’کوکیز‘ کے استعمال پر گوگل اور فیس بک پر بھاری جرمانے

فرانس نے انٹرنیٹ صارفین کا ڈیٹا اکھٹا کرنے کے لیے کوکیز کا استعمال جاری رکھنے پر گوگل کو ریکارڈ 15 کروڑ یوروز جبکہ فیس بک کو چھ کروڑ یوروز ادا کرنے کو کہا ہے۔

کوکیز گوگل اور فیس  بک کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ ان کے ذریعے وہ صارفین کے لیے اشتہارات کو مخصوص شکل دینے کے قابل ہو جاتے ہیں (اے ایف پی)

فرانسیسی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ ملک کے انتظامی ادارے نے ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی گوگل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کو 21 کروڑ یوروز کا جرمانہ کر دیا ہے۔

یہ جرمانہ ان اداروں کی جانب سے’کوکیز‘ کے استعمال کرنے پر کیا گیا۔ کوکیز وہ ڈیٹا ہوتا ہے جسے صارفین کو آن لائن ٹریک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹیکنالوجی کے میدان میں دیو قامت امریکی کمپنیاں جن میں ایپل اور ایمزون جیسی کمپناں بھی شامل ہیں انہیں یورپ بھر میں اپنی کاروباری سرگرمیوں کے معاملے میں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

ان کمپنیوں کو بڑے جرمانے ہوئے ہیں اور ان کے کام کے طریقوں کے لیے دور رس نتائج کے حامل یورپی قواعد کے نفاذ کے منصوبے متعارف کروائے گئے ہیں۔

فرانس کے نیشنل کمیشن برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ فریڈم (سی این آئی ایل) کی طرف سے گوگل پر عائد کیا جانے والا 15 کروڑ یوروز کا جرمانہ ایک ریکارڈ ہے۔

نئے جرمانے نے 10 کروڑ یوروز کے جرمانے کا ریکارڈ توڑ دیا۔ کوکیز کے استعمال پر کمپنی کو یہ جرمانہ دسمبر 2020 میں کیا گیا تھا۔

فیس بک کو چھ کروڑ یوروز کا جرمانہ کیا گیا۔ انتظامی ادارے کے مطابق: ’سی این آئی ایل نے طے کیا ہے کہ ویب سائٹ فیس بک ڈاٹ کام، گوگل ڈاٹ ایف آر اور (گوگل کی ملکیت) یوٹیوب ڈاٹ کام صارفین کو کوکیز کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کی سہولت نہیں دیتے اور انہیں کوکیز کو قبول کرنا پڑتا ہے۔‘

سی این آئی ایل کا مزید کہنا ہے کہ دونوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنا طریقہ کار قواعد کے مطابق بنانے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا جس کے بعد فرانس انہیں یومیہ ایک لاکھ یوروز کا جرمانے کرے گا۔

گوگل نے اے ایف پی کو بتایا وہ جرمانے کے فیصلے کے بعد اپنے طریقہ کار تبدیل کرے گا۔ امریکی فرم نے اپنے بیان میں کہا: ’انٹرنیٹ صارفین کی توقعات کے مطابق ہم نئی تبدیلیوں پر عملدرآمد اور سی این آئی ایل کے فیصلے کے جواب میں اس کے ساتھ مل کر فعال انداز میں کام کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔‘

واضح رہے کہ کوکیز ایسے ڈیٹا پیکٹس کو کہتے ہیں جو صارف کے کمپیوٹر میں اس وقت داخل کیے جاتے ہیں جب وہ کسی ویب سائٹ کو براؤز کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس طرح ویب براؤزرز کو سیشنز کے بارے میں معلومات ذخیرہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ کوکیز گوگل اور فیس کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ ان کے ذریعے وہ ان اشتہارات کو مخصوص شکل دینے کے قابل ہو جاتے ہیں جو ان کی آمدن کا بنیادی ذریعہ ہیں۔

 
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سی این آئی ایل کے ڈیٹا کی حفاظت اور پابندیوں کے شعبے کے سربراہ کیرن کیفر کا کہنا ہے کہ’جب آپ کوکیز کو قبول کرتے ہیں تو ایسا صرف ایک کلک میں ہو جاتا ہے۔ کوکیز کو مسترد کرنا اتنا ہی آسان ہونا چاہیے جتنا انہیں قبول کرنا۔‘

دوسری جانب گوگل کے ترجمان کے بقول: ’لوگ ہم پر اعتماد کرتے ہیں کہ ہم ان کے رازداری کے حق کا احترام کریں اور انہیں محفوظ رکھیں گے۔ ہم اس اعتماد کو قائم رکھنے کی ذمہ داری سے آگاہ ہیں اور ہم نے اس فیصلے کی روشنی میں مزید تبدیلیوں اور سی این آئی ایل کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم رکھا ہے۔‘فیس بک نے تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی