گوگل کو پیچھے چھوڑ کر ٹک ٹاک نمبر ون کیسے بنی؟

ٹک ٹاک بالکل عام آدمی کی ایسی دنیا ہے جس میں صرف اسے جگہ ملے گی جو پانچ دس یا تیس سیکنڈ میں کچھ بھی ایسا کر کے دکھا دے جسے دوسرے نہ کر سکیں۔

پرفارمنگ آرٹ کی تاریخ میں اس سے بڑا پلیٹ فارم آپ کو کبھی کہیں نہیں ملے گا (ٹک ٹاک/ سکرین گریب)

ویب سائٹ کلاؤڈ فلیئر کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ٹک ٹاک سرچ انجن گوگل کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویب سائٹ بن گئی ہے۔

وائرل ویڈیو ایپ ٹک ٹاک نے کئی دہائیوں سے جاری گوگل کا غلبہ ختم کر دیا، گوگل جو 2020 اور 2021 کی پہلی سہ ماہی میں سب سے زیادہ مقبول ڈومین تھا۔

گوگل ڈاٹ کام جس میں نقشے، ترجمہ، تصاویر، پروازیں، کتابیں، خبریں اور دیگر شعبے شامل ہیں، اپنے نوزائیدہ حریف کی طرف سے درپیش چیلنج کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہا جس کے اب دنیا بھر میں ایک بلین سے زیادہ فعال صارفین ہیں۔

کلاؤڈ فلیئر کے مطابق ’10 اگست 2021 کے بعد ٹِک ٹاک اس برتری میں واضح طور پر سامنے آیا، کچھ دن ایسے تھے جب گوگل نمبر ون تھا لیکن اکتوبر اور نومبر زیادہ تر دن ٹک ٹاک کے تھے۔‘

ٹک ٹاک ڈاٹ کام نے گوگل کے ساتھ ساتھ ایمازون، ایپل، فیس بک، مائیکروسافٹ اور نیٹ فلکس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ٹک ٹاک نمبر ون کیسے بنی؟

دنیا میں ہر انسان کو شوق ہوتا ہے کہ وہ دوسروں سے ہٹ کر کوئی کام کرے، وہ مشہور ہو، اسے جانا جائے، لوگ اسے ایک ماڈل کے طور پر دیکھیں اور وہ سب میں الگ پہچانا جائے۔ کچھ لوگ اس شوق کو پورا کر پاتے ہیں جب کہ بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو ناکافی وسائل کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

ٹک ٹاک ایسا پورٹل ہے جہاں ان سب چیزوں کو بالکل لفٹ نہیں ملتی جو فیس بک یا ٹوئٹر پہ ایک سلیبرٹی کر سکتا ہے۔ وہ بالکل عام آدمی کی ایسی دنیا ہے جس میں صرف اسے جگہ ملے گی جو پانچ، دس، پندرہ یا تیس سیکنڈ میں کچھ بھی ایسا کر کے دکھا دے جسے دوسرے نہ کر سکیں۔

ٹک ٹاک کی مقبولیت میں دوسری وجہ اس کا آسان ترین ویڈیو ایڈیٹر ہے۔ آپ کمپیوٹر پہ بیٹھیں اور کسی ویڈیو کو اس طرح ایڈٹ کر کے دکھائیں جیسے ٹک ٹاکر کرے ہیں، پسینے آ جائیں گے۔ آپ نہیں کر سکتے اس وقت تک کہ جب تک آپ پرو لیول ایڈیٹر نہ ہوں۔ ٹک ٹاک نے یہ سہولت بڑے آرام سے عام آدمی کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ سوشل میڈیا پہ اس سے پہلے جتنے بھی سوفٹ وئیر آئے ان میں کچھ بھی پوسٹ کرنے کے لیے آپ کو پہلے باہر محنت کرنا پڑتی تھی، چیز بنائی ایڈٹ کی، یا تصویر لی، اسے سیٹ کیا، بعد میں پوسٹ کیا۔ یہاں ایسا نہیں ہے۔

وہیں ویڈیو بنائیں، اس میں بیگ گراؤنڈ میوزک ڈالیں، ایکو شامل کریں، ناچیں، گائیں، پوز کریں، جمناسٹک دکھائیں، چھلانگیں ماریں ۔۔۔ کچھ بھی کریں، وہ ایک بالکل نئی دنیا ہے اور ہر صارف کے لیے بالکل خالی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پرفارمنگ آرٹ کی تاریخ میں اس سے بڑا پلیٹ فارم آپ کو کبھی کہیں نہیں ملے گا۔ کرونا کے دنوں میں جہاں زوم جیسے آن لائن رابطے کی ایپلیکشنز کو فائدہ ہوا وہیں سوشل میڈیا ویب سائٹس میں ٹک ٹاک تیزی سے آگے نکلی لیکن گوگل کو پیچھے چھوڑ دینا ایسا ریکارڈ ہے جو شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

ٹک ٹاک کے بارے میں آپ نے صرف ناچ گانے کا تعارف سنا ہو گا۔ یار اس پہ ایکٹر موجود ہیں، پرفارمر ہیں اور ایسے عام آدمی، پسے ہوئے طبقے کے لوگ جنہیں زندگی بھر نہ آپ کبھی جان سکتے ہیں اور نہ ان کے بارے میں آپ نے کبھی سوچا ہو گا۔ ناچیز کے نام سے ایک صاحب کا اکاؤنٹ ہے، ان کی نوے فیصد ویڈیوز ریت میں موم پھلی یا کچھ بھی بھونتے ہوئے آتی ہیں۔ وہ میرے فیورٹ ہیں۔ سادہ آدمی، شدید ایکسپریشن، بھرپور ڈانس، کوئی جھجھک نہیں، بقول شخصے ایسے ناچتے ہیں جیسے کوئی دیکھ نہیں رہا اور یہ سب سے بڑا آرٹ ہے۔ ایک اور نوجوان ہیں وہ برف کی سلیں بنانے والے کارخانے میں کام کرتے ہیں، ہر دوسرے دن ایک برف کا پھٹا لڑھکاتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ چلے آتے ہیں، لیکن یار، ایکسپریشن! اعتماد! یہ سب کس نے دیا؟ ٹک ٹاک نے۔

ایک صاحب رئیل سٹار کے نام سے ہیں، ایسا حلیہ جیسے آپ کے یہاں سبزی بیچنے کے لیے کوئی ادھیڑ عمر آدمی آئے، وہ بھی شاید یہی کوئی کام کرتے ہوں لیکن کیا نئے نویکلے آئیڈیے لے کر آتے ہیں! ان کے بھی 85 ہزار کے قریب فالوور ہیں۔ وہ سب فالوور کون ہیں؟ وہ پچاسی ہزار لوگ آخر کون ہوں گے؟ وہ ان میں سے ہیں جن کے لیے اب تک کوئی دنیا ایسی نہیں تھی جہاں اداکار بھی وہی ہوں اور تماشائی بھی خود آپ۔

آپ میں سے کتنے لوگ لکی ایرانی سرکس گئے ہیں؟ کسی ایک کرتب دکھانے والے کو بھی اس کے نام یا شکل سے جانتے ہوں؟ادھر ٹک ٹاک پہ رنگ ماسٹر بھائی بھی موجود ہیں جو شیروں کے ساتھ ویڈیو ڈالتے ہیں، جمناسٹک کرنے والی خاتون بھی ہیں، رسے پہ چلنے والے صاحب کا بھی لاکھوں فالوورز کے ساتھ اپنا اکاؤنٹ ہے، ایسا کب کہاں ممکن تھا؟ ایک چھوٹا سا پی ٹی وی اور آٹھ سے نو کا پرائم ٹائم؟  ابھی بیس سال پہلے تک دنیا بہت چھوٹی تھی!

ٹک ٹاک نے یوٹیوب کو مجبور کیا کہ وہ ’شارٹس‘ نامی چھوٹی ویڈیوز کا سلسلہ شروع کرے، ٹوئٹر کو ’فلیٹس‘ پہ اکسایا، کئی دوسری ایپس اس سے متاثر ہو کے بنیں لیکن ٹک ٹاک بنا کیسے؟

ٹک ٹاک کب اور کیسے بنی؟

2014 میں ایک ایپ آئی ’میوزیکلی‘ کے نام سے، اس میں بھی لوگ مشہور گانوں پہ پرفارم کرتے تھے یا بس منہ ہلا دیتے تھے، 2017 تک 200 ملین سے زیادہ یوزر ہو چکے تھے اس کے۔ 2016 میں چینی کمپنی بائٹ ڈانس نے اس کے مقابل ’ڈوئن‘ کے نام سے ایپ کھڑی کی، وہی ایپلیکشن بعد میں ٹک ٹاک کے نام سے ری برینڈ ہوئی، 2017 کے اواخر میں میوزیکلی کو بھی ٹک ٹاک والوں (یعنی بائٹ ڈانس کمپنی) نے خرید لیا اور دونوں کے صارفین ایک ہی جگہ ٹک ٹاک پر اکٹھے کر دیے۔ میوزیکلی اور ٹک ٹاک جب اکٹھے ہو گئے تو مقابلہ کوئی نہیں تھا بس چھت پھاڑ کامیابی تھی!

ٹک ٹاک پہ آپ کیا کر سکتے ہیں؟

جائیں، اکاؤنٹ بنائیں، جو کچھ آپ کی وال پہ آتا ہے اسے دیکھیں، لوگوں کو فالو کریں، مطلب کا مال ڈھونڈیں، غور کریں کہ آپ کی فیلڈ میں ادھر کیا چل رہا ہے۔ جیسے ایک صاحب بالوں کی وگز بناتے ہیں، لوگ ان کی ویڈیوز دیکھ کے ان سے رابطہ کرتے ہیں اور ان کا بزنس چمک رہا ہے۔ ایک صاحب درزی ہیں، وہ اپنے کپڑے خود ماڈل کر رہے ہوتے ہیں، کوئی ڈانس اچھا کر رہا ہے، کوئی گا اچھا رہا ہے، کوئی کتابیں بیچ رہا ہے، بڑے بڑے نیوز چینل بھی وہاں موجود ہیں لیکن شرط کیا ہے؟ 15 سیکنڈ!

پندرہ سیکنڈ کی قیمت اگر رمیش بابو جانتے ہیں تو ان سے زیادہ وائرل کوئی نہیں ہو سکتا۔ ٹک ٹاک پہ سب سے بڑی سائنس یہی ہے۔ ویڈیوز آپ لمبی بھی ڈال سکتے ہیں لیکن پندرہ سیکنڈ سے زیادہ کم ہی ہٹ ہوتی ہے۔

یہ ایک نئی دنیا ہے، اس وقت کی نمبر ون ایپ اور آپ اب تک جا کے جھانکے بھی نہیں؟ جائیے اور اپنی جگہ بنائیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی