قومی بیانیے کی تشکیل کے لیے قائم پیغام امن کمیٹی آج پشاور جائے گی

یہ کمیٹی گذشتہ برس ستمبر میں وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بنائی گئی تھی جس میں قومی امن کمیٹی برائے تشکیل بیانیہ کی ذیلی کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ 04 ستمبر 2025 کو میڈیا سےگفتگو کر رہے ہیں۔ (تصویر اے پی پی)

قومی بیانیے کی تشکیل کے لیے قائم قومی پیغام امن کمیٹی (این پی اے سی) منگل کو پشاور کا دورہ کرے گی تاکہ تمام مکتبہ فکر کے علما سے گفتگو کرکے یہ پیغام گھر گھر پہنچایا جائے کہ اسلام امن کا دین ہے۔

یہ بات اسلام آباد میں کمیٹی کے ایک اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت دہشت گردوں کے بیانیے کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔

یہ کمیٹی گذشتہ برس ستمبر میں وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بنائی گئی تھی جس میں قومی امن کمیٹی برائے تشکیل بیانیہ کی ذیلی کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کر رہے ہیں۔

کمیٹی میں علمائے کرام، مشائخ، اقلیتوں کے نمائندگان اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ حافظ عبدالکریم، مفتی عبدالرحیم، عارف حسین اور پیر نقیب الرحمان کمیٹی کا حصہ ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی کا پشاور کا دورہ نہایت کارآمد ثابت ہوگا جہاں تمام مکاتب فکر کے علما سے مشاورت کی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ پیغام گھر گھر پہنچے کہ دین اسلام امن کا مذہب ہے اور ہم امن کے خواہاں ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوال اٹھایا کہ یہ کون سا اسلام ہے کہ انڈیا سے فنڈنگ لے کر یہاں دھماکے کرو؟ یہ سارا کام پیسے سے چل رہا ہے، افغان حکومت ہر دوسرے روز انڈیا جاکر مذاکرات کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز ’فتنہ خوارج اور فتنہ الہندوستان کے عزائم‘ سامنے آتے جا رہے ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ اس کمیٹی میں اقلیتی اراکین بھی شامل ہیں، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیغام امن کمیٹی بااختیار کمیٹی ہے جو دہشت گردی کے بیانیے کا بھرپور مقابلہ کرے گی اور دہشت گردوں کو اپنا نظریہ پھیلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہوں نے تاہم نہیں بتایا کہ پشاور میں ان کی کن کن سے ملاقاتیں طے ہیں۔

عطا تارڑ نے تاہم بتایا کہ قومی پیغام امن کمیٹی سیکریٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔

مولانا طاہر محمود کو کمیٹی کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے جب کہ مولانا طیب پنج پیری اور علامہ ضیا اللہ شاہ بخاری بھی ارکان میں شامل ہیں۔

اقلیتوں کی نمائندگی کے لیے بشپ آزاد مارشل، راجیش کمار ہرداسانی اور سردار رمیش سنگھ اروڑہ کمیٹی میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی و علاقائی پیغام امن کمیٹیوں کے کوآرڈینیٹرز، منظور شدہ مدارس بورڈز کے نمائندگان، وزارت داخلہ اور وزارت مذہبی امور کے ایڈیشنل سیکریٹریز کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیمات (ڈی جی آر ای) بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈائریکٹر جنرل انٹرنل پبلسٹی ونگ کمیٹی کے سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔ 

وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان شاء اللہ امن کے پیغام کو پورے ملک میں عام کیا جائے گا۔ ’ریاست پاکستان ہر شہری کو تحفظ کا احساس دلائے گی اور کسی بھی شرپسند یا دہشت گرد کو اپنا گمراہ کن بیانیہ پروان چڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی میں معاشرے کے ہر طبقے کو شمولیت کی دعوت دی جائے گی اور یہ کمیٹی اسلام کی اصل روح کے مطابق پورے پاکستان میں امن، رواداری اور ہم آہنگی کا پیغام لے کر جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست