سانگھڑ: خیمہ بستی میں مقیم سیلاب متاثرین کا امداد نہ ملنے کا شکوہ

مون سون بارشوں میں گھر ڈوب جانے کے بعد حکومت کی قائم کردہ خیمہ بستی میں رہنے والے افراد کا کہنا ہے کہ نہ کھانا پانی ملا ہے نہ مچھر دانیاں۔ تاہم ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکا کہنا ہے کہ متاثرین کو امداد فراہم کی گئی ہے۔

صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے ہتھنگو اچھڑو تھر میں یہ خیمہ بستی تقریباً ایک مہینے سے قائم ہے۔

حکومت سندھ کی جانب سے قائم کردہ اس خیمہ بستی میں سینکڑوں افراد پناہ لیے ہوئے ہیں جن کے گھر حالیہ بارشوں میں ڈوب گئے۔

ان افراد کا تعلق ضلع سانگھڑ کے مختلف علاقوں سے ہے تو بیراجی علاقوں سے یہاں آئے ہیں۔ یعنی وہاں دریا کا پانی پہنچتا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ حالیہ تاریخ میں پہلی بار اچھڑو تھر کی طرف اتنی بڑی نقل مکانی ہوئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ضلع سانگھڑ میں بارش سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً دو لاکھ ہے۔

ہزاروں خاندان اس خیمہ بستی سے باہر بھی صحرا میں آباد ہیں۔

اللہ بخش خاصخیلی کے خاندان نے 50 کلومیٹر دور سے اس خیمہ بستی میں پناہ لے رکھی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


ان کا کہنا ہے کہ بارش سے ان کے گھر ڈوب گئے اور کھڑی فصلیں زیر آب آ گئیں۔

انہوں نے کہا کہ اس خیمہ بستی میں کوئی سہولت نہ ہونے کے باعث وہ کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کا سوچ رہے ہیں۔

سمیع بیل کا خاندان بھی یہاں پناہ لینے والے خاندانوں میں سے ایک ہے۔

سمیع کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے گھروں سے پانی نکال رہی ہے اس لیے وہ واپس بھی نہیں جاسکتے جبکہ بہت ساروں کے تو گھر بچے ہی نہیں۔

دوسری جانب ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سانگھڑ اسد اللہ کھوسو کے مطابق 'حکومت بارش سے متاثرہ افراد کی مدد کر رہی ہے مگر امداد نہ ملنے کی شکایات کرنا لوگوں کی عادت بن چکی ہے۔'

تاہم وہ لوگوں کے گھروں سے بارش کا پانی نکالنے کا واضح لائحہ عمل واضح کرنے سے قاصر رہے۔
 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان