اقوام متحدہ کا موسمیاتی سربراہی اجلاس ناکام ہو چکا: گریٹا ٹونبرگ

سویڈش رضاکار گریٹا نےCOP26 کے حوالے سے کہا کہ یہ موسمیاتی کانفرنس نہیں بلکہ گرین واشنگ فیسٹیول ہے۔

گریٹا ٹونبرگ نے COP26 مذاکرات کو محض معمول کا کاروبار قرار دے  دیا(اے ایف پی)

سویڈش رضاکار گریٹا ٹونبرگ نے جمعے کو گلاسگو میں ہونے والے اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہی اجلاس کو ناکام قرار دیا ہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایک ہفتے سے جاری بات چیت کے دوران کاربن کے اخراج میں کمی کے مبہم وعدے کیے گئے۔

ٹونبرگ نے سکاٹش شہر میں ایک مارچ میں شریک ہزاروں نوجوانوں سے خطاب میں کہا یہ کوئی راز نہیں کہ COP26 ایک ناکامی ہے۔

انہوں نے COP26 مذاکرات کو محض معمول کا کاروبار قرار دیا۔

ٹونبرگ نے پرجوش شرکا سے کہا کہ یہ کوئی موسمیاتی کانفرنس نہیں رہی بلکہ ایک عالمی گرین واشنگ فیسٹیول ہے۔

تقریباً 200 ممالک کے مندوبین COP26 سربراہی اجلاس میں 2015 کے پیرس معاہدے پر پیش رفت سے آگاہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔

اجلاس کا مقصد کاربن کے اخراج میں کمی کے ذریعے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 اور دو ڈگری سیلسیس کے درمیان محدود کرنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلے ہفتے میں کچھ ممالک کی طرف سے کوئلے کے استعمال کو ختم کرنے اور  درآمد شدہ فوسل فیول کی فنڈنگ ​​ختم کرنے کے اعلانات دیکھنے میں آئے تھے۔ تاہم اس حوالے سے ٹھوس منصوبے پیش نہیں کیے گئے۔

ٹونبرگ کہتی ہیں کہ وہ سائنسی اتفاق رائے کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہمیں۔

’ہمارے رہنما قیادت نہیں کر رہے۔‘ انہوں نے شرکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قیادت ایسی نظر آتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات