مفتی منیب الرحمٰن: مسجد کے فرش سے عید کے چاند تک

رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بچہ بچہ مفتی محمد منیب الرحمٰن کے نام سے واقف ہے۔ لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لیے انہیں جتنی لگن، محنت اور جدوجہد کرنا پڑی ہے، اس سے اکا دکا لوگ ہی باخبر ہوں گے۔

مفتی منیب الرحمٰن نے گاؤں کی مسجد میں ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی (تصویر بشکریہ ریڈیو پاکستان)

رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بچہ بچہ مفتی محمد منیب الرحمٰن کے نام سے واقف ہے۔ لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لیے انہیں جتنی لگن، محنت اور جدوجہد کرنا پڑی ہے، اس سے اکا دکا لوگ ہی باخبر ہوں گے۔

مفتی منیب اور ان کے بھائی جمیل الرحمٰن کی کہانی اتنی دلچسپ اور عجیب ہے کہ اس پر گھڑی ہوئی کہانی کا گمان گزرتا ہے۔ ایسی ’سیلف میڈ‘ شخصیات کا ذکر فلموں اور ناولوں میں تو ملتا ہے، لیکن حقیقی زندگی میں ایسے کرداروں سے کم ہی واسطہ پڑتا ہے۔   

مفتی منیب کا تعلق ویسے تو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقہ تناول کے گاؤں ڈنڈا خولیاں سے ہے، لیکن یہ بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے اس لیے اپنے بڑے بھائی  جمیل الرحمٰن کے ساتھ وہاں سے پندرہ کلومیٹر دور  واقع گاؤں باگڑیاں کی مسجد میں آ بسے اور وہاں کے مولوی یوسف سے درس لینے لگے۔

دونوں بھائی رات مسجد میں گزارتے تھے اور دن کو سرکاری سکول میں پڑھتے تھے۔ چونکہ مسجد میں کھانے پکانے کا انتظام نہیں تھا اس لیے گاؤں کے لوگ ان کی مدد کرتے تھے اور انہیں دو وقت کا کھانا فراہم کر دیتے تھے۔ یہ 1950 کی دہائی کی بات ہے۔ گاؤں چھوٹا اور پسماندہ تھا، اور لوگوں کی اکثریت غریب، اس لیے ان کے حصے میں بچا کھچا کھانا ہی آتا تھا۔ یہ رنگارنگ کھانا کھا کر اور مسجد کے کوزے سے پانی پی کر یہ بھائی مسجد کے فرش پر سو رہتے تھے۔

سابق سکول ٹیچر سید محبوب حسین ان کے ہم جماعت تھے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا:’ دونوں بھائی ذہین ہونے کے ساتھ بےحد  محنتی  بھی تھے۔ سکول کا سبق نہایت توجہ سے یاد کرتے۔ ہم صبح سات کلومیٹر پیدل چل کر ہائی سکول جاتے تھے۔ دونوں بھائیوں کے پاس جوتے نہیں تھے اس لیے چاہے یخ بستہ جاڑے ہوں یا چلچلاتی گرمیاں، وہ یہ تمام سفر ننگے پاؤں طے کرتے تھے۔ اکثر انہیں صبح کھانے کے لیے کچھ نہیں ملتا تھا، اس لیے یہ راستے میں جنگل پھلوں اور بیروں وغیرہ سے بھوک مٹاتے چلتے جاتے تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مفتی منیب نے دینی تعلیم جاری رکھی اور ملک کے اعلیٰ عہدے تک پہنچے۔ وہ رویتِ ہلال کمیٹی کے سربراہ کے علاوہ  وہ تنظیم المدارس کے صدر بھی ہیں اور  اپنے ہی قائم کردہ دارالعلوم نعیمیہ کے چیئرمین بھی۔ ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کے بھائی نے بھی بہت ترقی کی اور ایف ایس سی کرنے کے بعد انجینیئرنگ میں داخلہ لیا اور  واپڈا میں ایگزیکٹیو انجینیئر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

مفتی منیب کے ایک اور ہم جماعت اقبال حسین نے بتایا کہ دونوں بھائیوں کی غربت کا یہ عالم تھا کہ ان کے پاس تختیاں تو تھیں، لیکن تختی پر لکھنے والی سیاہی خریدنے کے لیے دو چار پیسے تک نہیں ہوتے تھے۔ لیکن دونوں کا ذہن تیز چلتا تھا اس لیے انہوں نے یہ تخلیقی طریقہ نکالا کہ پہلے تو تختی کو کالک سے مل مل کر بالکل سیاہ کر لیتے تھے اور پھر مٹی کے ڈھیلے کو بطور قلم استعمال کرتے ہوئے اس کی مدد سے تختی پر لکھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ غیر روایتی مگر مشکل طریقہ استعمال کرنے کے باوجود، یا شاید اسی کی وجہ سے، مفتی منیب کی لکھائی بہت خوبصورت ہوا کرتی تھی اور ان کا لکھا ایک ایک حرف خوب واضح ہوتا تھا۔

مفتی صاحب اس وقت تو اپنے دھیمے لہجے اور ٹھہر ٹھہر کر بولنے کے انداز کے لیے مشہور ہیں اور بعض اوقات ٹیلی ویژن پر بعض نقال ان کے لہجے میں بول کر جھولی بھر قہقہے بٹورتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ اکثر ذہین بچوں کے ساتھ دیکھا گیا ہے، یہ بچپن میں خاصے شریر واقع ہوئے تھے۔

وہ گاؤں جہاں مفتی منیب کا بچپن گزارا۔ گاؤں کے وسط میں نیلی چھت والی بڑی عمارت وہ مسجد ہے جہاں مفتی صاحب کئی سال مقیم رہے۔ اب مسجد نئے سرے سے تعمیر کی گئی ہے


باگڑیاں گاؤں میں ان کے بچپن کے ایک اور ساتھی مصطفیٰ شاہ نے انڈپینڈنٹ کو  بتایا کہ’ ایک بار ہم دونوں سات کلومیٹر سے دور سے گاؤں واپس آ رہے تھے۔ گرمیوں کے دن تھے۔ ہم جنگلی بیروں سے دو دو ہاتھ کرتے، ہنستے کھیلتے، گیت گاتے چلے آ رہے تھے۔ راستے میں ایک ندی پڑتی تھی جہاں چند لڑکے نہا رہے تھے۔ مفتی صاحب کو، جن کی عمر اس وقت بارہ، تیرہ برس ہو گی، شرارت سوجھی اور انہوں نے اوپر سے لڑکوں پر پتھر برسانے شروع کر دیے۔  یہ دوسرے گاؤں  کے لڑکے تھے جن کے ساتھ کسی وجہ سے ہمارا پہلے ہی سے بیر چلا آ رہا تھا۔ وہ اس اچانک افتاد سے حواس باختہ ہو کر مینڈکوں کی طرح پھدک پھدک کر ننگ دھڑنگ ہی پانی سے نکلے اور ادھر ادھر چٹانوں کی آڑ میں پناہ لینے کے لیے بھاگ کھڑے ہوئے۔

’مفتی صاحب ان کی حالت سے خوب محظوظ ہوئے اور ان کا ٹھٹھا اڑا کر  اپنے راستے پر چل دیے۔ تھوڑی دیر بعد دیکھاتو وہ لڑکے کپڑے پہن کر ہمارے پیچھے پیچھے بھاگے چلے آ رہے ہیں۔ ہم دونوں سر پر پاؤں رکھ کر دوڑے۔ اب مسئلہ یہ ہوا کہ مفتی صاحب تو خوب ہلکے پھلکے اور پھرتیلے تھے، جھٹ لپک کر  سامنے بلند ٹیلے پر چڑھ  کر ان لڑکوں کے چنگل سے نکل گئے۔ میں پکڑا گیا۔  ان کے ساتھ  ہماری ویسے ہی پرخاش چلی آ رہی تھی، انہوں نے میری خوب دھلائی کی اور گن گن کر اگلے پچھلے سارے بدلے پورے کر لیے۔ میں بہتیرا فریادیں کرتا رہا کہ میں نے نہیں، وہ جو ٹیلے پر کھڑا قہقہے لگا رہا ہے، اس نے پتھر  پھینکے تھے، لیکن وہ کہاں سننے والے تھے۔

’آخر پٹ پٹا کر میں دھیرے دھیرے چڑھائی چڑھ کر مفتی صاحب کے پاس پہنچا، جو وہاں درخت کی چھاؤں میں بیٹھے میرا انتظار کر رہے تھے۔ کچھ منٹ تو مجھے سانسیں بحال کرنے میں لگ گئے۔ اس کے بعد میں  نے اپنا بستہ ایک طرف رکھا اور مفتی صاحب پر پِل پڑا اور اپنی مار کا سارا بدلہ ان سے  بمع سود وصول کر لیا۔‘

دونوں بھائی میٹرک کرنےکے بعد باگڑیاں گاؤں سے چلے گئے، لیکن اس گاؤں اور اس کے لوگوں کو کبھی نہیں بھولے اور  آج بھی ان کا ذکر بڑی محبت سے سے کرتے ہیں اور اگر اس گاؤں کا کوئی فرد مل جائے تو اس سے نہایت عزت و احترام سے ملتے ہیں۔

آج شام کو چاند نظر آتا ہے یا نہیں، لیکن مفتی محمد منیب الرحمٰن کراچی میں رویتِ ہلال کمیٹی کے دوسرے ارکان کے جمگھٹے میں جب اپنے مخصوص لہجے میں چاند کےنظر آنے یا نہ آنے کا اعلان کریں گے تو پورے ملک کی نظریں ان پر اسی اشتیاق سے جمی ہوں گی جتنی  لگن سے وہ عید کا چاند دیکھتے ہیں، لیکن اس دوران ان میں سے کتنوں کو خبر ہو گی کہ اس مقام پر پہنچنے کے لیے   مفتی صاحب کو کتنے خارزار راستوں پر ننگے پاؤں چل کر آنا پڑا ہے؟

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی