تحریک آزادی ختم یا جمہوریت کا جنازہ؟

جموں و کشمیر کے حالات دو سال میں سدھرنے کی بجائے بدتر ہوگئے ہیں مگر مجال ہے کہ کوئی سڑک پر آکر احتجاج کی ہمت کرے، جیسے کہ پہلے معمولی واقعے پر سڑکوں پر عوام کا سیلاب امڈ آیا کرتا تھا۔

31 دسمبر 2021 کو سری نگر کے نواح میں مشتبہ عسکریت پسندوں اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے ایک دن بعد ایک شخص نجی گاڑی کے ٹوٹی ہوئی وینڈ سکرین کو دیکھ رہا ہے۔ اس خطے میں اس قسم کی جھڑپیں روزانہ کا معمول ہیں (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما مرحوم سید علی شاہ گیلانی نے چند برس قبل اپنی نظر بندی توڑنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد بھارت کو وارننگ دی تھی کہ ’جموں و کشمیر میں آپ کی جمہوریت کا جنازہ نکل رہا ہے۔‘

اس کے جواب میں حکمراں ہندوتوا جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی جموں و کشمیر میں آج کل تحریک آزادی ختم کرنے کا جشن منا رہی ہے۔

جموں و کشمیر میں الحاق پاکستان کے حامیوں کے لیے ’جمہوریت کا جنازہ‘ جملہ متحرک رہنے کا باعث بنا مگر 5 اگست 2019 کے بعد مرحوم گیلانی کبھی عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ وہ پہلے کئی برسوں سے ہی نظر بند تھے اور نہ اس کے بعد یہ جملہ سوشل میڈیا کے علاوہ کہیں اور سنائی دیا۔

گیلانی کے انتقال کے بعد ان کی عجلت میں شبانہ تدفین بھی حکومت کے لیے باعث خفت بنی۔ جن سے صرف دو سال پہلے تک پوری وادی گونج اُٹھا کرتی تھی اب وہ ہند و پاک سے مکمل آزادی کے حامی کشمیری نہ کسی مجلس میں دکھائی دے رہے ہیں نہ کہیں پر آزادی کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ البتہ دو سے تین بندوق برداروں کی ہلاکت کی خبریں تقریبا روزانہ ملتی رہتی ہیں جن کے بارے میں شواہد جمع کرنا شجر ممنوعہ ہے۔

اس وقت خطے میں اگر کسی کا وجود قائم ہے یا جن کا وجود قائم رکھا گیا ہے وہ قومی دھارے یا مینسٹریم سیاسی جماعتوں سے وابستہ قیادت یا کارکن ہیں جو بھارت کا پرچم اٹھانے کے باوجود بھی سرکار کی سخت گیر پالیسیوں کے نشانے پر ہیں، پھر بھی وہ اپنی بھارت نواز سوچ کا مظاہرہ کرنے سے نہیں گھبراتے ہیں۔

وادی کشمیر میں ایسا سیاسی منظر نامہ سات دہائیوں میں پہلی بار دیکھا جا رہا ہے جب خطے میں آزادی کی تحریک کو مکمل طور پر دبایا گیا ہے اور حریت پسند تمام قیادت کو بالکل غائب کر دیا گیا ہے۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ حریت لیڈرشپ ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں ہی غائب نہیں کر دی گئی ہے بلکہ آزادی کا بیس کیمپ کہلانے والے ’آزاد کشمیر‘ میں بھی اس کا وجود تقریباً ختم کر دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ پاکستان کی بدلتی سوچ، حریت کا میڈیکل سیٹوں کی فروخت، کشمیر فنڈز کا مبینہ غبن اور بیرون ملک بعض جعلی کارکنوں کی کشمیر مخالف پالیسیوں اور املاک بنانے کا نتیجہ ہے۔

اگرچہ انسانی حقوق کے بعض مقامی کارکن سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے بالخصوص عمران خان نے کشمیر کے تئیں اپنی ولولہ انگیز سوچ تبدیل کی جس کے پیچھے شاید پاکستان کی فوج کا عمل دخل ہے مگر لندن میں ان کے ایک کارکن کہتے ہیں کہ ’عالمی برادری کے دباؤ کے تحت عمران خان کو اپنی کشمیر پالیسی میں تبدیلی لانی پڑی ہے جس کے پیچھے بھارتی سفارت کاری اور ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار کا خاصا عمل دخل ہے۔‘

پاکستان کی کشمیر پالیسی کا نیا نقشہ اس وقت سامنے آیا جب 5 اگست 2019 کے فیصلے کے بعد پاکستان نے بھارت سے بات چیت شروع کرنے کی شرط رکھی کہ وہ اندرونی خودمختاری کو منسوخ کرنے کا فیصلہ واپس لے، جس کا آزادی کی تحریک سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔

بھارتی آئین کے تحت اندرونی خودمختاری واپس دینے کا مطالبہ مرکزی دھارے کی پارٹیوں کے موقف کی طرف داری ہے۔

ہند و پاک تعلقات کے اکثر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان نے کشمیر کوسلجھانے میں آزادی پسندوں کی بجائے کشمیر کی مینسٹریم جماعتوں پر اپنی توجہ مبذول کر دی ہے۔

جموں و کشمیر کے حالات دو سال میں سدھرنے کی بجائے بدتر ہوگئے ہیں۔ انسانی نقل و حمل پر قدغن، روزانہ ہلاکتیں، شہریوں کو ہراساں کرنا، بارود سے مکانات اڑانا، نوجوانوں کو زدوکوب کرنا، میڈیا پر عتاب اور زمین و جائیداد کو غیر ملکیوں کو فروخت کرنا اب بی جے پی کی پالیسی کا معمول بن گیا ہے مگر مجال ہے کہ کوئی سڑک پر آکر ان کے خلاف احتجاج کرنے کی ہمت کرے، جیسے کہ پہلے معمولی واقعے پر سڑکوں پر عوام کا سیلاب امڈ آیا کرتا تھا۔

میں نے کشمیر میں انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنوں سے اس بارے میں پوچھا کہ کشمیری اتنے خاموش کیوں ہیں جبکہ اس وقت ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے جو خود بھارتی آئین کی توہین ہے۔ انہوں نے اس کی کئی وجوہات بتائیں۔

ایک یہ کہ بی جے پی کی حکومت نے اختلاف رائے کے اظہار کے تمام راستے بند کر دیئے ہیں۔ کسی بھی مخالف رائے رکھنے والے کو جیل میں بند کیا جاتا ہے جس کی سالوں تک عدالت میں سنوائی نہیں ہوتی ہے لہذا لوگ صبر سے کام لے رہے ہیں۔

دوسرا جموں و کشمیر کے عوام نے ظلم اور جارحیت کی جس ہمت اور جرت سے مزاحمت کی ہے اور جس کی وجہ سے وہ جانی، مالی اور معاشرتی طور پر مفلوج کر دیئے گئے ہیں اب ان میں شاید اتنی ہمت باقی نہیں رہی ہے اور وہ خود کو بے یارو مددگار سمجھ رہے ہیں۔

تیسرا یہ کہ 5 اگست 2019 کے فیصلے کے خلاف خاموش مزاحمت کے نتیجے میں پاکستان کی پالیسی یا اس کے ردعمل کی جو توقع تھی اس کو دیکھتے ہوئے بیشتر عوام شدید مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں۔

مظفر آباد کے ایک سماجی کارکن رحمت اللہ کہتے ہیں کہ ’ہوسکتا ہے کہ پاکستان بھی کشمیر کو حل کرنے کی بجائے اسے اسے ایک زخم کی طرح قائم و دائم رکھنا چاہتا ہے جو بس رستا رہے، اس ایٹم بم کا کیا مقصد جو اپنے حق کے لیے استعمال نہ کیا جاسکے، پاکستان نے خاموشی سے کشمیر کی موجودہ پوزیشن کو قبول کیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتی تھنک ٹینک سے وابستہ جنوب ایشیائی امور کے ماہر امریش سہگل کہتے ہیں کہ ’بھارتیہ جنتا پارٹی نے نہ صرف جموں و کشمیر کی تاریخی ہیت تبدیل کرکے رکھ دی ہے بلکہ کشمیری مزاحمت کا رخ تبدیل کرکے اسے ہندوستان نواز سیاست کا ایسا حصہ بنایا جس کی مثال سن اکتیس کے بعد پہلی بار مل رہی ہے۔ مینسٹریم کی گونج اب آرٹیکل 370 یا 35 اے کی بحالی تک محدود رہ گئی ہے جبکہ کشمیر کی آزادی کا مطالبہ ان نعروں کے نیچے دب کر رہ گیا ہے۔‘

امریش سہگل مزید کہتے ہیں کہ ’ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ عوام اب آزادی کا لفظ ادا کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ اس کی ذمہ داری ہندوستان کی پالیسیوں پر ہی نہیں بلکہ اس میں پاکستان کی خاموشی برابر کی شریک ہے۔‘

مگر سری نگر کے آزادی نواز کارکن محمد افضل کہتے ہیں کہ ’کشمیر کے بارے میں کوئی بھی پیش گوئی کرنا فضول ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ آزادی کی تحریک دھونس، دباؤ، دہشت اور وحشت سے ختم کر دی جائے گی تو وہ کشمیر کے مزاج سے واقف نہیں ہیں۔ آزادی کی تحریک نہ کسی ملک کے کہنے پر چل رہی تھی اور نہ کسی کو اسے خاموش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ آزادی کا جذبہ ہر کشمیری کے دل میں دھڑکن کی طرح ہے۔ اس طرح کے مشکل موڑ تحریک میں پہلے بھی آئے ہیں اور آتے رہیں گے مگر یہ تحریک دم توڑ لے گی یہ بی جے پی کا وہ خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ کشمیری قوم اس وقت مشکل حالات کا مقابلہ کر رہی ہے جس کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔‘

1996 ہو، 2008 ہو، 2010 ہو، 2014 ہو یا 2019، ہر بار یہ سمجھا گیا کہ تحریک دوبارہ شروع ہونے کے بعد اس کی ہوا نکل گئی یا اسے جان بوجھ کر مار دیا گیا مگر ہر بار ثابت ہوگیا کہ تحریک آزادی اپنی جگہ قائم ہے اور مینسٹریم جماعتیں محض اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں۔

شاید انتظار کرنا ہوگا کہ کیا واقعی بی جے پی کی حکومت آزادی پسندوں کو ہلاک یا جیلوں میں بند کرنے کے بعد کشمیر کو قومی دھارے میں پوری طرح شامل کر چکی ہے یا کشمیر میں مزید سرپرایزز کا سامنا کرنا باقی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی رائے پرمبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ