بلوچستان میں حملے، تین سکیورٹی اہلکار جان سے گئے

ضلع سبی کی تحصیل بابر کچھ کے لیویز کے رسالدار محمد افضل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بابر کچھ کے علاقے جھالڑی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار کا جانی نقصان ہوا ہے جب کہ دیگر دو زخمی ہوگئے ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق دھماکہ خیز مواد سیمنٹ کی بوری میں رکھا گیا تھا(تصویر: ایدھی فاؤنڈیشن)

صوبہ بلوچستان کے ضلع سبی اور کیچ میں بدھ کو ہونے والے بم دھماکوں اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں تین سکیورٹی اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ دو مزدور اور دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ضلع سبی کی تحصیل بابر کچھ کے لیویز کے رسالدار محمد افضل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بابر کچھ کے علاقے جھالڑی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار کا جانی نقصان ہوا ہے جب کہ دیگر دو زخمی ہوگئے ہیں۔

محمد افضل کے مطابق اہلکار علاقے میں معمول کے مطابق پیدل گشت کررہے تھے کہ ایک اہلکار کا پیر بارودی سرنگ پر پڑ گیا۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے علاقے میں پہنچ کر زخمیوں کو منتقل کرنا شروع کردیا تھا جب کہ مزید بارودی سرنگوں کی تلاش کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب سبی ہی کے علاقے کوٹ باروزئی میں کام کرنے والے دو مزدور اس وقت زخمی ہوگئے جب وہ سیمنٹ کی ایک بوری اٹھا رہے تھے کہ دھماکہ ہوگیا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق دھماکہ خیز مواد سیمنٹ کی بوری میں رکھا گیا تھا۔ ایک زخمی کی حالت نازک بتائی جارہی ہے جنہیں سی ایم ایچ سبی منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمی ہونے والے مزدورں کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔

آج ہی کے دن بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں فورسز پر فائرنگ کے واقعہ میں دو اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق ’ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں دہشت گردوں نے ایک چیک پوسٹ پر فائرنگ کی تھی جس کا سکیورٹی فورسز نے بھرپور جواب دیا تھا لیکن انہیں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران دو اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں خاران سے تعلق رکھنے والے سپاہی نصیب اللہ اور لکی مروت سے تعلق رکھنے والے سپاہی انشا اللہ شامل ہیں۔

بلوچستان کا ضلع کیچ شورش سے متاثر ہے جہاں مسلح گروہ سرگرم عمل ہیں جو سرحدی علاقوں اور شہروں میں تعینات فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

بلوچستان میں فورسز کے علاوہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدور بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

رواں سال جنوری میں بلوچستان علاقے مچھ گیشتری میں دہشت گرد حملے میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 10 کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔

ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں گذشتہ دنوں فائرنگ کے واقعے میں تین کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان