سری لنکن شہری کا قتل: 118 گرفتار، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

آئی جی پنجاب راؤ سردار علی نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں سری لنکن شہری کی موت کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ اور  وزیراعظم کو پیش کر دی گئی ہے۔

ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور اور آئی جی پنجاب راؤ سردار علی نے کہا کہ ملوث افراد سے رعایت نہیں برتی جائے گی (آئی جی پنجاب آفس)

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میں مبینہ طور پر توہین مذہب کے معاملے پر تشدد کے بعد جان سے مارے جانے والے سری لنکا کے شہری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہوگئی ہے، جبکہ 13 مرکزی ملزمان سمیت 118 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔  

سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں بطور مینیجر کام کرنے والے پرییانتھا کمارا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت چہرے اور دماغ  پر ضرب لگنے سے ہوئی۔

سیالکوٹ کے سردار بیگم ٹیچنگ ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق ان کے جسم کے مختلف حصوں کی ہڈیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں، اور جسم جلا ہوا تھا۔

اس سے قبل لاہور میں ہفتے کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور اور آئی جی پنجاب راؤ سردار علی نے بتایا کہ صوبائی محکمہ قانون نے واقعے کی ابتدائی  رپورٹ وزیراعلیٰ اور  وزیراعظم کو پیش کر دی ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان حسان خاور نے کہا کہ اب تک اس کیس میں ملوث 118 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سے 13 مرکزی ملزمان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اس واقعے کا نوٹس لیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی ہے اور وہ خود اس کیس کی تفتیش کی نگرانی کر رہے ہیں کسی بھی ملوث شخص کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

حسان خاور کا کہنا تھا کہ پولیس نے 12 گھنٹے کی سی سی ٹی وی کیمرہ کی فوٹیج تحویل میں لی ہے، جبکہ ملزمان کے کرمینل ریکاڑد بھی چیک کر رہے ہیں اور ہزاروں کالز کی تفصیلات بھی سنی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا پریانتھا کمارا کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو چکا ہے اور اب وزارت داخلہ اور خارجہ کے ذریعے لاش سری لنکن سفارت خانے کے حوالے کر دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کیس کی محکمانہ انکوائری خود آئی جی پنجاب کر رہے ہیں اور پولیس کے محکمے کی  طرف سے کہیں کوئی غفلت برتی گئی ہے تو کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا: ’ہم اس کیس کو ایک مثال بنا دیں گے تاکہ اس طرح کا کوئی واقعہ دوبارہ ہمارے معاشرے میں پیش نہ آئے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے ہمراہ آئی جی پنجاب راؤ سردار علی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں پولیس کو معلوم ہوا کہ جھگڑے کا آغاز جمعہ کی صبح 10 بج کر دو منٹ پر ہوا اور 10 بج کر 45 منٹ پر مزید اشتعال پیدا ہوا اور لوگوں نے مینیجر پریانتھا کمارا کو مارنا شروع کیا اور 11 بج کر پانچ منٹ پر ان کی ہلاکت ہو چکی تھی۔

آئی جی کے مطابق پولیس کو اطلاع 11 بج کر 28 منٹ پر ملی، اور پولیس 11 بج کر 45 منٹ پر موقع پر پہنچ گئی۔

آئی جی پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد ڈی پی سیالکوٹ اور ایس پی انویسٹی گیشن سیالکوٹ بھی موقع پر پہنچ گئے تھے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے پریانتھا کی موت ہو چکی تھی اور مشتعل افراد وہاں بڑی تعداد میں موجود تھے اور انہوں نے وزیر آباد روڈ کو بلاک کیا ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور انتظامیہ پوری تندہی سے اس کیس پر کام کر رہی ہے۔ ’ہم اس کو ٹیسٹ کیس بنائیں گے کیونکہ یہ واقعہ پاکستان کے لیے شرمندگی کا سبب بنا ہے۔‘

آئی جی نے بتایا کہ پولیس نے دو سو سے زائد جگہوں پر چھاپے مارے ہیں، 160 کیمروں کی فوٹیج دیکھی اور ایک 118 افراد کو اب تک حراست میں لیا گیا ہے، ان میں سے 13 وہ ہیں جن کے اعترافی بیانات کی ویڈیوز بھی میڈیا پر آئیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جلد از جلد تفتیش مکمل کر کے ملزمان کو کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔

 انہوں نے بتایا کہ جب پولیس کی جانب سے  پہلا رسپانس دیا گیا تب ہمیں واقعے کی نوعیت کا اندازہ نہیں تھا اور اس وقت تھانے میں  جتنے اہلکار موجود تھے وہ موقع پر پہنچ گئے۔

اس موقع پر ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا تھا کہ اس وقت آٹھ سے نو سو لوگ لاش کو گھسیٹ رہے تھے اور یہ سب دیکھ کر موقع پر پہنچنے والی پولیس نے بیک اپ کی درخواست کی۔

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ یہ  کہنا قبل از وقت ہے کہ اصل میں کیا ہوا، کیونکہ سارا واقعہ فیکٹری کے اندر پیش آیا۔ ’ہم تفتیش کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں کس کا کیا کردار تھا؟‘

غیر ملکیوں کے لیے سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے حوالے سے سوال کے جواب میں آئی جی نے کہا یہ یونٹ فیکٹری کے اندر موجود نہیں ہوتا، جب غیر ملکی شخص کو کہیں سفر کرنا ہوتا ہے تو وہ ہمیں اطلاع دیتے ہیں پھر ہم ان کے ساتھ ایس پی یو کے لوگ روانہ کرتے ہیں۔

پرییانتھا کے خاندان کے حوالے سے ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ ان کے اہل خانہ یہاں موجود نہیں تھے۔ 

اس سے قبل وزیر قانون راجہ بشارت نے بھی بتایا کہ اب تک کی تحقیقات سے متعلق وزیراعظم عمران خان کو ابتدائی رپورٹ بھجوا  دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ان کے مطابق واقعے کے محرکات میں توہین مذہب کے ساتھ انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ جبکہ سیالکوٹ اور گردونواح میں گرجا گھروں اور غیر ملکی فیکٹری ورکرز کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ کا واقعہ ہم سب کے لیے باعث ندامت اور افسوس ناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم خود تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے سری لنکن ہم منصب سے بات کی ہے اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے گی۔

وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے مذمت بیان جاری ہوچکے ہیں، جبکہ مذہبی حلقوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔  

پاکستان علما کونسل نے ایک بیان میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو توہین مذہب یا توہین رسالت کی شکایت ہو تو پولیس سے رجوع کرنا چاہیے۔

بیان میں کونسل کے چیئرمین، طاہر اشرفی، جو وزیر اعظم کے خصوصی نمائندہ برائے مذہبی ہم آہنگی بھی ہیں، نے کہا کہ وہ سری لنکا کے جمعیت علمااسلام  کے سربراہ سمیت دیگر مسلمان قائدین سے رابطے میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ توہین مذہب کا الزام بہت حساس ہوتا ہے، جس کی مکمل تحقیقات کی جاتی ہیں۔ متحدہ علما بورڈ پنجاب اس طرح کے کیسوں کو دیکھتا ہے اور اس پر تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ کی مشاورت سے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اگر کسی پر جھوٹا توہین رسالت یا توہین مذہب کا الزام لگایا جاتا ہے تو الزام لگانے والا توہین رسالت یا توہین مذہب کا مجرم ہوتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سری لنکا کی عوام کے سامنے ہم شرمندہ ہیں اور ان سے معافی مانگتے ہیں۔ 

رویت ہلال کمیٹی کے سابق چئیرمین مفتی منیب الرحمان نے بھی کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ  ملک میں آئینی اور قانونی نظام موجود ہے اور اس نظام کے ہوتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں لینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

مذہبی رہنما مولانا طارق جمیل نے بھی ایک ٹویٹ میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اتنہا پسندی کو روکنے کی کوششوں پر زور دیا۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان