نیول فارمز، نیوی سیلنگ کلب کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست کا فیصلہ جمعہ سات جنوری کو سنایا جائے گا۔

نیول فارمز اور سیلنگ کلب کیس  جولائی 2020 سے  اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے (اے ایف پی)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو نیول فارمز اور نیوی سیلنگ کلب کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے جمعہ، سات جنوری کو سنانے کا اعلان کیا ہے۔

نیول فارمز اور سیلنگ کلب کے خلاف درخواستیں شہری زینت سلیم نے دائر کی تھیں۔ آج سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ممبر سٹیٹ سے استفسار کیا کہ فیصلہ سنانے سے پہلے دو وضاحتیں ضروری ہیں۔

اگر قانون میں اجازت نہ ہو تو آپ اس کو بھی این اوسی جاری کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر ہائی کورٹ بزنس نہیں کر سکتی، اگر ہم اپلائی کریں تو کیا این او سی جاری کر دیں گے؟

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیا آپ آئین اور قانون کے تابع نہیں؟ ایسی درخواست آنے پر آپ کا پہلا اعتراض ہی یہ ہونا چاہیے کہ درخواست انٹرٹین نہیں کر سکتے۔ کیا زون فور میں 1993 میں تعمیرات ہو سکتی تھیں؟

ممبر پلاننگ سی ڈی اے نے عدالت کو جواب دیا کہ اُس وقت وہاں فارم ہاؤسز کی اجازت تھی۔ نیوی سیلنگ کلب تاحال سربمہر ہے، بلڈنگ بائی لاز 2020 کے تحت غیر قانونی عمارت کو منہدم بھی کیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے مزید پوچھا کہ ’ڈائریکٹر ہاؤسنگ نیول فارمز کون ہے؟ کیا آپ ان کا آفس بھی جا کر سیل کریں گے؟ راول لیک پر سمال ڈیمز کے کنارے تعمیرات پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

انہوں نے مزید کہا کہ کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کا این او سی ہی کینسل ہو جائے تو آپ کیا کرتے ہیں؟‘ ممبر سٹیٹ سی ڈی اے نےعدالت کو جواب دیا کہ ’این او سی منسوخ ہو جائے تو ہم اسے ٹیک اوور کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’این او سی کے بغیر کام کرنے والی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مینجمنٹ آفسز بھی سیل کرتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ اکتوبر 2020 میں بھی نیوی فارمز اور کلب پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، لیکن فیصلے کی تاریخ نہیں دی گئی تھی۔

پھر دوبارہ کچھ وضاحت طلب نکات پر عدالت نے سماعت مقرر کی اور حکام سے سوالات کے بعد چھ جنوری کو فیصلہ دوبارہ محفوظ کیا جبکہ نیول سیلنگ کلب اور نیول فارمز میں حتمی فیصلے تک تعمیرات پر پابندی بھی برقرار ہے۔

نیوی کلب کی تعمیر کے خلاف درخواست زینت سلیم نامی خاتون نے دائر کر رکھی ہے جس میں موقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اسلام آباد نیشنل پارک میں تعمیرات غیر قانونی ہیں کیونکہ اس سے قدرتی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ راول ڈیم سے راولپنڈی شہر کو پانی کی ترسیل کی جاتی ہے۔ اس لیے راول ڈیم کے کنارے سیلنگ کلب سے ماحولیاتی آلودگی پھیلے گی۔

جولائی 2020 سے یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ابتدائی طور پر نیوی حکام نے موقف اپنایا تھا کہ 1991 میں حکومت پاکستان نے یہ جگہ سیلنگ کی پریکٹس کے لیے پاکستان نیوی کے لیے مختص کی تھی۔

کیس کی متعدد سماعتیں ہونے کے بعد چیف آف نیول سٹاف نے تحریری جواب بھی جمع کرایا تھا۔

نیوی کا تحریری جواب

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحریری جواب میں نیول چیف نے کہا کہ ’وفاقی حکومت کی ہدایات پر نیشنل واٹر سپورٹس سینٹر گذشتہ 25 برس سے پاکستان نیوی کے پاس ہے جس کے قیام کا مقصد واٹر سپورٹس میں نوجوان ایتھلیٹس کی استعدادکار بڑھانا ہے۔

’سینٹر کو پاکستان میں واٹر سپورٹس کی ترقی کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ اور اپ گریڈ کرنے کا پراجیکٹ جولائی 2020 میں نان پبلک فنڈز سے مکمل ہوا اور اس میں عوامی پیسے کا استعمال نہیں کیا۔‘

انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ معاملے کو وسیع تر قومی مفاد میں دیکھا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان