ڈھائی مہینے سی این جی بند: ’چار لاکھ افراد بے روزگار ہوجائیں گے‘

سوئی سدرن گیس کمپنی کا موقف ہے کہ سی این جی سٹیشنز کو ڈھائی مہینے گیس کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ سردیوں میں گھریلو صارفین کو گیس کی ترسیل ممکن بنائی جائے۔

سی این جی سٹیشن کے مالکان نے  ڈھائی ماہ تک سی این جی سٹیشنز کو گیس کی فراہمی بند رکھنے کے فیصلے کو معیشت کی تباہی قرار دیا ہے(فائل تصویر: اے ایف پی)

سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں سی این جی سٹیشنز کو بدھ (یکم دسمبر) سے ڈھائی ماہ تک گیس کی فراہمی معطل رہے گی، جس سے خدشہ ہے کہ صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔

سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے 29 نومبر کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے مطلع کیا تھا کہ حکومت پاکستان کے گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کے تحت سندھ بھر میں یکم دسمبر 2021 کی صبح آٹھ بجے سے 15 فروری 2022 کی شام 10 بجے تک تمام سی این جی سٹیشنز کو گیس کی فراہمی بند رہے گی۔

سی این جی سٹیشنز بند کرنے کی وجہ ہے؟

سوئی سدرن گیس کمپنی کا کہنا ہے کہ ان سٹیشنز کو گیس کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ سردیوں میں گھریلو صارفین کو گیس کی ترسیل ممکن بنائی جائے۔ ابھی سے سردی کے باعث گیس کی طلب میں شدید اضافہ دیکھا جارہا ہے، جس سے طلب و رسد کا فرق کافی بڑھ گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ حکومت کے گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کے مطابق گھریلو اور کمرشل صارفین گیس سیکٹورل لسٹ پر ترجیح میں سب سے اوپر ہیں، تاہم سندھ اور بلوچستان میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی مکمل بنانے کے لیے سی این جی سٹیشنز کو گیس کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

صارفین کا کیا کہنا ہے؟

 بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کریم اور اوبر میں گاڑی چلانے والے ڈرائیور جمیل احمد کراچی میں ایک پرانے ماڈل کی ڈائی ہیٹسو کورے گاڑی سی این جی پر چلاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ڈھائی مہینے کے لیے سی این جی بند کرکے حکومت غریب آدمی کو خودکشی کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’پرانے ماڈل کی گاڑیاں پیٹرول پر مشکل سے چلتی ہیں اس لیے میں سی این جی پر گاڑی چلاتا ہوں۔ سی این جی پر گاڑی بہتر ایوریج دیتی ہے اور 160 سے 170 کلومیٹر تک چلتی ہے، اس میں کچھ نہ کچھ بچت ہوجاتی تھی۔ پیٹرول پر گاڑی چلانا انتہائی مہنگا ہے، یہاں تک کہ گھر کا خرچہ چلانا مشکل ہوجاتا ہے۔ کریم اور اوبر کو بھی ہم اپنی کمائی میں سے 30 فیصد دے دیتے ہیں۔ سی این بند ہونے کا مطلب ہے ہمارا روزگار بند۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ڈھائی ماہ تک سی این جی بند ہونے کی وجہ سے اب دوسرا روزگار ڈھونڈنا پڑے گا۔ حکومت کو احساس نہیں کہ کتنے دیہاڑی دار افراد کا روزگار اور گھر کا خرچہ سی این جی سے چلتا ہے۔ گھر کے چولہے میں گیس تو آجائے گی مگر کھائیں گے کیا جب راشن نہیں ہوگا؟‘

کراچی کے علاقے لیاقت آباد کی رہائشی سلمیٰ شفیق نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سردیوں میں گیس بند ہوجانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر سال یہی ہوتا ہے۔ ابھی تو کراچی میں پوری طرح سے سردیاں آئی ہی نہیں اور چولہے میں گیس آنا کم ہوگئی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’صبح سے رات تک کھانا پکانے کا کا مسئلہ برقرار رہتا ہے۔ گھروالوں کے لیے صبح کی چائے بھی ایک گھنٹے پہلے چولہے پر چڑھانی پڑتی ہے تب جا کر بنتی ہے۔ ایک ہانڈی پکانے میں بھی گھنٹوں لگ جاتے ہیں، میرے بچے بھوکے بیٹھے رہتے ہیں۔‘

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین غیاث پراچہ کے مطابق سندھ میں 686 اور بلوچستان میں 21 سی این جی سٹیشنز ہیں اور ’ڈھائی ماہ تک سی این جی بند ہونے سے تقریباً چار لاکھ افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سی این سٹیشنز کو گیس کی فراہمی بند کرنے کے نقصانات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر 50  ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی سی این جی سٹیشیوں کو بند ہو جائے تو درآمدات میں سالانہ 82 ارب روپے کا فرق آجاتا ہے۔ جب سی این جی کا استعمال کم اور پیٹرول، ڈیزل کا استعمال زیادہ ہوگا تو فضا میں سموگ کے مسائل بھی بڑھیں گے۔ اس کے علاوہ کم کرائے پر چلنے والی سواریاں بھی لوگوں کے لیے میسر نہیں ہوں گی، اس فیصلے کی وجہ سے کرایوں میں بھی کافی اضافہ ہوگا۔‘

کراچی کے علاقے صدر میں گورنر ہاؤس کے قریب واقع مقامی سی این جی سٹیشن لبرا کے پلانٹ آپریٹنگ مینیجر محمد وسیم نے ڈھائی ماہ تک سی این جی سٹیشنز کو گیس کی فراہمی بند رکھنے کے فیصلے کو معیشت کی تباہی قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’سی این جی کی قیمتیں بڑھنے کے باعث ہمارا عملہ 15 افراد سے کم ہو کر سات تک محدود ہوگیا ہے۔ ہمارا کاروبار بھی صرف دس فیصد رہ گیا ہے۔ پہلے ایک ہزار کلو گرام سی این جی بیچتے تھے، اب صرف سو کلو گرام بیچتے ہیں۔ کاروبار ویسے ہی کم تھا اب حکومت نے ڈھائی مہینے تک بند کردیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ: ’سی این جی سٹیشنز کا عملہ سب سے پہلے بے روزگار ہوگا۔ جب پمپ ہی بند ہوگا تو ہم لوگوں کو ان کی تنخواہیں کہاں سے دیں گے؟ ڈھائی ماہ بعد جب سی این جی سٹیشنز کھلیں گے تو ان کی معاشی حالت اتنی خراب ہوگی کہ دوبارہ تمام لوگوں کو نوکری پر رکھ سکیں گے بھی یا نہیں؟‘

حکومتی موقف

حکومت کے ناقدین ہر سال قدرتی گیس کی بحران کو انتظامی مسئلہ قرار دیتے ہیں تاہم وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے ترجمان عمر سعید نے بتایا ہے کہ ’حکومت سپلائی سائیڈ کے پلان کے حوالے سے کام کر رہی ہے اور کوشش کر رہی ہے کہ گیس کی فراہمی میں اضافہ کیا جاسکے۔ گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کے مطابق سی این جی ہماری آخری اور فرٹیلائزر، گھریلو اور کمرشل صارفین ہماری پہلی ترجیح ہیں۔‘

انہوں نےکہا کہ ’گیس کی طلب و رسد کے فرق کو کم کرنے اور سپلائی بڑھانے کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔ مگر ابھی بین الاقوامی مارکیٹ میں درآمدی ایل این جی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ ہم ایل پی جی کی سپلائی بڑھانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ ڈھائی مہینے کے دوران دوسرے سیکٹرز کو گیس کی سپلائی متاثر نہ ہو۔‘

عمر سعید نے کہا کہ ’جہاں تک ٹرانسپورٹ سیکٹر کی بات ہے، پرانی گاڑیاں بھی پیٹرول پر چل سکتی ہیں ایسا نہیں ہے کہ لوگوں کا کاروبار پوری طرح بند ہوگیا ہے۔ پیٹرول اور سی این جی کے ریٹس میں بھی اب زیادہ فرق نہیں رہا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان