شدت پسندی کے ارتقائی مراحل اور خوف کے بدلتے طریقے

لاہور میں ایک وٹس ایپ گروپ، مالی میں ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو یا پیرس میں ایک تنہا حملہ آور، اتنی ہی تباہی پھیلا سکتا ہے جتنی پہلے بغداد میں ایک بم دھماکہ کیا کرتا تھا۔ خطرہ ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی شکل بدل گئی ہے۔

پاکستانی فوج کا ایک اہلکار تین اگست 2021 کو خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں بگ بین پوسٹ کے قریب پاکستان-افغانستان سرحد پر پوزیشن سنبھالے ہوئے ہے (عامر قریشی / اے ایف پی)

ایک دہائی قبل دنیا ہر وقت ایسے حملوں سے نمٹنے کے لیے تیار رہتی تھی جو ہوائی جہازوں، سفارت خانوں اور تجارتی مراکز کو نشانہ بناتے اور عالمی میڈیا کی شہ سرخیاں بنتے۔ آج شدت پسندی کھلم کھلا موجود ہے۔

لاہور میں ایک وٹس ایپ گروپ، مالی میں ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو یا پیرس میں ایک تنہا حملہ آور، اتنی ہی تباہی پھیلا سکتا ہے جتنی پہلے بغداد میں ایک بم دھماکہ کیا کرتا تھا۔ خطرہ ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی شکل بدل گئی ہے۔

یہ سمجھنے کے لیے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں، ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔

جدید ’دہشت گردی‘ نے چار ادوار طے کیے ہیں: قوم پرست بغاوتیں جیسے آئرش رپبلکن آرمی (آئی آر اے) اور لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام ( ایل ٹی ٹی ای)، القاعدہ کی شدت پسندی جو نائن الیون اور ’وار آن ٹیرر‘ کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچی، داعش کی علاقائی ’خلافت‘ جس نے 40,000 غیر ملکی جنگجوؤں کو اپنی طرف راغب کیا اور آج کے غیر مرکوز اور منتشر دور میں تنہا حملہ آور، ڈرونز اور جرائم و دہشت گردی کا امتزاج شامل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 اس تبدیلی کو واضح کرتا ہے۔ 2024 میں شدت پسندی سے متعلق اموات میں 13 فیصد کمی آئی ہے، جو کہ 2010 کی دہائی کے خونی دنوں سے بہتر ہے، لیکن عدم استحکام مزید بڑھ گیا ہے۔

اب 98 فیصد اموات تنازعے والے علاقوں میں ہوتی ہیں، کیونکہ صرف ایک سال میں جنگوں کی تعداد 69 سے بڑھ کر 91 ہو گئی۔ 2024 میں حملے 66 ممالک تک پھیل گئے، جبکہ پچھلے سال یہ تعداد 58 تھی۔

چار گروہ اب بھی دنیا بھر میں شدت پسندی سے متعلق 80 فیصد اموات کے ذمہ دار ہیں۔ مگر اصل چیلنج انفرادی طور پر شدت پسندی کی طرف راغب ہونے والے افراد ہیں، جن کے مغرب میں حملوں کی تعداد 2023 میں 32 سے بڑھ کر گذشتہ سال 52 ہو گئی۔

سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یورپ میں شدت پسندی سے متعلق ہر پانچ میں سے ایک مشتبہ شخص اب 18 سال سے کم عمر ہے۔

تین بڑی تبدیلیاں 2025 کی نمایاں خصوصیات ہیں:

پہلی، مرکزیت کا خاتمہ: اب شدت پسندی القاعدہ یا داعش تک محدود نہیں رہی بلکہ مقامی سطح پر پنپ رہی ہے۔ پاکستان اور میانمار میں باغی سرحدی علاقوں کو تباہ کر رہے ہیں، عراق اور شام میں داعش کے بچے کھچے عناصر دوبارہ چھاپہ مار کارروائیاں کر رہے ہیں۔

غزہ میں، ایک طویل اور تباہ کن جنگ نے چھوٹے علیحدگی پسند گروہوں کے لیے سازگار حالات پیدا کر دیے ہیں —یاددہانی کہ حل طلب تنازعات ہی اگلی لہر کو جنم دیتے ہیں۔

دوسری، ٹیکنالوجی: خفیہ ایپس بھرتی کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں جبکہ ایڈٹ کی گئی ویڈیوز اور وائرل کلپس پروپیگنڈا کو اس رفتار سے پھیلاتے ہیں جسے کوئی چیک پوسٹ روک نہیں سکتی۔

عام دستیاب ڈرونز اور سستے ایڈیٹنگ ٹولز نے شدت پسندوں کو خوف کا عالمی نشریاتی ادارہ بنا دیا ہے۔

تیسری، جغرافیہ: اب سب سے زیادہ خونریزی جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقہ میں ہو رہی ہے، جہاں برکینا فاسو نے افغانستان کو شدت پسندی کے مرکز کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

یمن میں تعطل کا شکار امن مذاکرات القاعدہ کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے رہے ہیں، شام میں الہول کیمپ، جہاں داعش سے منسلک ہزاروں خاندان رہائش پذیر ہیں، ایک ٹائم بم کی مانند ہے۔

پاکستان میں منتقلی کی ایک پیچیدہ تصویر ابھرتی ہے: شہروں میں بڑے پیمانے پر بم دھماکوں میں کمی آئی ہے، لیکن سرحدی علاقوں میں بغاوت اور نوجوانوں میں آن لائن شدت پسندی بڑھ رہی ہے۔ شدت پسندوں نے حکمت عملی بدلی ہے—افغان سرحد کے ساتھ بغاوت اور ناراض نوجوانوں میں ڈیجیٹل شدت پسندی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

آج وزیرستان سے شدت پسندوں کی ایک وائرل ویڈیو شاید دس سال پہلے کے ایک سڑک کنارے بم سے زیادہ خوف پیدا کر سکتی ہے۔

خطرناک غلط فہمیاں اب بھی برقرار ہیں۔ ایک یہ کہ جب ایک علاقہ ’مستحکم‘ ہو جائے تو وہ دوبارہ غیر مستحکم نہیں ہو سکتا۔ درحقیقت، اگر شکایات باقی رہیں تو تشدد واپس آ جاتا ہے۔

نائجیریا اور پاکستان کے کئی شہر فوجی کارروائیوں کے بعد دوبارہ تشدد کی لپیٹ میں آئے۔ عراق میں داعش کے خاتمے کے بعد نئی بغاوت کا آغاز ہوا—یہ ثبوت ہے کہ صرف طاقت استعمال کرنے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوتی۔ نظریات شکل بدلتے ہیں، نیٹ ورک دوبارہ منظم ہو جاتے ہیں اور جبر اکثر اس چکر کو مزید گہرا کرتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک غلط فہمی یہ ہے کہ دہشت گردی کو درآمد شدہ سمجھا جائے۔ حقیقت میں، یہ اکثر اندر سے ہی جنم لیتی ہے، جسے ناانصافی اور نظر انداز کیے جانے جیسے عوامل بڑھا دیتے ہیں۔

مصر کے سینائی علاقے کی مثال لیجیے: بیرونی حمایت کا کردار ضرور ہے، مگر مقامی شکایات ہی بغاوت کو زندہ رکھتی ہیں۔ کسی ’بیرونی ہاتھ‘ کو الزام دینا آسان ہوتا ہے، لیکن یہ پالیسی سازوں کو اندرونی بگاڑ سے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

تو آگے کا راستہ کیا ہے؟ اسے ایک جیتنے والی جنگ کی بجائے دائمی مسئلہ سمجھا جائے جس سے نمٹنا ضروری ہے۔ مؤثر ادارے، ڈیجیٹل شعور جو عوام کو غلط معلومات سے بچائے اور مضبوط مقامی حکمرانی جو لوگوں کو وقار اور اعتماد فراہم کرے، یہ سب لازمی ہیں۔

پیغام واضح ہے: صرف اسلحے اور قوانین سے کامیابی ممکن نہیں، اصل لڑائی بیانیے اور احساسِ شمولیت کی ہے۔ شدت پسند یقین اور شناخت بیچتے ہیں، حکومتوں کو اس کے مقابلے میں وضاحت، مواقع اور امید دینی ہو گی۔

اردن کی جانب سے نوجوانوں میں شدت پسندی کی روک تھام کے لیے شہری تعلیم میں سرمایہ کاری ایک معمولی مگر مثبت مثال ہے۔ پشاور میں چھوٹے پیمانے پر ڈیجیٹل خواندگی کی ورکشاپس نوجوانوں کو غلط معلومات کی پہچان سکھا رہی ہیں۔

کینیا میں کمیونٹی پولیسنگ اعتماد بحال کر رہی ہے۔ سعودی عرب کے سکینہ اور مناصحہ پروگرامز اور متحدہ عرب امارات کا ہدایہ مرکز فعال حکمت عملیوں کی مثالیں ہیں۔

عراق میں فن اور مکالمہ داعش کے علاقوں سے واپس آنے والوں کو معاشرے میں ضم کرنے میں مدد دے رہے ہیں، یہ ثابت کرتا ہے کہ معاشرتی تانے بانے کی مرمت سرحدوں کی سکیورٹی جتنی ہی اہم ہے۔

شدت پسندی کا مستقبل بڑے اور نمایاں حملوں میں نہیں بلکہ کمزور ریاستوں کے آہستہ آہستہ کھوکھلا ہونے میں پوشیدہ ہے۔ جنوبی ایشیا کی سرحدی پٹی، افریقہ کے حکومتی کنٹرول سے محروم علاقے اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات شدت پسندوں کے ہاتھ لگتے ہیں یا عوام انہیں واپس حاصل کرتے ہیں—یہ اس بات پر منحصر ہو گا کہ کیا ہم خوف کے آگے جھک جاتے ہیں یا اعتماد بحال کرتے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم شدت پسندی کے چکر کو جنم دینے والے اصل عوامل کا سامنا کریں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ شدت پسندوں کی بھرتی کے حقوق پر مبنی انصاف اور بروقت روک تھام طاقت سے زیادہ مؤثر انداز میں روکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے مطابق 71 فیصد کیسز میں شدت پسندی کی طرف مائل ہونے کا اصل سبب نظریہ نہیں بلکہ اکثر خود ریاستی اداروں کے ظلم و زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں۔ آنے والے کل میں شدت پسندی کے خلاف جنگ خوف یا طاقت سے نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی کے حوصلے سے جیتی جائے گی۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر