سندھ: مون سون بارشوں کا پانی تین ماہ بعد بھی موجود

مقامی افراد کے مطابق ضلع سانگھڑ اور عمرکوٹ کے کئی علاقے اب بھی زیر آب ہیں جس کے باعث گندم کی کاشت نہیں ہو پائی ہے۔

سندھ کے اضلاع میں کھڑے بارش کے پانی سے پولیو ورکرز کو بھی کام میں مشکلات کا سامنا ہے (تصویر:گووند رام)

رواں سال مون سون کی شدید بارشوں کے بعد سندھ حکومت نے کئی اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان سے بارش کے پانی کی نکاسی کے کئی اعلانات بھی کیے تھے، مگر تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود سانگھڑ اور عمرکوٹ کے کئی علاقوں میں بارش کا پانی اب بھی کھڑا ہے۔

ضلع سانگھڑ کی کھپرو تحصیل کے مقامی کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے کے باعث بڑے رقبے پر گندم کی کاشت نہیں ہوسکی ہے جس سے آئندہ ماہ میں گندم کے بحران کا امکان ہے۔ 

واضح رہے کہ اگست کے آخری ہفتے اور سمتبر کے شروعاتی دنوں میں شدید مون سون بارشوں کے بعد سندھ کے 20 اضلاع متاثر ہوئے تھے، جن میں زیریں سندھ کے اضلاع سانگھڑ اور عمرکوٹ شدید متاثر ہوئے تھے۔ محکمہ آفات و انتظام کاری سندھ کے مطابق مون سون بارشوں کے دوران سندھ کے اضلاع میں 18 لاکھ 90 ہزار لوگ متاثر ہوئے تھے۔

 ’مرغے تو مل گئے مگر پانی کب جائے گا؟‘

مون سون بارشوں کے بعد سانگھڑ کی کھپرو تحصیل کے علاقے کھاہی کے ایک بچے احمد مری کی ایک ویڈیو وائرل ہوگئی تھی جس میں وہ بارش کا گندا پانی پینے سے ان کے مرغے کی موت پر سیاست دانوں پر برہم تھے۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سندھ کے کئی وزیروں، مشیروں اور ارکان صوبائی سندھ نے احمد مری سے ملاقات کی اور انہیں مرغے تحفے میں دیے، جن میں سے تین مرغے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے بھی بھیجے گئے تھے۔  

احمد مری کے والد ربنواز مری کے مطابق ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں آٹھ مرغے ملے تھے مگر گندے پانی کی وجہ سے ان میں سے سات مر گئے اور ایک بچے ہوئے کو انہوں دور رشتہ داروں کو بھیج دیا جن کی طرف بارش کا پانی اب بھی جمع نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: ’مرغے ملنے کے بعد ہم نے پوچھا کہ مرغے تو مل گئے پانی کب نکلے گا؟ تو میری ذاتی 13 ایکڑ زرعی زمین سمیت میرے خاندان کے دیگر لوگوں کی 48 ایکڑ زمین سے حکومت نے موٹر سے پانی نکال دیا، مگر اس عمل میں بھی اتنی دیر ہوگئی تھی کہ ہم گندم کی کاشت نہیں کرسکے۔‘

ربنواز مری کے مطابق: ’ہماری زمین سے تو پانی نکل گیا مگر ہمارے علاقے کا بڑا زرعی رقبہ تاحال زیر آب ہے اور اس سال گندم کی بوائی نہیں ہوسکی ہے۔‘

بیماریوں کا خدشہ

سندھ آبادگار ایسوسی ایشن کے رہنما زاہد حسین بھرگڑی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سندھ میں گندم کی پیداوار کے لحاظ سے ضلع خیرپور کے بعد سب سے زیادہ رقبے پر گندم کی ضلع سانگھڑ میں کاشت کی جاتی ہے۔   

کھپرو تحصیل کے علاقے کھائی کے صحافی طاہر مری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’مون سون بارشوں کے بعد سانگھڑ کے بالائی اضلاع سے پانی ہمارے علاقے میں پہنچا اور یہ پانی کو زیریں اضلاع سے ہوتے ہوئے سمندر کو چلے جانا تھا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ پانی کے بہاؤ کو روڈ نے روکا ہوا تھا، تو پہلے روڈوں کو مختلف جگہوں سے کاٹ کر پانی بہانے کی کوشش کی گئی، مگر پانی پھر بھی نہیں نکل سکا۔‘

طاہر مری کے مطابق کھائی سانگھڑ میں گندم کی پیداوار کے لیے اہم علاقہ سمجھا جاتا ہے مگر بارش کا پانی کھڑے ہونے  کی وجہ سے گندم کی بوائی نہیں ہوسکی ہے۔ ’بمشکل 50 فیصد رقبے پر گندم کی بوائی ہوسکی، جبکہ باقی زرعی رقبے پر تین ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود تین سے چار فٹ پانی کھڑا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کئی دیہات تاحال زیر آب ہیں اور کھڑے پانی کے باعث مچھروں کی افزائش ہورہی ہے جس سے آنے والے دنوں میں علاقے میں ملریا اور دیگر امراض کا خدشہ ہے۔   

کھائی شہر کے ایک مقامی پولیو ورکر کے مطابق راستے تاحال زیر آب ہونے کی وجہ سے پولیو مہم چلانے میں بھی شدید مشکالت کا سامنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ضلع عمرکوٹ کی تحصیل سامارو بھی گندم کی پیداوار میں شہرت رکھنے والے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں بڑے رقبے پر اب بھی سیلابی پانی کی نکاسی نہیں ہوسکی ہے۔  

سامارو میں سندھی اخبار ’کاوش‘ اور چینل ’کے ٹی این نیوز‘ کے صحافی سریش مالہی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’سامارو تحصیل میں گندم ایک بمپر فصل سمجھی جاتی ہے، مگر اس سال بہت بڑا رقبہ زیر آب ہونے کی وجہ سے گندم کی بوائی نہیں ہوسکی ہے۔ اگر ہوئی بھی تو سیم کی وجہ سے پیداور اچھی نہیں ہوگی۔ سامارو تحصیل کے چھوٹے، بڑے شہر اور دیہات تین ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود زیر آب ہے۔‘

مون سون کی شدید بارشوں کے وقت ان اضلاع میں ’کیش کراپ‘ یعنی منافع بخش فصلیں بشمول کپاس اور مرچ کی فصل تیار تھی جو بارشوں کے باعث مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ مون سون بارشوں کے بعد فصلوں کے نقصان کا تخمینہ لگاتے ہوئے ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی سندھ نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ مون سون بارشوں کے باعث سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ اور بدین اضلاع میں پانچ لاکھ ایکڑ پر موجود فصل متاثر ہوئی ہے۔ مگر نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ دوسرے فصل یعنی گندم بھی کاشت نہیں ہوسکی ہے، جس کے باعث کاشت کاروں کو دوگنا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔  

تین ماہ بعد امداد کی رقم مختص

اس حوالے سے جب حکومتی موقف کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا: ’مون سون کی شدید بارشوں کے دوران سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی تھی اور ان اضلاع میں کئی انسانی آبادیاں زیر آب آگئی تھیں، لوگ نقل مکانی کرکے روڈوں پر کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے تھے، ہزاروں لوگ سندھ حکومت کی کیمپوں میں آگئے تھے، تو ہم نے ترجیحی بنیادوں پر انسانی آبادیوں سے پانی کی نکاسی کی، تاکہ آبادی کو بحال کیا جاسکے۔‘

تین مہینوں سے زائد عرصے تک پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے عبدالرشید چنا نے کہا: ’گذشتہ مون سون کے دوران 70 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔ اتنی بارش کی توقع بھی نہیں تھی۔ تو پہلے سندھ حکومت نے انسانی آبادیوں سے نکاسی آب کی، مگر کیوں کہ پانی کے نکلنے کا قدرتی راستہ نہیں ہے اس لیے ابھی تک پانی موجود ہے۔ حکومت سروی کر رہی ہے کہ اس پانی کو کیسے نکالا جائے۔ جلد ہی یہ پانی نکال دیا جائے گا۔‘

سندھ حکومت نے بارش سے متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار تو دیا تھا، مگر اس کے ساتھ ساتھ فصلوں اور گھروں کے نقصان اور ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے معاوضے کا بھی اعلان کیا تھا جو متاثرین کو تاحال نہیں مل سکا ہے، بلکہ تین ماہ بعد بدھ (نو نومبر) کو بارش متاثرین کی مالی مدد کے لیے چار ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ 

ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا کے مطابق وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بارشوں میں 149 لوگ ہلاک ہوگئے، اور کابینہ نے ہلاک ہونے والے ہر فرد کے خاندان کو ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کی منظوری دے دی، جبکہ زخمی ہونے والے افراد کو 25 ہزار فی شخص دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ بارش سے متاثر مکان کے لیے 10 ہزار روپے، مرنے والے بڑے جانور بشمول بھینس کا معاوضہ 10 ہزار اور چھوٹے جانور کے لیے پانچ ہزار روپے دینے کی منظوری دی گئی ہے۔    

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان