سیالکوٹ واقعہ: اہلیہ پریانتھا کمارا کی انصاف کے لیے اپیل

پنجاب پولیس ترجمان کے مطابق سی سی ٹی سی فوٹیج اور موبائل کال ڈیٹا سے پولیس نے مزید چھ مرکزی کرداروں کا تعین کرکے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔

سیالکوٹ، چار دسمبر کی اس تصویر میں ایک پاکستانی شہری پریانتھا کمارا کی تصویر پر پھول رکھتے ہوئے (تصویر: اے ایف پی)

سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری مینیجر کے قتل میں ملوث مزید چھ مرکزی ملزمان کو گذشتہ 12 گھنٹے کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے جب کہ ہلاک ہونے والے سری لنکن شہری کی اہلیہ نے پاکستانی وزیراعظم اور صدر سے ان کے شوہر کے قتل کی منصفانہ تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔

پنجاب پولیس ترجمان کے مطابق سی سی ٹی سی فوٹیج اور موبائل کال ڈیٹا سے پولیس نے مزید چھ مرکزی کرداروں کا تعین کرکے انہیں گرفتار کرلیا ہے۔ ملزمان کو ویڈیو فوٹیج میں پریانتھا کمارا پر تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو فوٹیج میں کچھ ملزمان کے ہاتھوں میں ڈنڈے ہیں جب کہ باقی تشدد کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ملزمان اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے گھروں میں گرفتاری کے ڈر سے چھپے ہوئے تھے۔ جہاں سے پولیس نے چھاپے مار کر انہیں حراست میں لیا۔

ترجمان کے مطابق پولیس جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے تفتیش کر رہی ہے۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق 124 زیرحراست افراد میں سے 19 ملزمان کا مرکزی کردار سامنے آیا ہے نیز زیر حراست افراد میں سے اشتعال پھیلانے اور تشدد میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے کا عمل جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب  تحقیقات کے سارے عمل کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔

وزیراعلی پنجاب نے سیکرٹری پراسکیوشن کو کیس کی مکمل پیروی کرنے کا ٹاسک سونپا ہے۔ 

تھانہ اگوکی سیالکوٹ کے ایس ایچ او ارمغان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پریانتھا کمارا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے ڈی پی او سیالکوٹ نے دس ٹیمیں بنائی ہیں ہر ٹیم کا انچارج ڈی ایس پی جب کہ ہر ٹیم کی نگرانی آر پی او خود کر رہے ہیں۔ جب کہ دیگر اضلاع سے بھی ان پولیس اہلکاروں کو سیالکوٹ بلایا گیا ہے جو یہاں پہلے رہ چکے ہیں اور علاقے کو اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ ’اتوار کے روز ہم 13 مرکزی ملزمان کا سفری ریمانڈ لینے کے لیے سیالکوٹ کی مقامی عدالت میں پیش کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں انہوں نے آٹھ سو سے نو سو افراد کو نامزد کیا ہے کیونکہ جب وہ موقعے پر پہنچے تھے تو تقریباً اتنے ہی لوگوں کا مجمع تھا۔ ’پولیس بہت احتیاط سے اس کیس کو دیکھ رہی ہے کیونکہ ایک تو یہ مذہبی اشو ہے دوسرا انہیں یہ بھی خیال رکھنا ہے کہ اس میں کوئی بے گناہ نہ پکڑا جائے اس لیے سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل کردی تصویروں کا بغور جائزہ لینے کے بعد ملزمان کو گرفتار کیا جارہا ہے۔‘

ارمغان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان کو مرحلہ وار عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔  

ارمغان نے بتایا کہ پریانتھا کمارا کی نعش کو سپیشل ایمولینس کے ذریعے لاہور بھیج دیا گیا ہے جہاں سے اسے اسلام آباد لے جایا جائے گا اور پھر وہاں سے سری لنکا کے لیے روانہ کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پریانتھا کمارا کا جسم 90 فیصد تک جل چکا تھا لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی نعش اپنی صحیح حالت میں تھی۔ نیز ان کے جسم کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔  

پریانتھا کمارا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی نعش 90 فیصد تک جلی ہوئی تھی۔ جب کہ ان کی موت چہرے اور دماغ پر لگنے والی ضرب سے ہوئی۔ صرف ایک پاؤں کے علاوہ ان کے جسم کی تمام ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں جب کہ ریڑھ کی ہڈی  تین جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی نیز ان کا جگر اور گردے بھی متاثر ہوئے تھے۔  

اس سے قبل ارمغان کی مدعیت میں پریانتھا کمارا کی ہلاکت کے خلاف سیالکوٹ کے تھانہ اگوکی میں دفعہ 302، 297، 201،427، 431، 147، 149 اور اے ٹی اے 7 اور 11 WW کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی ایف آئی آر میں ارمغان نے بیان دیا تھا کہ  ’دن 11 بج کر 28 منٹ پر وائرلیس کال موصول ہوئی کہ راجکو فیکٹری ٹول موڑ پر کچھ لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ میں 11 بج کر 45 منٹ پر دیگر اہلکاروں سمیت موقع پر پہنچے تو فیکٹری کے اندر ہنگامہ ہو رہا تھا۔ فیکٹری کا مغربی دروازہ کھلوا کر ہم اندر داخل ہوئے تو 800 افراد سے زائد جن میں سے کچھ کے پاس ڈنڈے سوٹے تھے، اندر ہنگامہ آرائی کر رہے تھے اور پریانتھا نامی شخص کو مردہ حالت میں گھسیٹتے ہوئے وزیر آباد روڈ پر لے گئے۔‘

بیان کے مطابق انہوں نے مشتعل افراد کو روکنے کی کوشش کی مگر نفری ناکافی ہونے کی وجہ سے نہ روک سکے۔

’مشتعل افراد نے پریانتھا کی نعش کو سڑک پر رکھ کر آگ لگا دی ۔ مشتعل افراد نعرے بازی کر رہے تھے کہ ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا ہے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو نے راجکو فیکٹری کے مالکان اور دیگر انتظامیہ سے بھی رابطے کی کوشش کی مگر کسی سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔ علاقے کے لوگوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ فیکٹری اس دن سے بند ہے اور وہاں پولیس موجود ہے۔  

دوسری جانب پریانتھا کمارا کی اہلیہ نیروش دسانیا نے بی بی سی سنہالہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے شوہر کو ناحق مارا گیا ہے۔ انہوں نے خبروں میں دیکھا کہ ان کے بے گناہ شوہر کو کس بے دردی سے قتل کیا گیا جب کہ وہ ایک وہ لمبے عرصے سے پاکستان میں کام کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر دیکھا کہ کس غیر انسانی طریقے سے ان کے شوہر کو قتل کیا گیا۔ نیروش دسانیانے سری لنکن صدر اور پاکستانی وزیراعظم اور صدر نے ان کے شوہر کے قتل کی منصفانہ تحقیق کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انہیں اور اور ان کے دو بیٹوں کو انصاف مل سکے۔  

پریانتھا کمارا کے بھائی کمالا سری شانتاکمارا نے بھی برطانوی ادارے  بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پریانتھا 2012 سے راجکو فیکٹری کے ملازم تھے۔ ’اس فیکٹری کے مالک کے بعد انھوں نے ہی اس کا تمام انتظام سنبھالا ہوا تھا۔ جہاں تک مجھے علم ہے ایک انتہا پسند تنظیم کا پوسٹر اندر لگایا گیا تھا اور اس حادثے کی وجہ تلاش کرنے کے لیے ایک ہڑتال دی گئی تھی۔‘ انہوں نے بتایا کہ پریانتھا دیاودھنہ ایک انجینیئر تھے اور ان کے دو بیٹے ہیں جن کی عمریں  14 اور نو برس ہیں۔ 

 یاد رہے پریانتھا کمارا سیالکوٹ کی ایک گارمنٹ بنانے والی فیکٹری میں بطور جنرل مینیجر کام کر رہے تھے۔ تین دسمبر کی صبح ان پر مبینہ توہین مذہب کا الزام لگا کر فیکٹری کے ورکرز اور دیگر نامعلوم افراد نے انہیں پہلے قتل کیا اور اس کے بعد ان کی نعش کو نذر آتش کر دیا تھا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان