جمہوریت سے عداوت کیوں؟

قزاقستان کے حالیہ متشدد مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ لمبے عرصے کی آمریت نہ تو معاشی خوشحالی کی ضامن ہے اور نہ ہی ملک کی سلامتی کو یقینی بنا سکتی ہے۔

قزاقستان کے شہر الماتی میں مظاہروں کے دوران پانچ جنوری کو انسداد فسادات فورس کے اہلکار(اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے

 

پاکستان کے 1958 کے پہلے فوجی انقلاب کے بعد سے جمہوریت کے خلاف ایک مہم تسلسل سے چلائی جا رہی ہے جس میں اس بیانیے کو پروان چڑھانے کی کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان کے ’جاہل‘ عوام، جنہیں حال ہی میں ایک نام نہاد دانشور نے ’مصلی‘ قرار دے کر کہا کہ یہ کسی قسم کی جمہوریت یا حقِ رائے دہی کے استعمال کے قابل نہیں ہیں اور ہمارے لیے آمریت بہترین نظام حکومت ہے۔

یہ نام نہاد دانشور لکھاری اپنی بدکلامی میں مزید نیچے گرتے ہوئے اور آئین پاکستان کی توہین کرتے ہوئے جمہوریت کے چاہنے والوں کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور گولیوں کی قیمت بھی ان کے چاہنے والوں سے وصول کرنا چاہتے ہیں۔ بظاہر ان کی اس بدکلامی کا مقصد موجودہ وزیراعظم کو پاکستان کا تقریباً 15 سال کے لیے آمر اعظم بنانے کی خواہش ہے۔ ان کے خیال میں ایک آمر مطلق ہی ملک کو معاشی و سیاسی بلندی پر لے جا سکتا ہے۔

عموماً ان جیسی سوچ رکھنے والوں کو اس حقیقت سے بہت تکلیف ہوتی ہے کہ ’عام مصلی‘ اور ’جاہل‘ عوام کو کیسے یہ حق دیا جائے کہ وہ ملک کو چلانے والے رہنما منتخب کر سکیں۔ ان کے خیال میں یہ حق صرف ان جیسے چند عقل کل کے پاس ہونا چاہیے۔ وہ یہ مطالبہ کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ ملک کی آدھی زندگی ایسے ہی عقل کل اس ملک کو چلاتے رہے اور ان کے بے تحاشا اختیارات اور طاقت  کے باوجود نہ ملک اپنی سلامتی برقرار رکھ سکا اور نہ ہی معاشی طور پر ایک مضبوط ملک بن کے ابھرا۔

ہمارے ملک کے علاوہ دنیا بھر میں بہت سے مطلق العنان آمر لمبے عرصے تک مختلف ممالک پر حکمرانی کرتے رہے لیکن کیا اس سے ان ممالک میں معاشی خوشحالی آ گئی؟ کیا ان ممالک میں غربت کا خاتمہ ہو گیا؟

قزاقستان کے حالیہ متشدد مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ لمبے عرصے کی آمریت نہ تو معاشی خوشحالی کی ضامن ہے اور نہ ہی ملک کی سلامتی کو یقینی بنا سکتی ہے۔ آمریت ہمیشہ ایک مختصر سی اشرفیہ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے اور کہیں بھی جدید تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی جس میں ایک ملک میں عام عوام آمریت کے دور میں مکمل طور پر خوشحال رہے ہوں۔

انڈونیشیا کی 30 سالہ بدترین آمریت میں کچھ معاشی ترقی تو ہوئی لیکن زیادہ تر عوام غربت کا شکار رہی اور آخر کار اس ظلم کے نظام کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ میانمار، مصر اور سوڈان میں لمبے عرصے کی آمریتوں نے عام عوام کی خوشحالی کے لیے کچھ نہیں کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر آمریت اس قدر فائدہ مند ہوتی تو 11 سالہ ایوبی دور ایک متشدد عوامی جدوجہد کے بعد اختتام پذیر نہ ہوتا۔ اگر آمریت اتنی ہی سود مند ہوتی تو آمر یحییٰ خان کے دور میں ملک دولخت نہ ہوتا اور مشرف آمریت کے خلاف پڑھا لکھا طبقہ میدان میں نہ اترتا۔

ہم نے پاکستان میں آمریت کے چار لمبے ادوار دیکھے ہیں اور ان میں سوائے اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے کسی اور طبقے کو کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس کی نسبت جمہوری ادوار میں مقابلتاً عام عوام کو بے شمار سماجی اور معاشی فوائد حاصل ہوئے اور انہی فوائد کے خوف اور جمہوریت کی مضبوطی کے ڈر سے ہمارے کچھ نام نہاد دانشور اور ادارے ان جمہوری حکومتوں کے خلاف ہمہ وقت سازشوں میں مصروف رہے۔ اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے یہ ادارے یا تو منتخب حکومتوں کو بے بنیاد الزامات پر برطرف کرتے رہے یا ان کے خلاف دھرنوں کا اہتمام کرنے میں مصروف تھے یا نگران ججوں کے ذریعے انہیں عدالتی جبر کا نشانہ بناتے رہے۔

ہمارا آئین ایک پارلیمانی جمہوری نظام کی ضمانت دیتا ہے۔ یہی آئین عدلیہ اور فوج کے متعلق تنقیدی بیانات پر تادیبی کارروائی کے بارے میں ہدایات بھی دیتا ہے۔ یہ حیرانی کی بات ہے کہ عدلیہ اپنے بارے میں کسی قسم کے تبصرے پر فوراً توہین عدالت کی تلوار لہرانے لگتی ہے اور یہی اختیار افواج بھی استعمال کرتی ہیں، مگر یہ آئینی ادارے جن کا جمہوریت کا دفاع کرنا عین فرض ہے، جمہوریت کی اس توہین پر خاموش رہتی ہیں۔

ایک نام نہاد دانشور کھلے عام ایک ٹی وی چینل پر جمہوریت کے خاتمے یعنی آئین کی تنسیخ کی بات کرتا ہے، لوگوں کو تشدد پر اکساتا ہے، جمہوریت کے نام لیواؤں کو گولیوں سے چھلنی کرنے کی بات کرتا ہے، مگر ہماری عدلیہ جو ایک ریٹائرڈ جج کے حلف نامے کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے تو فوراً حرکت میں آ جاتی ہے مگر اس توہین آئین  پر خاموش ہے۔

پیمرا جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر تو چینلوں کو نوٹسز جاری کرتا ہے مگر اس توہینِ آئین پر گونگا، بہرا اور اندھا بن جاتا ہے۔ وزیر اعظم اپنی ہتک عزت کے لیے عدلیہ کا دروازہ تو کھٹکھٹاتے ہیں مگر اپنے انتخاب کنندگان کی ہتک عزت پر ان کی زبان گنگ ہے۔

ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کی کیا قائد اعظم ایک آمر تھے؟ کیا وہ پاکستان میں آمریت والا نظام چاہتے تھے؟ کیا پاکستان ایک جمہوری اور آئینی جدوجہد کے بعد معرض وجود میں نہیں آیا؟ اگر پاکستان ایک جمہوری عمل کے ذریعے وجود میں آیا تو کیوں آزادی کے بعد اسے جمہوریت سے محروم کرنے کی باتیں، کوششیں اور سازشیں کی جارہی ہیں۔

اگر ہم نے ایک مضبوط اور متحد ملک کے طور پر ابھرنا ہے تو ہمیں صرف عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی طاقت میں مزید اضافہ ہی نہیں کرنا بلکہ ہماری خصوصی توجہ جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے نہ کہ اس کے خلاف مختلف بے بنیاد الزامات لگا کر اسے بدنام اور کمزور کیا جائے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ