وزارت آئی ٹی کی رفتار کو منصوبہ بندی کے تحت کم کیا جاتا ہے: وفاقی وزیر

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت وزارت کی رفتار کو کم کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ اتحادی جماعت کے پاس ہے۔‘

2022 میں ہونے والے عام انتخابات میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی الیکٹرانک ووٹنگ میں صرف پس منظر میں ٹیکنیکل سہولت فراہم کرے گی(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق کا کہنا ہے کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی رفتار کو منصوبہ بندی کے تحت سست کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ اتحادی جماعت کے پاس ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو میں وقافی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام امین الحق نے آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور اس کا بل، اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹنگ کے نظام اور آنے والے انتخابات کے معاملے میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رویے پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آئندہ عام انتخابات میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام کو وفاقی حکومت نے کوئی مرکزی کردار نہیں دیا۔‘

 

ان کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی انٹرنیٹ ووٹنگ کا تمام ہوم ورک امین الحق کی وزات سے کروانے کے بعد اس ذمہ داری کو بھی نادرہ اور الیکشن کمیشن کے سپرد کردیا گیا ہے جبکہ آئی ٹی کی وزارت اس کے پیچھے رہے گی۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما امین الحق نے کہا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اکثر پہلے سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت وزارت انفارمیشن ٹیکںالوجی کی پرفارمنس اور رفتار کو کم کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ وزارت ایک اتحادی جماعت کے پاس ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کیوں کہ حکومت کی اتحادی جماعت (متحدہ قومی موومنٹ) کے ہاتھ میں ہے اس لیے اس کی رفتار کو ازخود یعنی پری پلان طریقے سے دھیما کردیا جاتا ہے۔‘

امین الحق نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کو اگلے انتخابات میں استعمال کرنے سے قبل اس کے پائلٹ پراجیکٹ کی اہمیت پر زور ڈالتے ہوئے کہا کہ ’کسی بھی نظام کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کا پائلٹ پراجیکٹ بہت اہم ہے۔ کابینہ میں کئی مرتبہ اس بر بحث بھی کی گئی ہے۔ حال ہی میں پاکستان انجینیئرنگ کاؤنسل، سپریم کورٹ بار اور کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشنز ہوئے تھے تو ہماری خواہش تھی کہ پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر الیکٹرانک ووٹنگ کے نظام کو ان انتخابات میں استعمال کیا جاتا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امین الحق کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو تحفظات تھے کہ ’ہوسکتا ہے کہ میرے حلقے میں 600 ای وی ایم جا رہی ہیں اور اس میں سے 20 پر کوئی تبدیلی آجاتی ہے۔ اس کے سافٹ ویئر میں کوئی تبدیلی آجائے گی تو تمام کا تمام نتیجہ بے مقصد ہوجاتا ہے۔ تو اس پر ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ سکیورٹی ادارے جیسے کہ رینجزر، پولیس وغیرہ بھی موجود ہوں گے اور تمام معاملات کو الیکشن کمیشن آف پاکستان دیکھے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ آنے والے دنوں میں لاہور کے این اے 133 کے بائے الیکشن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کو استعمال کیا جائے۔ اگر اس پائلٹ پراجیکٹ میں کوئی خامیاں نظر آتی ہیں تو انہیں دور کیا جاسکے۔‘

2022 میں ہونے والے عام انتخابات میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی الیکٹرانک ووٹنگ میں صرف پس منظر میں ٹیکنیکل سہولت فراہم کرے گی جب کہ اس کا اصل کردار اوورسیز پاکستانیوں کی انٹرنیٹ ووٹنگ میں ہوسکتا تھا مگر اب اس کی ذمہ داری بھی آئی ٹی کی وزارت سے لے کر نادرا کے پاس چلی گئی ہے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اوورسیز پاکستانیوں کی انٹرنیٹ ووٹنگ کی ذمہ داری دی گئی تھی جس کی تمام تیاری ہم نے مکمل کی۔ صدر پاکستان عارف علوی نے اس حوالے سے ایک ٹاسک فورس بنائی جس پر ہم نے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ بٹھایا۔ نادرا، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام نے 2013 سے 2018 تک کے تمام کیسز کا تجزیہ کیا اور پھر یہ فیصلہ ہوا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اسے فرنٹ سے لیڈ کرے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس سلسلے میں ہماری وزارت نے ایک خط الیکشن کمیشن آف پاکستان کو لکھا اور ان سے درخواست کی کہ آگر معاملات کو آگے بڑھانا ہے تو آپ کی طرف سے ہمیں ایک اتھارٹی لیٹر ملنا چاہیے۔ یہ واحد عمل ہے جس پر الیکشن کمیشن نے ہمیں ایک لیٹر لکھ کر دیا۔ جس کے بعد ہم نے ایک کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کیں۔ ان کی جانب سے ہمیں یہ بتایا گہ کہ اوورسیز پاکستانیوں کی انٹرنیٹ ووٹنگ کے لیے نادرا کے پاس موجود سسٹم کو ہی بہتر بنا کر ان انتخابات کو کروایا جائے کیوں کہ نیا سسٹم بنانے میں تین سال لگ جائیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست