گوادر: ’رات کو نیند نہیں آتی کہیں گھر کی چھتیں ہم پر نہ گر پڑیں‘

گوادر کے مکین حالیہ تباہ کن بارش کے بعد آسمان پر بادل کو دیکھ کر خوف زدہ ہیں کہ اگر یہ دوبارہ اسی انداز میں برس پڑے تو ان کے لیے کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں بچے گا۔

گوادر سٹی میں تین دن پہلے ہونے والی تیز بارش سے جمع ہونے والا پانی بدستور کھڑا ہے (تصویرنوید محمد)

منگل کی شب بلوچستان کے ساحلی علاقوں اور مکران ڈویژن میں غیر معمولی بارشیں ہوئیں جس سے اربن فلڈنگ کی صورت حال پیدا ہو گئی اور گوادر سب سے زیاہ متاثر ہوا۔ 

یہ غیر معمولی اور موسلادھار بارش رات 12 بجے شروع ہوئی جس کی وجہ سے رات کے تیسرے پہر لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہونا شروع ہو گیا۔ 

گوادر کی بخشی کالونی کے خیر محمد نے بتایا کہ  صورت حال ایسی تھی کہ باہر بارش ہو رہی تھی اور گھر کے اندر پانی جمع ہونا شروع ہو چکا تھا۔ ’ہم اس وقت یہی سوچ رہے تھے کہ بس اللہ کا آسرا ہے اور کوئی مدد ہمیں حاصل نہیں۔‘  

انہوں نے بتایا کہ وہ رات بہت خوف ناک تھی اور ’ہم سب گھر میں جمع ہوکر بارش کی تیز ہوتی ہوئی آواز سن رہے تھے۔‘ 

خیر محمد کے مطابق آج بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔ ’میرے سمیت ہماری کالونی کے اکثر لوگوں کے گھروں میں پانی کھڑا ہے، جس سے دیواروں اور کمروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت روزگارہ کی فکر چھوڑ کر گھروں سے پانی نکالنے اور انہیں بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ’بچے کہیں اور ہیں۔ ان کی حالت کیا ہے یہ بھی معلوم نہیں۔‘ 

ٹی ٹی سی کالونی گوادر کے رہائشی ذاکر کہتے ہیں کہ صورت حال یہ ہے کہ ہمیں رات کو نیند نہیں آتی کہ کہیں چھت ہم پر گر نہ جائے۔ 

’بارش بند ہونے کے بعد ہم گذشتہ تین دن سے گھروں سے پانی نکالنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جب بارش ہوئی اور پانی آٰیا تو ہم اپنے کو انتہائی بے بس اور بے یارومددگار محسوس کررہے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر کو پانی نے نقصان پہنچایا، دیواریں گر گئی ہیں اور چھتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ 

ذاکر کے مطابق اس کالونی کے جن لوگوں کے گھروں میں پانی نہیں آیا ان کو بھی بارش نے متاثر ضرور کیا ہے، اکثر مکین رہائش کے حوالے سے پریشان ہیں۔ ’حکومت کو چاہیے کہ ہماری مدد کرے۔ اس وقت ہم کہہ سکتے ہیں کہ کالونی میں سو فیصد گھر متاثر ہوئے ہیں۔‘ 

سماجی کارکن محمد شریف میانداد جو ٹی ٹی سی کالونی کے رہائشی ہیں، اس وقت لوگوں کے گھروں سے پانی نکالنے اور ان کی مدد میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کالونی میں سو سے زائد گھر متاثر ہوئے ہیں۔ جو اس وقت کھانے پینے کی قلت اور رہائش کے معاملے میں پریشانی کا شکار ہیں۔ 

محمد شریف میانداد کہتے ہیں: ’ہم اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کی مدد کررہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ٹینکر بھی لا کر لوگوں کے گھروں سے پانی  نکال رہے ہیں۔‘ 

انہوں نے بتایا کہ کالونی میں اکثر لوگوں کی گھروں کی چاردیواری متاثر ہوئی اور بعض لوگوں کے مکان گر چکے ہیں یا کمروں کو نقصان پہنچا ہے۔ بعض کو ابھی تک کھانے پینے کی چیزیں بھی نہیں ملیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت گوادر میں دوبارہ بادل آ چکے  ہیں اور ہلکی بارش ہورہی ہے۔ 

آٹھ افراد پر مشتمل خاندان کے رکن در محمد کی کہانی بھی مختلف نہیں جو کہتے ہیں کہ ان کے گھر گر چکے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ جب بارش ہوئی تو ’ہم نے بچوں کو نکالا اورانہیں پڑوس  کے گھروں میں منتقل کردیا۔ میرے گھر میں پانی اب بھی موجود ہے۔‘

درمحمد نے بتایا: ’حکومتی لوگ آرہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ آپ لوگوں کو گھر کا بنا کر دیں گے۔ میرے گھر کے دیواریں اور کمرے گر گئے ہیں۔‘

وزیراعلی بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ  حکومت قدرتی آفات سے اسی وقت مؤثر طور میں نمٹ سکتی ہے جب متعلقہ ادارے ہنگامی  صورت حال سے نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کی بحالی حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہم اپنی یہ ذمہ داری پوری کریں گے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے سروے کے بعد ان کا ازالہ  کیا جائے گا۔ 

وزیراعلیٰ بلوچستان نے گذشتہ دنوں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے دورے کے موقعے پر اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں انہیں حالیہ بارشوں اور برف باری سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں، موسم کی صورت حال اور دیگر متعلقہ امور پر بریفنگ دی گئی۔  

اس موقعے پر سینیئر صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی اور چیف سیکریٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا بھی موجود تھے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نصیر خان ناصر نے بریفنگ دی۔ 

دوسری جانب ریلیف کمشنر اور صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے تحصیل گوادر، تحصیل پسنی، ضلع گوادراور سب تحصیل بل نگور ضلع کیچ میں ایمرجنسی نافذ کرکے ان کا آفت زدہ علاقہ قراردے دیا ہے۔ 

ادھر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے پاکستان کے محکمہ موسمیات کے پریس ریلیز میں کی جانے والی پیش گوئی کی بنیاد پر بلوچستان کے بعض علاقوں میں بارش، برف باری اور بعض مقامات پر زیادہ برف باری کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا۔ 

الرٹ میں کہا گیا کہ چھ اور سات جنوری کے دوران کوئٹہ، زیارت، پشین، ژوب، قلعہ عبداللہ، نوکنڈی،دالبندین، نوشکی، تربت،پنجگور، گوادر، پسنی، جیونی، لسبیلہ، قلات، خضدار، مستونگ، نصیر آباد، جعفرآباد، جھل مگسی، بولان، سبی، کوہلواور بارکھان میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری کا امکان ہے۔ 

الرٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ زیادہ برفباری کوئٹہ، پشین، زیارت، قلعہ عبداللہ، ہرنائی اور چمن میں ہونے کا امکان ہے جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور مشینری کو چوکس کرنے اور لوگوں کو پکنک پوائنٹس پر جانے سے روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ 

پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم کے حکام نے بتایا کہ اس وقت گوادر میں نقصانات کا سروے جاری ہے۔ کیچ میں بارش کے بعد سیلابی ریلوں سے 200 گھروں کو نقصان پہنچا۔  

ادھر حق دو تحریک کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گوادر میں طوفانی بارشوں کے بعد اپنے قائد کی ہدایت پر حق دوتحریک کے کارکن ہنگامی بنیادوں پر پورے گوادر میں روز اول سے شب و روز امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ جب تک عوام کو مدد کی ضرورت ہوگی تحریک کے کارکن میدان میں موجود رہیں گے۔  

گوادر سے رکن صوبائی اسمبلی میرحمل کلمتی نے ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے مجیب قمبرانی کے ہمراہ ٹی ٹی سی کالونی گوادر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔  

انہوں نے تمام ذمہ دار افراد کو ہدایات کی کہ ٹی ٹی سی کالونی سمیت شہر بھر میں جمع ہونے والے پانی کو نکالا جائے اور شہریوں ہر ممکن تعاون یقینی بنایا جائے۔ 

گوادر کے سماجی کارکن اور وی لاگر نوید محمد نے بتایا کہ اس وقت گوادر کا پرانا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ 

نوید کے مطابق: ’جن علاقوں کا دورہ کرکے ہم نے جائزہ لیا ان میں گوادر سے متصل علاقہ ملا بند مکمل طور پر متاثر ہوا ہے۔ وہاں سے آگے شادو بند وارڈ ہے۔ اولڈ سٹی میں ملا فاضل چوک اور عثمانیہ وارڈ  بہت متاثر ہوئے ہیں۔‘ 

ان کا کہنا تھا کہ کہ بعض علاقوں میں پانی موجود ہے اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جو ٹینکر دیا گیا ہے اس کا پمپ چھوٹا ہے جس کی وجہ سے ایک گھر سے  پانی نکالنے میں چار سے پانچ گھںٹے لگتے ہیں۔ 

جہاں ایک طرف گوادر کے مکین پریشان ہیں وہیں گوادر ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے دفتر کو بھی بارش کے پانی نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ادارے کے جنرل سیکریٹری کے بی فراق نے بتایا کہ اس ادارے کو بنانے میں ایک دہائی کا عرصہ لگا۔ ’بارش نے ہمارے دفتر اور کتب خانے کا نقصان پہنچایا ہے۔‘

انہوں نے بتایا  کہ بارش کی وجہ سے ہماری شائع کردہ بعض کتابیں بھی ضائع ہوگئیں۔ کمپیوٹر اور دیگر سامان بھی متاثر ہوا۔ شدید بارش کے باعث ایک دفتر چھت تک پانی سے بھر گیا۔

گوادر کے مکین تین روز قبل طوفانی بارش کا سامنا کرنے کے بعد اب آسمان پر بادل کو دیکھ کر خوف زدہ ہیں کہ اگر یہ دوبارہ  اسی انداز میں برس پڑے تو ان کے لیے کوئی محفوظ ٹھکانہ باقی نہیں بچے گا۔

چمن میں بارشوں سے تقصان

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گوادر کے علاوہ صوبے میں جاری حالیہ شدید برف باری و بارشوں نے مختلف علاقوں میں تبائی مچائی ہے۔

پاکستان ہلال احمر نے چمن کے تین مختلف علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ لگا کر زخمی افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی۔

چمن کے کئی علاقوں میں بارشوں کے باعث سیلابی ریلوں سے نظام زندگی درہم برہم ہوا ہے، جس میں کلی محمود آباد، کلی حاجی اکبر، کلی عبدالحلیم، کلی روزی کلی ڈایان، شین تالاب، مردہ کاریز اور سرکی تلیری شامل ہے۔  

 بارشوں سے ندی نالیوں میں طغیانی اور سیلابی ریلے گھروں میں داخل ہونے سے 140 سے زائد گھروں کے دیواریں اور کمرے گری ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان