ٹک ٹاک فنکار کے قتل پر افغان طالبان کا یوٹرن

قندھار کے ایک مقامی مزاحیہ ٹک ٹاک فنکار نذر محمد ’خاشہ‘ کے قتل سے مکمل انکار کے بعد طالبان نے موقف بدلتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ نذر محمد  خاشا کسی زمانے میں پولیس اہلکار تھے اور اپنے لطیفوں کے سبب کافی مشہور تھے (آر ٹی اے)

افغانستان میں طالبان نے جنوبی صوبے قندھار کے ایک مقامی مزاحیہ ٹک ٹاک فنکار نذر محمد ’خاشہ‘ کے قتل سے مکمل انکار کے بعد کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

طالبان کے موقف میں تبدیلی کا باضابطہ اعلان اس وقت آیا جب چند روز پہلے ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں نذر محمد کو بظاہر طالبان دکھائی دینے والے چند افراد کی حراست میں گاڑی کی پچھلی نشست پر دیکھا گیا۔

یرغمال بنانے والے کلاشنکوف سے مسلح افراد انہیں تھپڑ رسید کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کے ہاتھ بظاہر بندھے ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس قتل کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی صارفین نے قتل کو ’بلاجواز ظلم‘ قرار دیتے ہوئے طالبان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے سات جولائی کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ قندھار شہر میں ایک حملے میں خاشہ مارے گئے تھے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ نذر نے مذہبی رہنماؤں اور طالبان قیدیوں کی توہین کی۔

اس واقعے پر طالبان کے موقف میں بار بار تبدیلیاں آئیں۔ دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے پہلے اس قتل سے انکار کیا لیکن جب تازہ ویڈیو سامنے آئی تو کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

نذر محمد عید کے لیے قندھار آئے ہوئے تھے جب انہیں ان کے گھر سے حراست میں لے کر مار دیا گیا۔

سینیئر صحافی سمیع یوسف زئی نے افغان فنکار کی زیر حراست ویڈیو شیئر کی تھی۔

طالبان کے عسکری امور کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے نذر کی گوریلا حملے میں ہلاکت کی بات کی لیکن اس گروپ کے ایک اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نذر نے حراست میں لیے جانے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی جس دوران وہ مارے گئے۔

اسلام آباد میں مقیم سینیئر صحافی طاہر خان نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ طالبان کی ایک ٹیم ان افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

انہوں نے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حوالے سے کہا کہ طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔

ویڈیو میں ایک بندوق بردار شخص نذر محمد ’خاشہ‘ پر چیختا ہوا سنا جا سکتا ہے، جن کے بارے میں وہ کہہ رہا ہے کہ وہ ایک عسکریت پسند ہیں اور جنھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

امریکی انخلا کے ساتھ ساتھ تیزی سے افغان علاقوں پر قبضہ کرنے والے طالبان کو حالیہ دنوں میں یہ سب سے بڑا منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کئی مبصرین کا اصرار ہے کہ اگر یہ سچ ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ طالبان تبدیل نہیں ہوئے۔

ان کی لاش اہل خانہ نے وصول کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ خاشہ کسی زمانے میں پولیس اہلکار تھے اور اپنے لطیفوں کے سبب کافی مشہور تھے اور سوشل میڈیا پر ان کی بڑی فالوؤنگ تھی۔

افغانستان کے پہلے نائب صدر امر اللہ صالح نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ ’قندھار کے خاشہ کی ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان شریعت کے پابند نہیں۔ ان کی عدالت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی قانون اور انسانیت ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے افغان فنکاروں، مزاح نگاروں اور دیگر شعبوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قتل کی مذمت کریں اور آواز بلند کریں۔

سری لنکا میں افغانستان کے سفیر محمد اشرف حیدری نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ خاشہ کی غیرقانونی ہلاکت نے افغان عوام کے دل توڑ ڈالے ہیں اور وہ طالبان اور اس کے حامیوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتون نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’یہ طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ایک مزاحیہ اداکار کی لاش ہے۔ جب سے دوحہ مذاکرات کے نتائج کو متنازع بنایا گیا ہے تب سے دنیا طالبان کے مظالم پر خاموش ہے۔ پشتونوں کے خلاف افغان سرزمین پر جنگ کی ایک نئی شکل جاری ہے۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاست دان اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے خاشہ کے قتل کے حوالے سے ٹویٹ کی کہ کچھ لوگ اب بھی طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعتراف کیا کہ یہ ہلاکت طالبان کی پالیسی سے متصادم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا اور اس میں ملوث افراد کو جواب دہ بنایا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن