ایک ایسے دیے کی کہانی جو ’پونے دو سو سال‘ سے روشن ہے

سندھ کے شہر ٹنڈو الہ یار میں ہندو مذہب کے ماننے والوں کے بزرگ راما پیر کا تاریخی مندر واقع ہے، جس میں ایک چھوٹا دیا گذشتہ پونے دو سو سال سے مسلسل روشن ہے۔

سندھ کے شہر ٹنڈو الہ یار میں ہندو مذہب کے ماننے والوں کے بزرگ راما پیر کا تاریخی مندر واقع ہے، جس میں ایک چھوٹا دیا گذشتہ پونے دو سو سال سے مسلسل روشن ہے۔

مندر کی رکھوالی کرنے والے چیتن داس کچھی کے مطابق ایک شخص اپنے دل کی مراد پوری ہونے پر بھارتی ریاست راجستھان میں واقع راما پیر کے مندر سے ایک جلتا ہوا دیا لایا اور ٹنڈو الہ یار میں مندر تعمیر کروا کے یہاں رکھا جو آج پونے دو سو سالوں کے بعد بھی مسلسل جل رہا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں راماپیر مندر کی انتظامیہ کمیٹی کے رکن چیتن داس کچھی نے بتایا کہ ’یہ تاریخی مندر پونے دو سو سال پرانا ہے۔ جو کھتری محلے کے رہائشی ایک شخص نے بنوایا تھا۔ اس کی اولاد نہیں تھی تو اس نے راماپیر سے منت مانگی کہ اگر اولاد ہوئی تو وہ نہ صرف بھارت کے راجستھان میں واقع راما پیر مندر پر جائیں گے بلکہ یہاں ٹنڈو الہ یار میں بھی ایک مندر تعمیر کروائیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ان کی مراد پوری ہوئی اور اولاد کی پیدائش پر وہ بھارت گئے اور وہاں سے ایک جلتا ہوا دیا لائے اور مندر بناکر یہاں رکھا جو آج تک جل رہا ہے۔‘

دیے کو تیل دینے اور کپاس کی لو تبدیل کرنے کے لیے اسے روزانہ کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے۔ دیے کو ہوا سے بچانے کے لیے بنے چھوٹے سے کمرے میں شیشے کا دروازہ لگایا گیا ہے۔

مندر میں آنے والے یاتری بزرگ کی تصویر کے ساتھ دیے کی بھی پوجا کرتے ہیں۔

راما پیر کے سالانہ میلے میں شرکت کرنے کے لیے عقیدت مند سیکڑوں میل کا سفر ننگے پاؤں پیدل طے کرتے ہیں۔

اس سفر کے دوران وہ بانس کے ساتھ بندھا ایک مخصوص رنگ کا جھنڈا بھی ساتھ لاتے ہیں، جسے ’دھجا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو مندر میں لگایا دیا جاتا ہے۔ ایسے ہی ہزاروں جھنڈے مندر کی چھت پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا