بنوں کا مشہور حلوہ ’وریشہ ‘ کیسے بنایا جاتا ہے؟

اس حلوے کو جسے وزیرستان کےلوگ  ’سپین سری‘ کی نام سے جانتے ہیں، کو بنانا نہایت ہی آسان ہے۔ تاہم عارف کے مطابق اس میں مقدار کا کمال ہے کہ چینی، میدہ، اور گھی کتنی مقدار میں شامل کیا جائے۔

یوں تو بنوں جا کر آپ کو حلوے کی درجنوں قسمیں ملیں گی تاہم بنوں بازار میں آ پ کو گاہکوں کا رش زیادہ تر ایک ہی دکان پر ملے گا ۔ اس دکان پر ’وریشہ‘نام کا حلوہ تیار کیا جاتااور اسے بنوں کا سپیشل حلوہ مانا جاتا ہے ۔

اب اس دکان کو چلانے والوں کی تیسری نسل یہ حلوہ بنا رہی ہے۔ ’اکبر غلام‘ کی دکان کے نام سے مشہور حلوہ فروش کے منیجر محمد عارف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ دکان 1965میں قائم ہوئی اور اب تک چل رہی ہے۔

 عارف نے بتایا کہ ہمیں اپنے والدین بتاتے تھے کہ انھوں نے اس حلوے کی ترکیب کالاباغ کے ایک شخص سے سیکھی اور ہم نے اسی ترکیب کو استعمال کر کے، اس حلوے کو بنوں میں بنانا شروع کیا جو لوگوں میں کافی مقبول ہوگیا۔

یہ حلوہ کیسے تیار کیا جاتا ہے؟

اس حلوے کو جسے وزیرستان کے لوگ  ’سپین سری‘ کی نام سے جانتے ہیں، کو بنانا نہایت ہی آسان ہے۔ تاہم عارف کے مطابق اس میں مقدار کا کمال ہے کہ چینی، میدہ، اور گھی کتنی مقدار میں شامل کیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انھوں نے بتایا کہ ’سب سے پہلے گھی گرم کر کے اس میں چینی ڈالی جاتی ہے اور جب چینی پک جائے تو اس میں میدہ ڈال دیا جاتا ہے اور 15سے 20 منٹ میں یہ حلوہ تیار ہو جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کی خاصیت تو ایک مقدار میں ہے کہ کتنی مقدار میں تما م چیزیں ڈالیں گے جبکہ دوسری بات یہ ہے گھی کا معیارٹھیک ہونا چاہیے۔‘

 عارف سے جب پوچھا گیا کہ گاہک کتنے آتے ہیں، تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ گرمیوں میں گاہک اتنے نہیں ہوتے لیکن سردیوں کے دو تین مہنیوں میں گاہک بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

عارف نے بتایا کہ ’ دبئی، سعودی عرب سمیت بیرون ملک مقیم بنوں اور جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد اس کو یہاں سے منگواتے ہیں اور اپنے کسی دوست کے ذریعے اس کو وہاں پارسل کیا جاتا ہے۔‘

نبی جان جو اسی حلوائی کی دکان میں بیٹھے حلوہ کھا رہے تھے، انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس حلوے کا ذائقہ دیگر قسموں کے مقابلے میں الگ ہے جس میں ایک خاص قسم کا ذائقہ ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اس میں چینی کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر چینی کی مقدار تھوڑی کم ہوجائے تو اس مزہ اور بھی دوبالا ہوجائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا