آڈیو لیک جعلی ہے، ابھی سائبر کرائم جانے کا نہیں سوچا: ثاقب نثار

سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ابھی ذہن نہیں بنایا۔ بلکہ ابھی تو دیکھ رہا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔ ٹی وی پہ بھی دیکھ رہا ہوں۔ فون ہی اتنے آ رہے ہیں تو انشااللہ دیکھیں گے جو بھی کرنا ہوا۔‘

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ’یہ آڈیو کلپ جعلی ہے۔‘(فائل تصویر: روئٹرز)

پاکستان میں سوشل میڈیا پر اتوار کی شب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ایک مبینہ آڈیو لیک سامنے آئی جس میں وہ  کہتے سنائی دیے کہ ’ہمارے یہاں ادارے فیصلے کرتے ہیں۔‘ اس کے حوالے سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ آڈیو کلپ جعلی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے بھی ویڈیو دیکھی ہے۔ مجھے کئی لوگوں نے بھیجی ہے، دوستوں کا فون بھی آیا ہے۔ میرا موقف بالکل واضح ہے۔ یہ آڈیو جعلی ہے میری کبھی کسی سے اس طرح بات نہیں ہوئی۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے یہ سوال پوچھا کہ ’ایسے موقعے پر جب ایک جانب بیان حلفی سامنے آتا ہے اور اب یہ آڈیو تو کیا کہیں گے اس پہ؟‘

سابق چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ’یہ تو قیاس آرائیاں ہی ہیں، میں اب اس پر کیا کمنٹ کروں، یہ میڈیا کے لیے ہے کہ وہ اس کو دیکھیں۔‘

جب ثاقب نثار سے سوال پوچھا گیا کہ ’اگر یہ جعلی ہے تو کیا وہ اس حوالے سے ایف آئی اے سائبر کرائم میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟‘ تو انہوں نے جواب دیا: ’ابھی ذہن نہیں بنایا۔ بلکہ ابھی تو دیکھ رہا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔ ٹی وی پہ بھی دیکھ رہا ہوں۔ فون ہی اتنے آ رہے ہیں تو انشااللہ دیکھیں گے جو بھی کرنا ہوا۔‘

گلگت بلتستان کے سابق جج رانا شمیم کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف بیان حلفی کے چند روز بعد ہی اتوار کی شب سوشل میڈیا پر سابق چیف جسٹس کی مبینہ آڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں بظاہر ثاقب نثار کسی شخص سے فون پر کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں: ’نواز شریف اور ان کی صاحب زادی کو سزا دینی ہے کیونکہ ان کو ہدایات ہیں کہ خان صاحب کو لانا ہے۔‘

مبینہ آڈیو میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کو سزا دینے کا کہا گیا ہے اب بنتا نہیں، لیکن کرنا پڑے گا۔ دوسرے شخص کی آواز آتی ہے کہ بیٹی کو سزا دینا نہیں بنتا۔ اس کے جواب میں بظاہر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آواز آتی ہے کہ ’آپ بالکل جائز ہیں میں نے اپنے دوستوں سے یہی کہا ہے کہ اس پہ کچھ کیا جائے، لیکن انہوں نے اتفاق نہیں کیا۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’اس طرح تو عدلیہ کی آزادی بھی نہیں رہے گی لیکن چلیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رانا شمیم کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف  بیان حلفی کے معاملے پر کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت بھی ہے۔ ہائی کورٹ نے اس پر نوٹس لے رکھا ہے جبکہ 26 نومبر کو آئندہ سماعت میں سابق جج رانا شمیم کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم بھی دے رکھا ہے۔

اس آڈیو کے آنے کے بعد سابق چیف جسٹس کے خلاف ٹوئٹر پر پاکستان میں مخالف ٹرینڈ بھی چلنا شروع ہوا ہے۔ اس سے قبل آٹھ اور نو نومبر کو بھی عدلیہ مخالف ٹرینڈ چلائے گئے تھے۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے سربراہ، مسلم لیگ ن کے رہنما اور نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے اس آڈیو کے بارے میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز ایک منصوبے کے تحت سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے گذشتہ ہفتے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اگر گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے الزامات کے بعد ازخود نوٹس کی سماعت پر انہیں عدالت بلایا گیا تو وہ ضرور جائیں گے۔

 ثاقب نثار نے کہا کہ ’پاکستان کی عدالت ہے مجھے یہ زعم نہیں کہ میں بہت بڑا ہوں اگر قانونی حکم نامہ آیا تو بسم اللہ ضرور جاؤں گا۔‘

انہوں نے کہا: ’اس معاملے کو چار سال ہو چکے ہیں، علم نہیں کس سازش کے تحت یہ الزام لگایا گیا ہے۔‘

ثاقب نثار نے کہا: ’میں کیوں کسی بھی کیس کے حوالے سے خصوصاً ہائی پروفائل کیس کے بارے میں عدالت سے باہر کسی کو ہدایات دوں گا؟‘

تحریک انصاف حکومت کے ترجمان اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ایک ٹویٹ میں امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ ان بظاہر جعلی آڈیو ویڈیوز کا کچھ کیا جائے گا۔

جسٹس میاں ثاقب نثار کون ہیں؟

جسٹس میاں ثاقب نثار ملک کے 25ویں چیف جسٹس تھے۔ صدر ممنون حسین نے 31 دسمبر 2016 کو اسلام آباد میں ایک تقریب میں ان سے حلف لیا۔ تقریب میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف، کابینہ کے ارکان، سپریم کورٹ کے ججوں اور مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی تھی۔

جسٹس میاں ثاقب نثار پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی ڈگری رکھتے ہیں۔ وہ 1982 میں ہائی کورٹ کے وکیل بنے جس کے بعد انہیں 1994 میں سپریم کورٹ میں وکالت کرنے کا لائسنس ملا۔

انہیں 1998 میں میاں نواز شریف کے دور میں ہی لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیاگیا۔ جسٹس میاں ثاقب نثار، وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں سیکریٹری قانون بھی رہے۔

پیپلز پارٹی کی گذشتہ حکومت انہیں لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنا چاہتی تھی تاہم اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے رات کو عدالت لگا کر حکم جاری کیا کہ چیف جسٹس کی مشاورت کے بغیر کوئی اقدام نہ اٹھایا جائے۔

اس کے بعد جسٹس میاں ثاقب نثار کو فروری 2010 میں سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔ وہ دو سال سے زائد عرصے تک پاکستان کے چیف جسٹس رہے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار ان ججوں میں شامل ہیں جنہوں نے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی جانب سے 2007 میں لگائی گئی ہنگامی حالت کے بعد عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست