روس سے جنگ کا خطرہ سب سے زیادہ ہے: برطانوی فوجی سربراہ

جنرل نک کارٹر نے کہا ہے کہ سرد جنگ کے بعد سے کسی بھی وقت کے مقابلے میں روس کے ساتھ حادثاتی طور پر تصادم کا خطرہ اس وقت سب سے زیادہ ہے۔

10 ڈاؤننگ سٹریٹ کی طرف سے جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل نک کارٹر 22 اپریل 2020 کو وسطی لندن میں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس کر رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی10/ ڈاؤننگ سٹریٹ/ اینڈریو پارسنز)

برطانوی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل نک کارٹر نے کہا ہے کہ وہ بیلاروس اور پولینڈ کے درمیان سرحد کی صورت حال کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ سرد جنگ کے بعد سے کسی بھی وقت کے مقابلے میں روس کے ساتھ حادثاتی طور پر تصادم کا خطرہ اس وقت زیادہ ہے۔

جنرل نک کارٹر، جو اس مہینے کے آخر میں سبکدوش ہو رہے ہیں، نے کہا کہ منسک کی طرف سے تارکین وطن کو ’یورپی یونین کی سرحدوں پر‘ دھکیل کر خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ’روسی پلے بک‘ سے ماخوذ لگتی ہے جبکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران یورپی یونین نے الزام عائد کیا کہ بیلاروس نے پولینڈ کے ساتھ اپنی سرحد پر انسانی بحران پیدا کرنے کے لیے تارکین وطن کو ملک میں آنے کی اجازت دے دی تھی۔

مہاجرین کی ایک بڑی تعداد، جن میں سے بیشتر مشرق وسطیٰ سے ہیں، بیلاروسی سرحد کی جانب ایک عارضی کیمپ میں موجود ہیں، جبکہ پولش حکام روزانہ تارکین وطن کی طرف سے آگے بڑھنے کی نئی کوششوں کی اطلاع دیتے ہیں۔

بیلاروس کی وزارت دفاع نے سرحد پر پولینڈ کی جانب سے ’غیر معمعولی‘ تعداد میں فوجی تعینات کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ پناہ گزینوں کی نقل و حرکت پر قابو پانے کے لیے ٹینکوں، فضائی دفاعی اثاثوں اور دیگر ہتھیاروں سے لیس 15,000 فوجیوں کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے۔

بی بی سی کے اینڈریو مارشو میں جب نک کارٹر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ صورت حال تیزی سے ’واقعی کسی سنگین چیز‘ میں بدل سکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ’ہاں، مجھے لگتا ہے. میرے خیال میں یہ ہائبرڈ پلے بک کی طرح کا ایک کلاسیک کیس ہے جہاں آپ غلط معلومات سے عدم استحکام تک چلے جاتے ہیں اور تارکین وطن کو یورپی یونین کی سرحدوں پر دھکیلنے کا خیال اس طرح کی ایک روایتی مثال ہے۔‘

برطانوی وزارت دفاع نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ وہ مسلح افواج کے اہلکاروں کی ایک چھوٹی ٹیم پولینڈ بھیجیں گے تاکہ ’انجینئرنگ سپورٹ‘ فراہم کی جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نک کارٹر نے زور دیا کہ جن لوگوں کو بھیجا جا رہا ہے وہ افواج سے لڑنے کی بجائے سرحد پر باڑ بنانے میں مدد کے لیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا: ’اس سے پولینڈ کے ساتھ ہمارا اتحاد واضح ہوگا اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اس قسم کے خطرات کے خلاف پولینڈ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

یورپی یونین نے بیلاروس کے آمرانہ صدر الیگزینڈر لوکاشینکو پر الزام لگایا ہے کہ وہ 2020 کے متنازع انتخابات کے بعد اندرون ملک مظاہرے روکنے پر بلاک کی جانب سے پابندیوں کے جواب میں غیر قانونی سرحدی نقل مکانی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

بیلاروس ان الزامات کی تردید کرتا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ اب پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش کرنے سے نہیں روکے گا، ان اقدام سےشام، لیبیا اور دیگر جگہوں سے آنے والے تارکین وطن کی سرحد پار کرنے کی امیدوں کو جگا دیا ہے۔

مسلح افواج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ نے کہا کہ وہ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آیا یہ صورت حال ’شوٹنگ وار‘ میں بدل جائے گی لیکن اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ اور نیٹو کو ’ہماری حفاظت پر مامور رہنا ہوگا۔‘

نک کارٹر نے یوکرین کے ارد گرد پریشانی اور بیلاروس کے تناؤ کو ’ذرا سے خلفشار کی کلاسیک مثال‘ کے طور پر بیان کیا۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا: ’اگر آپ برسوں سے روسی پلے بک کو دیکھیں تو ماسکیروؤکا کا آئیڈیا، جیسا کہ وہ اسے کہتے ہیں- یہ کچھ مخصوص چیزیں ہیں جو سال ہا سال سے چل رہی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے، سفارت کاروں کو اب زیادہ پیچیدہ کثیر قطبی دنیا کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’روایتی سفارتی آلات اور طریقہ کار‘ اب دستیاب نہیں ہیں۔

نک کارٹر کے مطابق: ’ان آلات اور طریقہ کار کے بغیر اس بات کا زیادہ خطرہ ہے کہ تنازعات میں یہ اضافہ کسی غلط فہمی کا باعث بن سکتا ہے، لہذا میں سمجھتا ہوں کہ یہی اصل چیلنج ہے، جس کا ہمیں سامنا کرنا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا