گوادر دھرنا تنازع کی زد میں، ایک رہنما گرفتار

مولانا ہدایت الرحمٰن نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ہمارے دھرنے میں شرکت کرنے والے یوسف مستی خان کو گرفتار کرلیا ہے۔

 منتظمین کا کہنا ہے کہ جب تک مطالبات پر عمل نہیں ہوتا  گوادر دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا (تصویر: مولانا ہدایت الرحمان ٹوئٹر اکاؤنٹ )

بلوچستان کے ساحلی شہر اور سی پیک کے مرکز گوادر میں 25 دنوں سے جاری ماہی گیروں، مزدوروں اور شہریوں کے دھرنا نہ صرف تنازع کا شکار ہورہا ہے بلکہ جمعرات کو اس میں گرفتاریاں بھی دیکھنے میں آئیں جب کہ شام میں دھرنے کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔

  بلوچ قوم پرست رہنما اور عوامی ورکرز پارٹی کے سربراہ یوسف مستی خان کو گوادر پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ جس کی تصدیق مولانا ہدایت الرحمٰن نے دھرنے سے خطاب کے دوران بھی کی۔ 

مولانا ہدایت الرحمٰن نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ہمارے دھرنے میں شرکت کرنے والے یوسف مستی خان کو گرفتار کرلیا ہے۔

انہوں نے ک، وہ ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ان کو رہا نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کرینگے۔

  ایف آئی آر کے متن  میں مقدمے میں یوسف مستی خان پر دھرنے سے خطاب کے دوران مملکت خداداد پاکستان کے خلاف نفرت آمیز تقاریر، مسلح افواج، خفیہ اداروں کے خلاف بیانات دینے کا الزام ہے۔

پولیس نے یوسف مستی خان کے  خلاف A-124/A-/123-121 153-34A دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ جب کہ مولانا ہدایت الرحمٰن کے خلاف دفعہ 109 ت پ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم مولانا ہدایت الرحمٰن کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔ 

ایس ایچ او کو اس حوالے سے بار بار رابطہ کیا گیا، تاہم ان سے جواب نہیں موصول ہوا۔

دوسری جانب یہ دھرنا اس وقت تنقید کی زد میں آیا جب جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اس میں شرکت کرکے خطاب کیا۔

سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے امیر جماعت اسلامی کے خطاب کو دھرنے کو ’ہائی جیک‘ کرنے کی ایک کوشش قرار دیا۔

معروف لکھاری اور دانشور میر محمد علی ٹالپر نے سراج الحق کے خطاب کی ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح مولانا ہدایت الرحمان اور جماعت اسلامی گوادر اور بلوچوں کو ان کے حقوق دلائے گی؟ اپنا ایجنڈا پیش کرنے کے لیے عوامی حقوق کی جدوجہد کو ہائی جیک کرکے۔‘

 اس کا ادراک ’گوادر کو حق دو ‘ تحریک (جسے بعد میں ’حق دو بلوچستان‘ میں تبدیل کردیا گیا ہے) کے قائد مولانا ہدایت الرحمان کو بھی ہوا، جس پر انہوں نے دھرنے سے خطاب اور ٹوئٹر پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’سراج الحق ہمارے مہمان تھے اور وہ صرف اظہار یکجہتی کرنے آئے تھے۔‘

مولانا ہدایت الرحمان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا:  ’تجزیہ و تنقید کرنا اور رائے دینا ہر فرد کا حق ہے۔ یہ جمہوری معاشرہ ہے، اس پر کوئی قدغن نہیں۔ لیکن نیت پر شک کرنے اور الزام لگانے پر افسوس ہے۔ کسی مہمان کو خوش آمدید کہنا بلوچوں کی روایت کا حصہ ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن، بلاول بھٹو، مریم نواز جو بھی آئے گا، سراج الحق صاحب کی طرح استقبال کریں گے۔‘ 

گوادر میں مقیم تجزیہ کار سلیمان ہاشم سمجھتے ہیں کہ سراج الحق کی شرکت نے اس تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان کو نقصان پہنچایا، جس کا اثر دوسرے دن دیکھا گیا، جب لوگوں کی تعداد دوسرے دنوں کی نسبت کم تھی۔ 

سلیمان ہاشم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’گوادر میں جاری دھرنے کے حوالے سے پہلے یہ سوال موجود نہیں تھا کہ یہ دھرنا مذہبی ہے۔ سراج الحق نے سمجھا کہ شاید یہ سب ان کی جماعت کے لوگ ہیں، جس پر انہوں نے خطاب میں بھارت دشمنی اور دوسرے موضوعات پر تقریر کی۔‘

 انہوں نے کہا: ’میں نہیں سمجھتا کہ یہ تحریک جماعت اسلامی کے ہاتھوں ہائی جیک ہوچکی ہے، تاہم اس کا اثر 10 دسمبر کو ہونے والی ریلی، جس میں مولانا ہدایت الرحمان نے گذشتہ ریلیوں کے مقابلے میں زیادہ تعداد لانے کا اعلان کیا ہے، پر پڑ سکتا ہے۔‘

سلیمان ہاشم کہتے ہیں کہ ’اس تحریک سے یہاں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں، جیسے چیک پوسٹس، جو پہلے زیادہ تھیں اب کچھ ختم ہوگئی ہیں۔‘

 انہوں نے مزید کہا: ’یہ بات واضح ہے کہ دھرنے میں شرکت کرنے والے اکثر لوگ جماعت اسلامی کے نہیں ہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو قوم پرست جماعتوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔ مزدور، ماہی گیر اور دیگر لوگ جن کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہے۔‘

گوادر میں دھرنے کے قائد مولانا ہدایت الرحمان سے صوبائی حکومت کے مذاکراتی وفد کے کئی مرتبہ مذاکرات ہوچکے ہیں۔ حکومتی وفد کا کہنا ہے کہ تمام مطالبات جائز ہیں اور ان پر عمل درآمد ہوچکا ہے، لیکن دھرنے کے منتظمین عملی مظاہرہ چاہتے ہیں۔

سلیمان ہاشم کہتے ہیں کہ ’جن مسائل کے لیے مولانا ہدایت الرحمان نے آواز بلند کی، جیسے لاپتہ افراد، چیک پوسٹس اور ماہی گیروں کے مسائل، ان پر کسی قوم پرست جماعت نے لب کشائی نہیں کی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت حالات جماعت اسلامی کے لیے موافق ہیں، کیوں کہ اس سے پہلے اسے یہاں اتنی پذیرائی نہیں ملی جتنی اس بار ملی ہے۔‘

سلیمان نے بتایا کہ گوادر کے تین بڑے مسائل ہیں۔ ان میں سرفہرست ٹرالنگ ہے، جس پر حکومت نے سمندر میں 12 ناٹیکل میل تک پابندی لگا رکھی ہے۔

ان کا دوسرا مسئلہ سرحد سے تجارت کا ہے، جو پہلے ٹوکن سسٹم پر چلتا تھا۔ یہاں کے لوگ کبھی ایرانی تیل اور خوردنی تیل وغیرہ لاتے تھے۔ اسے بھی اب بند کردیا گیا ہے۔  

سلیمان کے مطابق تیسرا مسئلہ وہ کشتیاں ہیں، جو کوسٹ گارڈ نے پکڑ رکھی ہیں یا جن لوگوں کی گاڑیاں بند کی گئی ہیں۔ وہ لوگ اس وقت دھرنے میں زیادہ تعداد میں شامل ہیں، جو اپنے ان مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ 

سلیمان کے بقول: ’میں سمجھتا ہوں کہ گوادر دھرنے کا تعلق سیاست سے زیادہ روزگار سے جڑا ہوا ہے۔‘

ادھر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی اور تجزیہ کار ملک سراج اکبر، جو امریکہ میں مقیم ہیں، سمجھتے ہیں کہ ’جہاں مایوسی ہوتی ہے، وہاں مذہبی قوتیں عوامی جذبات کا فائدہ اٹھاتی ہیں اور گوادر میں بھی یہی ہوا ہے۔‘

 انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ملک سراج نے کہا کہ ’چونکہ ان عوامی مظاہروں کا اہتمام جماعت اسلامی نے ہی کیا ہے، لہذا سراج الحق کا خطاب کرنا ایک فطری عمل ہے، لیکن اس تحریک سے بلوچ علاقوں میں جماعت اسلامی کا حلقہ بڑھ جائے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 ان کا مزید کہنا تھا: ’قوم پرستوں کے مقابلے میں جماعت اسلامی کے ساتھ ڈیل کرنا زیادہ آسان ہوگا کیونکہ وہ مسلح نہیں ہیں، پاکستان توڑنا نہیں چاہتے اور مذاکرات کے لیے ہر وقت حاضر رہتے ہیں۔ وقتی طور پر جماعت اسلامی کے مظاہرے حکومت کے لیے درد سر نہیں ہیں لیکن اگر اس کے نتیجے میں مکران اور بلوچستان میں جماعت اسلامی کے لیے حمایت بڑھتی ہے اور لوگ قوم پرستوں کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں گے تو یہ اسٹیبلشمنٹ کی دیرپا کامیابی ہوگی۔‘

 انہوں نے مزید کہا: ’ہر کسی کو سیاست کا حق ہے اور مولانا کا حق بنتا ہے کہ وہ سیاست کریں لیکن یہ اس حوالے سے پلان کردہ ہے کہ ریاست بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) یا بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او آزاد، جسے کالعدم قرار دیا گیا) کو وہی حق نہیں دے گی کہ وہ بھی اسی طرح مظاہرے کرے۔‘

غیر قانونی ٹرالنگ کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس

ادھر کوئٹہ میں وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی ہدایت پر گوادر میں غیر قانونی ٹرالنگ کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں گوادر میں غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام سمیت دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔ 

 اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری مظہر نیاز رانا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’صوبائی حکومت گوادر میں غیر قانونی فشنگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اٹھا رہی ہے اور جلد ہی غیر قانونی ٹرالنگ کی روک تھام ہوجائے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’حکومت سندھ اور میری ٹائم اس بات کو یقینی بنائے کہ سندھ سے آنے والے ماہی گیروں پر پابندی عائد کی جائے تاکہ وہ بلوچستان کے علاقے میں ماہی گیری نہ کریں۔‘

 اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ گوادر میں غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا، جو ماہی گیری کے لیے لیگل فریم ورک، انفورسمنٹ، ایجنسیوں کے درمیان تعاون اور وے فارورڈ دیکھے گا اور ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے گا۔ 

اس سے قبل بھی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے احکامات کی روشنی میں گوادر دھرنا مظاہرین کے مطالبات پر عمل درآمد جاری ہے، جس کے تحت  غیر قانونی فشنگ ٹرالرز پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، ماہی گیروں کے مسائل کے حل کے لیے ڈی جی فشریز  کے مرکزی دفتر کو فی الفور کوئٹہ سے گوادر منتقل کر دیا گیا ہے اور غیر قانونی ٹرالنگ روکنے کے لیے محکمہ فشریز اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ 

 مزید کہا گیا تھا کہ ماہی گیروں کو سمندر میں جانے کے لیے ٹوکن سسٹم کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور اب ماہی گیر بغیر کسی اجازت کے سمندر میں آ جاسکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ گوادر میں تمام غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب ’حق دو تحریک‘ کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمٰن اور دیگر شرکا پر درج مقدمات واپس لینے اور فورتھ شیڈول لسٹ سے نام خارج کرنے سے متعلق معاملہ بھی صوبائی کابینہ کو بھیج دیا گیا ہے۔ 

دھرنے میں بلوچ قوم پرست رہنما یوسف مستی خان نے بھی شرکت کی اور اسے ’انقلابی تحریک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ تحریک کسی جماعت کی نہیں، صرف مظلوم کی تحریک ہے۔ اس تحریک کو پورے بلوچستان میں پھیلانا ہے۔‘

 جماعت اسلامی نے گوادر کا معاملہ سینیٹ میں اٹھانے اور 12 دسمبر کو ملک گیر یوم یکجتہی بلوچستان منانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان