بھٹائی کا کلام تین زبانوں میں دنیا تک پہنچانے والے بہن بھائی

جامشورو کی رہائشی 14 سالہ راحت اور ان کے 13 سالہ بھائی انتخاب نے مشہور صوفی بزرگ شاہ عبدالطیف بھٹائی کے اشعار کو نہ صرف سندھی بلکہ انگریزی اور اردو زبان میں بھی حفظ کر رکھا ہے اور وہ اس کلام کو تینوں زبانوں میں گاتے ہیں۔

راحت اور انتخاب سندھ کے دو ایسے بہن بھائی ہیں، جنہوں نے نہایت کم عمری میں سندھ کے مشہور صوفی بزرگ و شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کی کتاب ’شاہ جو رسالو‘ کو نہ صرف سندھی بلکہ انگریزی اور اردو زبان میں بھی حفظ کر رکھا ہے اور وہ اس کلام کو تینوں زبانوں میں گاتے ہیں۔

یہ دونوں بہن بھائی جامشورو میں سندھ یونیورسٹی کالونی کے رہائشی ہیں۔ راحت آٹھ سال اور انتخاب سات سال کے تھے جب ان کے والد نے انہیں شاہ جو رسالو پڑھنا اور یاد کروانا شروع کیا۔ اپنے فن کی مہارت سے دونوں بہن بھائیوں نے کم عمری میں ہی بہت سارے ایوارڈ حاصل کیے، جن میں سر فہرست لطیف اور شہباز ایوارڈ ہیں۔

راحت کی عمر اس وقت 14 برس جبکہ انتخاب کی عمر 13 برس ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان دونوں بہن بھائیوں نے اپنے بارے میں بتایا۔

بقول راحت: ’جب ہم چھوٹے تھے تو ہمارے والد کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے اشعار بھت پسند تھے اور وہ شاعری پڑھتے بھی تھے، تو ابو کو خیال آیا کہ کیوں نہ میں اپنے بچوں کو بھی شاہ عبدالطیف بھٹائی کی لکھی ہوی شاعری پڑھاؤں اور شاہ جو رسالہ یاد بھی کراؤں۔ جس کے بعد ہمارے والد نے ہمیں اس جانب مائل کیا۔ ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے، ہمیں بھی شوق ہوا کہ ہم بھی شاہ عبدالطیف بھٹائی کے شعر پڑھیں۔

اس موقع پر انتخاب نے بتایا: ’سب سے پہلے ہم نے سندھی زبان میں شاہ جو رسالو پڑھنا اور حفظ کرنا شروع کیا۔ پھر ایک دن ابو نے کہا کہ کیوں نہ ہم شاہ عبدالطیف بھٹائی کا پیغام اور شاعری دنیا بھر میں مشہور کریں، جس کے بعد والد صاحب نے ہمیں اردو اور انگریزی زبان میں شاہ جو رسالو پڑھانا شروع کیا۔‘

راحت نے بتایا کہ ’ہم روازنہ کی بنیاد پر ایک شعر معنی اور تشریح کے ساتھ یاد کرتے تھے، تو ہمیں کافی مشکل لگتا تھا کیونکہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی خالص سندھی زبان میں لکھی ہوئی شاعری بہت مشکل ہے، اس کو پڑھنا آسان نہیں ہے، لیکن پھر بھی ایک ایک شعر کو دوہراتے تھے تو آہستہ آہستہ ہماری زبان بھی رواں ہوگئی اور اب ہم باآسانی شاہ جو رسالو پڑھ اور گا بھی لیتے ہیں۔

انتخاب کہتے ہیں: ’جب ہم سکول کی کسی تقریب میں شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری پڑھتے تھے تو اساتذہ اور دیگر طالب علم داد دیتے تھے۔ ہم جس بھی تقریب میں جاتے ہیں تو ہمیں بہت عزت سے نوازا جاتا ہے، عزت ملنے کی وجہ ایک ہی کہ ہم لوگوں کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری سناتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں اس معاشرے میں عزت ملی ہوئی ہے۔ بچپن سے لے کر آج تک ہمیں جو بھی کامیابی ملی ہے، وہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی وجہ سے ملی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح راحت نے بتایا کہ ’ہمارے خاندان والے اور میری سہیلیاں مجھ پر فخر کرتی ہیں کہ ہماری دوست اتنی مشہور ہے۔ وہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔‘

یہ دونوں بہن بھائی فنون لطیفہ کے شعبے میں مزید کام اور پی ایچ ڈی کرنا چاہتے ہیں۔

راحت نے بتایا: ’الحمداللہ ہم سندھ کے وہ واحد بچے ہیں جنہوں نے اتنی کم عمری میں شاہ عبدالطیف کا لطیف ایوارڈ حاصل کیا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 2019 میں لعل شہبار قلندر کے عرس پر شہباز ایوارڈ بھی حاصل کیا ہوا ہے اور دیگر جو عام تقریبات ہوتی ہیں، ہمیں وہاں بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ فنون لطیف کے شعبے میں مزید زیادہ کام کروں کیونکہ فنون لطیف کا شعبہ بہت وسیع ہے۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی پر زیادہ ریسرچ کرنا میری خواہش ہے اور اس کے ساتھ ساتھ موسیقی کے شعبے میں کام کرنے کی بھی مزید خواہش ہے۔‘

انہوں نے  مزید بتایا: ’ہمارے سکول میں جب کوئی نئی ٹیچر آتی ہیں اور انہیں پتہ چلتا ہے کہ یہ بچے شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری پڑھتے اور گاتے ہیں تو وہ ہمیں بلا کر کہتی ہیں کہ آپ ان بچونںکے سامنے ہمیں شاہ عبدالطیف بھٹائی کے اشعار سنائیں۔ ہمارے پہلے استاد ہمارے والد صاحب ہیں اور ہمارے دوسرے استاد چاچا طفیل رحمان بھلائی ہیں۔ وہ ہمیں موسیقی سکھاتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس سال شاہ عبدالطیف بھٹائی کے عرس کی سرکاری تقریبات میں انہیں مدعو نہیں کیا گیا۔ ’اگر ہمیں مدعو کیا جاتا تو ہم شاہ عبدالطیف بھٹائی کے اشعار پیش کرتے، لطیف سائیں کا پیغام پہنچاتے تو ہمیں بھی بہت خوشی ہوتی۔‘

راحت نے مزید بتایا کہ انہیں جب بھی چھٹیوں میں وقت ملتا ہے تو وہ فن پارے بناتے ہیں۔ ’ہماری وابستگی آرٹ سے ہے، تو فارغ وقت میں ہم اپنے ہاتھ سے مختلف پیٹنگز بناتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا