کوپ 26: امریکی صدر کی اونگھ، گریٹا کا گانا اور آرچ بشپ کی معافی

سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں جاری 12 روزہ ماحولیاتی کانفرنس کوپ 26 کے دوران سنجیدہ بحث مباحثوں کے علاوہ اور کیا کیا ہوا، یہاں جانیے۔

ٹوئٹر پر صارفین امریکی صدر جو بائیڈن پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ کوپ 26 کے افتتاحی خطاب کے دوران ان کی آنکھ لگ گئی تھی ( تصویر: رئیل کارل ورنون  ٹوئٹر اکاؤنٹ)

سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 12 روزہ ماحولیاتی کانفرنس کوپ 26 جاری ہے، جہاں دنیا بھر سے رہنما شرکت کر رہے ہیں تاکہ دنیا میں ماحولیاتی آلودگی کم کرنے پر اتفاق قائم کرسکیں۔

اس موقع پر سنجیدہ بحث مباحثوں کے علاوہ چند مزید واقعات بھی پیش آئے، جن میں امریکی صدر جو بائیڈن کا خطاب کے دوران مبینہ طور پر اونگھنا، موسمیاتی آلودگی کے خلاف مظاہرے کرنے والی نو عمر ایکٹوسٹ گریٹا تھنبرگ کا مجمعے کے ساتھ گانا اور دیگر واقعات شامل ہیں۔

جوبائیڈن پر سونے کا الزام

ٹوئٹر پر صارفین امریکی صدر جو بائیڈن پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ کوپ 26 کے افتتاحی خطاب کے دوران ان کی آنکھ لگ گئی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ کے ایک رپورٹر کی جانب سے سب سے پہلے شیئر کیے گئے ایک ویڈیو کلپ میں بائیڈن کو ایک مقرر کی بات سنتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو کہہ رہے تھے کہ کانفرنس کے لیے جمع ہونے والے عالمی رہنماؤں کے پاس ’فیصلے کرنے اور معاہدوں تک پہنچنے کی طاقت ہے جو آنے والی نسلوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوگی،‘ لیکن اس دوران امریکی صدر کی آنکھیں تقریباً 20 سیکنڈز کے لیے بند دکھائی دیں۔

اسی دوران ایک معاون قریب آیا اور بائیڈن سے سرگوشی کرنے لگا، جس کے بعد امریکی صدر نےایک بار پھر تقریر سننے کے لیے اپنا سر ہلایا۔

78 سال کی عمر میں، بائیڈن امریکی صدر کے طور پر خدمات انجام دینے والے سب سے معمر شخص ہیں، اور اس کام کے لیے ان کی صحت اور ذہنی تندرستی ناقدین بشمول سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی طرف سے قیاس آرائیوں کا موضوع رہی ہے۔

2020 میں دوبارہ انتخاب کے لیے اپنی ناکام مہم کے دوران ٹرمپ نے اکثر بائیڈن پر ذہنی طور پر کمزور ہونے کا الزام لگایا اور ان کی کبھی کبھار رک جانے والی تقریر کا حوالہ دیا جو کہ ہکلانے کے طویل مدتی مسئلے کا نتیجہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے کانفرنس میں اپنے پیشرو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیرس معاہدے سے دستبرداری کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’میرا خیال ہے کہ مجھے معافی نہیں مانگنی چاہیے لیکن میں اس حقیقت کے لیے معذرت خواہ ہوں کہ پچھلی انتظامیہ میں امریکہ نے پیرس معاہدے سے دستبرداری اختیار کی۔‘

بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ اس جنوری میں عہدہ سنبھالنے پر ان کی پہلی ترجیحات میں سے ایک معاہدے میں دوبارہ شمولیت تھی۔

انہوں نے مزید کہا: ’امریکہ نہ صرف میز پر واپس آیا ہے بلکہ امید ہے کہ مثالی طریقے سے رہنمائی کر رہا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوا ہے اور اسی وجہ سے میری انتظامیہ زیادہ وقت کام کر رہی ہے۔‘

گریٹا کا قابل اعتراض الفاظ پر مشتمل گانا

موسمیاتی آلودگی کے خلاف مظاہرے کرنے والی نو عمر ایکٹوسٹ گریٹا تھنبرگ اپنے کوپ 26 کے لیے گلاسگو کے دورے کو انجوائے کررہی ہیں۔ جس میں انہوں نے مظاہرین کا گانا گانے میں ساتھ دیا، جس کے بول خاصے قابل اعتراض تھے۔

18 سالہ مہم جوگریٹا فیسٹیول پارک میں سیکڑوں کارکنوں میں شامل تھیں، جو موسمیاتی تبدیلیوں کی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے میں عالمی رہنماؤں کی جانب سے کارروائی نہ کرنے کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

اس وقت ایک ٹوئٹر صارف نے ویڈیو بنائی اور پوسٹ کردی، جس کے بعد گریٹا نے اسے یہ لکھ کے ٹویٹ کیا: ’جب (آپ) سکاٹ لینڈ میں ہوں۔‘

کوپ 26 کے مقام کے باہر سے خطاب کرتے ہوئے گریٹا نے کہا: ’کوپ کے اندر صرف سیاست دان اور اقتدار میں موجود لوگ ہیں جو ہمارے مستقبل کو سنجیدگی سے لینے کا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اب کوئی فضول بات نہ ہو، لوگوں، فطرت اور کرہ ارض کا مزید استحصال نہ ہو۔‘

کینٹربری کے آرچ بشپ کی کوپ 26 کے رہنماؤں کو ’ملعون‘ کہنے پر معذرت

کینٹربری کے آرچ بشپ جسٹن سیلبی نے بی بی سی کو یہ بتانے کے بعد عوامی معافی نامہ جاری کیا ہے کہ اگر کوپ 26 کے رہنما اگلے 15 دن میں کسی معاہدے پر نہیں پہنچتے تو وہ ’لعنت زدہ‘ ہوں گے۔

جسٹن سیلبی نے بی بی سی کی لورا کوئنس برگ کو یہ بھی کہا تھا کہ اب عمل کرنے میں ناکامی ممکنہ طور پر ’ان رہنماؤں سے زیادہ سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے، جنہوں نے 30 کی دہائی میں نازیوں کے بارے میں انتباہ کو نظر انداز کیا تھا۔‘

اس کے بعد آرچ بشپ نے ’واضح طور پر‘ معافی مانگی، جس میں خاص طور پر دوسری عالمی جنگ کا حوالہ دینے سے یہودی برادری کے جذبات مجروح ہونے پر معافی مانگی گئی۔

انہوں نے ٹویٹ کیا: ’میں واضح طور پر ان الفاظ کے لیے معذرت خواہ ہوں جو میں نے کوپ 26 میں ہمیں درپیش صورتحال کی سنگینی پر زور دینے کی کوشش کرتے ہوئے استعمال کیے تھے۔‘

کوپ 26 کانفرنس وہیل چیئر پر موجود اسرائیلی وزیر کے لیے ناقابل رسائی

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک ٹی وی انٹرویو میں اسرائیل کی وزیر توانائی نے کہا کہ وہ پیر کو گلاسگو میں اقوام متحدہ کے کوپ26 سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے سے قاصر تھیں کیونکہ انہیں وہیل چیئر کے ذریعے پیش کی جانے والی نقل و حمل تک رسائی نہیں تھی۔

کیرین الہرار نے اسرائیل کے چینل 12 کو بتایا کہ وہ کانفرنس ہال تک نہیں پہنچ سکیں کیونکہ وہاں پہنچنے کے لیے صرف ایک ہی آپشن پیدل جانا تھا یا ایسی شٹل پر سوار ہونا تھا جو وہیل چیئر کے لیے موزوں نہیں تھی۔

انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا: ’یہ افسوسناک ہے کہ اقوام متحدہ، جو معذور افراد کے لیے رسائی کو فروغ دیتا ہے، 2021 میں اپنے پروگراموں میں رسائی کے بارے میں فکر نہیں کرتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ منگل تک کوئی حل نکال لیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا