نیا سال: خود سے ایسے وعدے کریں جنہیں پورے بھی کر سکیں

کیا وجہ ہے کہ ہر سال کے آخر میں ہم خود سے لمبے چوڑے وعدے کر لیتے ہیں مگر تین چار ہفتے بعد وہی بے ڈھنگی چال ہوتی ہے جو پہلے تھی؟

ہم سال کے شروع میں اپنے اندر جو پرجوشی محسوس کرتے ہیں وہ چند دنوں یا چند ہفتوں میں ہی ختم کیوں ہو جاتی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

آج 29 دسمبر ہے۔ دو دن بعد یہ سال بھی ختم ہو جائے گا۔ پھر ایک نیا سال شروع ہو گا۔ کچھ دن سب کچھ نیا لگے گا۔ پھر وہی بوریت اور یکسانی محسوس ہونے لگے جو ہم ہر سال محسوس کرتے ہیں۔

شروع کے دنوں میں ہم سب پرجوش ہوتے ہیں۔ اپنے لیے نئے ہدف مقرر کرتے ہیں۔ کچھ دن ان کے حصول کے لیے کام بھی کرتے ہیں، آہستہ آہستہ پھر اسی روٹین پر واپس آ جاتے ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ہم سال کے شروع میں اپنے اندر جو پرجوشی محسوس کرتے ہیں وہ چند دنوں یا چند ہفتوں میں ہی ختم کیوں ہو جاتی ہے؟

ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہم خود سے ایسی توقعات وابستہ لیتے ہیں جو ہم پوری کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ 

طبعیت اپنی ماشاء اللہ ایسی ہوتی ہے کہ چار گھنٹے کسی جگہ ٹک کر بیٹھنا پڑ جائے تو خود موت کے فرشتے کو بلاوا بھیج دیتے ہیں کہ آؤ، مجھے لے جاؤ۔ نئے سال کا ہدف روزانہ بغیر کسی بریک کے آٹھ گھنٹے پڑھائی کرنے کا بنا لیتے ہیں۔ 

کھانے کے معاملے میں نیت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ انسٹاگرام پر بریانی کی تصویر نظر آ جائے تو فوراً گاڑی نکال کر بریانی ڈھونڈنے نکل جاتے ہیں یا خود ہی باورچی خانے میں چاول، گوشت اور مصالحہ جات کے ساتھ کشتی کرنے لگ جاتے ہیں۔ گول ہر مہینے آٹھ کلو وزن کم کرنے کا بنا لیتے ہیں۔

مذہب سے لگاؤ کا عالم یہ ہوتا ہے کہ اگر گھر آیا مہمان جائے نماز مانگ لے تو کچھ سیکنڈ تو ذہن میں اس کا مسکن آتا ہی نہیں۔ پھر کہیں جا کر یاد آتا ہے کہ ہاں پچھلے ہفتے اس کمرے میں رکھی دیکھی تھی۔ ہدف میں پچھلی چھوڑی ہوئی نمازوں کی ادائیگی بھی شامل کر لیتے ہیں۔

برداشت کی بات کریں تو وہ کسی کی ایک ہلکی سی بات پر جواب دے جاتی ہے۔ نصب العین ذاتی ڈیویلپمنٹ، اپنے زخموں کو مندمل کرنے، دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور دکھ سکھ بانٹنے وغیرہ وغیرہ کا بنا لیتے ہیں۔

پھر ان اہداف کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟

کچھ دن تو ان کے حصول کے لیے دل لگا کر کام کرتے ہیں پھر ہمارا دل اِدھر اُدھر ہونے لگتا ہے۔ آج کا کام کل پر ٹلنے لگتا ہے۔ پھر کب دن ہفتوں میں بدلتے ہیں اور کب ہفتے مہینوں میں تبدیل ہوتے ہیں، پتہ بھی نہیں چلتا۔

سال کے آخر میں ہم خود کو وہیں پاتے ہیں جہاں اس سے پچھلے سال چھوڑا ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جو تبدیلی آئی ہوتی ہے وہ زبردستی کی ہوتی ہے۔

دفتر کا کام آئے تو سستی، تھکن اور ڈپریشن کو ایک طرف کرکے اسے کرنا ہی پڑتا ہے۔ نہ کریں تو ہماری جگہ لینے کے لیے درجنوں افراد موجود ہوتے ہیں۔ کام کے بدلے میں ہر ماہ تنخواہ بھی ملتی ہے جو زندگی جاری رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

ہر سال تنخواہ میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے۔ دفتری حالات بہت اچھے ہوں تو ترقی بھی ہو جاتی ہے۔

ڈگری بھی اسی طرح مکمل ہو جاتی ہے۔ جسمانی اور ذہنی حالت جیسی بھی ہو امتحان ہر حال میں دینا پڑتا ہے۔ اس کے لیے پڑھنا پڑتا ہے۔ کتابیں کھولنی پڑتی ہیں۔ کمپیوٹر پر جرنل پڑھنے پڑتے ہیں۔ اسائنمنٹ وقت پر جمع کروانے پڑتے ہیں۔

سال کے آخر میں ہم ان کامیابیوں کو شمار کرکے اپنے سوشل میڈیا پر اچھی سی پوسٹ کر دیتے ہیں۔ اس سے دوسروں کے ساتھ ساتھ ہمیں خود بھی اپنے نکمے اور بے کار نہ ہونے کا تھوڑا بہت یقین ہو جاتا ہے۔

لیکن اپنی حقیقت تو ہم ہی جانتے ہیں۔ جو ہم نے سال کے شروع میں کرنے کا سوچا تھا، وہ سال کے شروع میں ہی کہیں رہ چکا ہوتا ہے۔ سال کے آخر میں وہی ہم ہوتے ہیں، وہی ہماری تھکن اور سستی ہوتی ہے۔

ہماری نظریں اور دل پھر سے ایک نئی امید کے ساتھ نئے سال کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اس سال ہماری زندگی تبدیل ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہوتا کیونکہ ہم اپنے لیے حقیقی اہداف مقرر نہیں کرتے۔

ہم جانتے ہیں کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ پھر اس کے مطابق منصوبہ بندی کیوں نہیں کرتے؟

کمفرٹ زون سے باہر نکلنے کے نام پر اس سے چار سو کلومیٹر دور جا کر کیوں کھڑے ہو جاتے ہیں؟ چند میٹر کی دوری کیوں نہیں اپناتے؟

زندگی آرگنائزڈ ہونی چاہیے لیکن اس طریقے سے جو سمجھ میں آ رہا ہو اور جس پر عمل کیا جا سکے۔

جو چیز سمجھ نہ آ رہی ہو اسے لکھ لیں۔ لکھ کر بھی سمجھ نہ آ رہی ہو تو بس اسے ایک طرف کر دیں۔ آپ اسے نہیں کرسکیں گے۔

آپ جو کر سکتے ہیں وہ آپ جانتے ہیں۔ اس کے مطابق ہی اپنے لیے اہداف بنائیں۔ ایسے اہداف جنہیں آپ حاصل کرسکتے ہوں اور جن کے حصول کے لیے آپ کو روزانہ جتنا کام درکار ہو آپ وہ کر سکتے ہوں۔

ورنہ اگلے سال کے اختتام پر بھی آپ کا حال ویسا ہی ہوگا جیسا اس سال کے اختتام پر ہے۔

اس پیغام کے ساتھ آپ سب کو میری طرف سے سالِ نو مبارک ہو۔ میری دعا ہے کہ آنے والا سال آپ کے لیے ڈھیروں خوشیاں لے کر آئے اور آپ کو دوسروں کے لیے خوشیاں لانے کی وجہ بنائے۔ آمین۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ