پیچیدہ سرجری:والدہ کے پیٹ میں موجود بچے کا ٹیومر نکالنے میں کامیابی

ریاست اوہائیو کے کلیولینڈ میڈیکل سینٹر میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے کامیابی سے یہ پیچیدہ سرجری مکمل کی، ٹیومر نکالنے والی ٹیم کی سربراہی سعودی ڈاکٹر ھانی نجم کر رہے تھے، ھانی نجم سولہ سال سعودی عرب میں بھی پریکٹس کر چکے ہیں۔

امریکی ریاست اوہائیو کے کلیولینڈ میڈیکل سینٹر میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی کامیاب سرجری کی، جس کی سربراہی سعودی ڈاکٹر ہانی نجم کر رہے تھے۔

طبی مرکز نے آپریشن کی کامیابی کو اس وقت تک صیغہ راز میں رکھا جب تک بچہ اپنی فطری نشونما کے بعد اچھی صحت کے ساتھ پیدا نہیں ہوا۔

کلیولینڈ کلینک کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دکھائی گئی ویڈیو کے مطابق بچے کی والدہ سام ڈرینن جب 25 ہفتوں کی حاملہ تھیں تو انہیں معلوم ہوا کہ بچے کے دل میں ٹیومر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سب کچھ ٹھیک تھا، یہاں تک کہ جب میں نے 27 اپریل کو اپنا دوسرا الٹراساؤنڈ کیا تو مجھے پتہ چلا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ 

ڈاکٹروں نے انہیں اور ان کے شوہر ڈیوڈ کو بتایا کہ بچے کے دل کے بائیں جانب دبانے والے ٹیومر کو نکالنے کے لیے سرجری کی ضرورت ہے اور اس کی وجہ سے جنین میں دوران خون کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

بچے کی والدہ کلیولینڈ کلینک میں ماہرین سے ملاقات کے صرف 36 گھنٹے بعد آپریشن کے لیے داخل ہو گئیں۔

سعودی ڈاکٹر ھانی نجم نے یہ پیچیدہ آپریشن سرانجام دینا تھا۔ ھانی نجم اس کارڈیک سرجری شعبے کے سربراہ ہیں جہاں ٹیومر کو نکالنے کے لیے خاتون کے پیٹ اور بچہ دانی کو کھولنا تھا۔

ڈاکٹر ھانی نجم کے مطابق  انہوں نے کبھی جنین پر سرجری کے اس طریقہ کار کی کوشش نہیں کی تھی۔ ’وقت کی اہمیت تھی۔ امیجنگ سے، میں دیکھ سکتا تھا کہ ٹیومر بڑا ہو رہا تھا، اور اس کے پیریکارڈیم اور پھیپھڑوں میں سیال جمع ہو رہا تھا، جو کہ دل کی ناکامی کا اشارہ ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے ایسا شاذ و نادر ہی کیا گیا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک ایسی زندگی ہے جو شاید بچ نہ سکتی اگر ہم یہ اقدامات نہ اٹھاتے۔‘

ٹیم کے ارکان کے درمیان متعدد بات چیت کے بعد، سرجری 36 گھنٹوں کے اندر طے کی گئی تھی۔ جب کہ باقی ڈاکٹر ارکان گھبرائے ہوئے تھے، وہ جانتے تھے کہ یہ طریقہ کار بہترین موقع ہو گا جو ان کے لیے ایک سازگار نتیجہ تھا۔ ڈاکٹر ڈیو کے مطابق یہ بہت اعصاب شکن تھا لیکن اس قسم کی سرجری میں بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال ہے۔

جلد از جلد سرجری کے دوران جنین کے دل کی دھڑکن کم ہو رہی تھی، ڈاکٹر نجم نے بالاخر ٹیومر کو ہٹا دیا۔ انہوں نے ٹیسٹ دیکھے۔ ’اچانک، دل کی دھڑکن معمول پر آ گئی۔ بائیں حصے کا کمپریشن ختم ہو گیا اور خون کا بہاؤ رواں تھا۔‘ اس کے بعد انہوں نے ایک عارضی نالی ڈالی اور سینے اور جلد کو بند کر دیا۔

انہوں نے سرجری میں کامیابی کا اظہار ان الفاظ میں کیا؛

سرجری کے دیگر مراحل میں بچے کے دونوں بازوں کو اوپر اٹھا کر سینے تک پہنچانا اور وہاں موجود ٹیومر کو ہٹانا، خون کے بہاؤ کو بحال رکھنا اور آخر میں اسے بچہ دانی میں واپس رکھنا شامل تھے۔

کلیولینڈ ہسپتال کی جاری کردہ ویڈیو میں بچے کے دل سے کینسر کے ٹیومر کو نکالنے کے لیے سرجیکل آپریشن کی تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔

 امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان نے ڈاکٹر ھانی نجم کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دی۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ سعودی ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کا کام پورے امریکہ میں ہمارے پاس سب سے بہتر ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت