ہوا۔

یہ دونوں کزنز پڑھائی کے سلسلے میں پاکستان آئے اور کرونا وبا کی وجہ سے یہیں پھنس کر رہ گئے۔

ایسے میں انہیں جہاں کئی دیگر چیزوں کی یاد ستاتی رہی وہیں کھانے بھی یاد آنے لگے، خاص کر عربی کافی (coffee)، جس کا حل انہوں نے اپنے ایک دوست فہیم حسن خان کے ساتھ مل کر یہ نکالا کہ اسلام آباد کے سیکڑ ایف 6 میں اپنی کافی شاپ کھول لی اور اس کا نام کیف (KAF) رکھا۔

اس کافی شاپ پر وہ عربی کافی سے اپنی محبت کو دارالحکومت کے رہائشیوں تک پہنچا رہے ہیں۔

عبدالمالک عبداللہ، وائل واصل اور فہیم حسن خان تینوں کو جن تین چیزوں نے دوستی کے بندھن میں جوڑا، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ سب خلیجی ممالک میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے، دوسرا وہ سب پاکستان میں کرونا وائرس کی سفری پابندیوں کی وجہ سے پھنس گئے اور تیسرا سب کو عربی کافی پسند تھی۔

گذشتہ ہفتے دارالحکومت میں کھلنے والی کیف کافی شاپ اس وقت اسلام آباد میں ’مستند‘ عربی کافی شاپ سمجھی جا رہی ہے، جہاں عرب ثقافتی برتنوں میں کافی اور سعودی عرب کی کھجوریں پیش کی جاتی ہیں۔

وائل واصل کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ان کی کافی شاپ میں نہ صرف عربی بلکہ ترکش کافی بھی روایتی طریقے سے بنائی اور پیش کی جاتی ہے۔

’اس کا ذائقہ ویسا ہی ہے جیسے سعودی عرب میں ہوتا ہے اور ہمارے پاکستانی گاہک اس کی خوشبو سے کھنچے چلے آتے ہیں۔ جو لوگ سعودی عرب عمرے یا حج کے لیے جا چکے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس کی خوشبو نے ہمیں مکہ اور مدینہ کی یاد دلا دی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بعض گاہکوں کو اس حد تک عربی کافی پسند آئی ہے کہ وہ دن میں تین سے چار مرتبہ چکر لگانے لگے ہیں۔

عبدالمالک کہتے ہیں کہ اتنی پذیرائی کی ہمیں امید نہیں تھی کیونکہ ہمیں جو بھی ملتا تھا وہ یہی کہتا تھا کہ پاکستانی چائے کے شوقین ہیں لیکن ہمارے لیے یہ باعث حیرت ہے کہ ہمارے آدھے سے زیادہ کسٹمر پاکستانی ہیں اور ان کے پاس ہم سے زیادہ کافی کے بارے میں معلومات ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وائل واصل اور عبدالمالک کے تیسرے پارٹنر فہیم حسن خان، جو آج کل متحدہ عرب امارات میں ہیں، کا کہنا ہے کہ ’ہم بہت جلدی بھائی بن گئے اور سب کا مشترکہ مقصد تھا کہ اپنا کچھ شروع کریں۔ ہمارا خیال تھا کہ اسلام آباد میں مستند عربی ثقافتی قہوہ لایا جائے۔‘

فہیم نے بتایا: ’جب آپ کسی عرب کی رہائش گاہ پر جاتے ہیں تو وہ آپ کو عربی کافی اور کھجور سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ عرب سر زمین میں محبت کی زبان عربی کافی ہے۔‘

دوسری جانب عبدالمالک کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب، برازیل اور ایتھوپیا سے درآمد شدہ کافی ہی استعمال کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین بھی خلیجی ممالک میں کافی شاپس پر کام کا تجربہ رکھتے ہیں۔

’ان کو معلوم ہے کہ یہ کس طرح بنائی جاتی ہے اور کیسے پیش کی جاتی ہے، کیوں کہ اس کو بنانا بھی ایک فن ہے اور پیش کرنا بھی۔‘

27 سالہ وائل واصل کا کہنا ہے کہ جیسے پاکستانیوں کے لیے تین ٹائم روٹی لازمی ہے، اس طرح عرب لوگوں کے لیے کافی۔

’ہم اسے دن رات پیتے ہیں یہ ہماری زندگیوں کا ایک لازمی جز ہے اور جو کھجور ہم اپنے شہر قسیم میں کھاتے تھے، ہم وہی کھجور یہاں لے کر آئے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا