سال بدل گیا، کیا ہم بھی بدلیں گے؟

سال تو بدل گیا لیکن اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم خود بھی اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں؟ تو یہ بھی خاطر جمع رکھیں کہ کسی تبدیلی نے از خود آ کر آپ کی چوکھٹ پر دستک نہیں دینی۔ اس ضمن میں نئے عہد و پیماں کرنے اور قول و فعل کے تضادات کے خاتمے کا ساماں کرنا ہوگا۔

یہ بیتے لمحوں کا رونا رونے کا نہیں آنے والے کل کو پروان چڑھانے کا موقع ہے (اے ایف پی)

سالِ گذشتہ غم اور خوشیوں کے ملےجلے امتزاج دے کر گزر گیا۔ ہم ہر سال کو الوداع کہتے اور سرزد غلطیوں پر نادم ہو کر سال نو پر نئے عہد کرتے ہیں۔ خود کو نئے سال کے موقع پر نئی یقین دہانی کراتے ہیں۔

سالِ رفتہ ہماری زندگی کا ایک اور اہم باب اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ نئے سال کی پہلی تاریخ تاریک لمحوں کو خیرباد کہہ کر نئی امید اور روشنی کا پیغام لائی ہے۔ بیتے لمحے تو گزر گئے اب ہمیں گزرے سال کے حال احوال اور اعمال کا جائزہ لینا ہوگا۔

سال تو گزر گیا ہم نے کیا پایا اور کیا کھویا؟ کیا غلطیاں ہوئیں اور ان سے سبق کیا سیکھا؟ سال 2021 تو تلخ حسیں یادیں وراثت میں چھوڑ کر رخصت ہو چکا ہے۔ نئے سال کی نئی صبح کا شاید یہی پیغام ہے کہ:

اُٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے

 پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

ازسر نو منصوبہ بندی کا وقت آن پہنچا ہے۔ اب خود کو بدلنے کا فیصلہ اور عہد کرنا ہوگا۔ کب تک بیتے برس کو کوستے رہیں گے۔ بیتے لمحوں کی آپ بیتی میں اُلجھنے کی بجائے آنے والے وقت کی اہمیت اور حساسیت کو بھانپ کر چلنا ہوگا۔ دوسرے کے کردار کو تاکنے نہیں بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت پر زور دینا ہوگا۔

یہ بیتے لمحوں کا رونا رونے کا نہیں آنے والے کل کو پروان چڑھانے کا موقع ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم گزرے لمحات کی غلطیوں سے کیا سبق سیکھتے ہیں۔ آخر اب کی بار ہم خود سے کیا تکرار کرتے ہیں۔ پچھلا سال تو گزر گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سال کو ہم کیسے بسر کرتے ہیں۔

2021 نے تو ہمیں مواقع دیے کہ جو چاہتے ہو کر لو، تم کر سکتے ہو، یہ عمل کی دنیا ہے یہاں کچھ بھی ناممکن نہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ منزل کو پانے کا عزم اور حوصہ مضبوط ہو۔ خود احتسابی کا جذبہ ہو۔ اگر آنے والے کل کو روشن دیکھنا چاہتے ہو تو اپنی سوچ کو بدلو ورنہ سال تو بدلتے رہیں گے ہم نہیں بدلیں گے۔

اس لیے ہمیں اپنی سوچ سمجھ اور انداز کو بدلنا ہوگا۔ ورنہ یہ سال بھی بیت جائے گا اور لمحے ماضی بن جائیں گے۔ تقدیر کو سنوارنے کے لیے اپنے گریبان میں جھانکنے غلطیوں کوسدھارنے کی ضرورت ہے۔

یہ مت سوچیں کہ فلک پر دمکتے ستارے کیا کہتے ہیں؟ اور ستارہ شناس کیا آس دِلا رہے ہیں؟ بلکہ اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ کیا ہم گزرے سال کے تلخ تجربات اور حوادث سے کوئی سبق حاصل کر پائیں گے۔ یا پرانی ڈگر پر چلتے ہوئے چیلنجز میں الجھتے اور مسائل میں دھنستے چلے جائیں گے؟

سال تو بدل گیا لیکن اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم خود بھی اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں؟ تو یہ بھی خاطر جمع رکھیں کہ کسی تبدیلی نے از خود آ کر آپ کی چوکھٹ پر دستک نہیں دینی۔ اس ضمن میں نئے عہد و پیماں کرنے اور قول و فعل کے تضادات کے خاتمے کا ساماں کرنا ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انفرادی، سماجی، معاشرتی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کی سنجیدہ عملی کاوشیں کرنا ہوں گی۔ کیا ہمارے مزاج بدلیں گے؟ کیا ہم انہیں بدلنا چاہتے بھی ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو جان لیں نتائج بیتے سال جیسے ہی برآمد ہونے ہیں۔

نئے سال کے استقبال کے ساتھ ساتھ ہمیں نئی منزلوں کا تعین کرنا ہوگا۔ ٹوٹے خوابوں کی کرچیوں کو سمیٹنے کا عہد کرنا ہوگا۔ آنے والے وقت کی کامیابیوں کو سمیٹنے کے رہنما اصولوں کا تعین کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس نئے سال نے ایک بار پھر نئی اُمیدوں کے ساتھ ہماری زندگیوں میں قدم رکھا ہے۔

یہ لمحہ ہمیں سالِ رفتہ میں کیے گئے عہد کی بھی یاد دلاتا ہے۔ کہ کیا جو عہد ہم نے بیتے سال کیے کیا وہ پورے ہوئے؟ ہمیں انفرادی، اجتماعی طور پر خود احتسابی کے معیار پر خود کو پرکھنا ہوگا۔

2021 تو نہ صرف ملکِ پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے مشکل ترین اور تباہ کن ثابت ہوا۔ لیکن دعا ہے یہ سالِ تمام امن و سلامتی کا سال ہو۔ آمین

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ