عثمان مرزا کیس:’ریحان کو نہیں جانتی، نہ وہ ویڈیو بنا رہا تھا‘

متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان حلفی میں کہا: ’پولیس نے یہ سارا معاملہ خود بنایا ہے، میں نے کسی بھی ملزم کو شناخت کیا اور نہ ہی کسی پیپر پر دستخط کیے۔‘ 

عدالت نے چھ ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی (فائل تصویر: اسلام آباد پولیس)

اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون کے ایک فلیٹ میں لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کر کے ویڈیو بنانے کے مقدمے میں مبینہ طور پر متاثرہ خاتون نے اپنے ساتھ زیادتی کی تردید کرتے ہوئے پولیس پر جھوٹا کیس بنانے کا الزام لگا دیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کی مقامی عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے مبینہ طور پر متاثرہ خاتون نے کہا کہ انہوں نے کسی ملزم کی شناخت نہیں کی، جب کہ پولیس نے ان سے کئی سادہ کاغذوں پر دستخط لیے اور انگوٹھے لگوائے تھے۔ 

منگل کو لڑکی کی طرف سے سٹیمپ پیپر پر تحریر کردہ بیان حلفی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں جمع کروا دیا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ بیان حلفی بغیر کسی دباؤ کے دیا جا رہا ہے۔  

لڑکی نے بیان حلفی میں کہا کہ وہ کسی بھی ملزم کو نہیں جانتی اور نہ کیس کی پیروی کرنا چاہتی ہیں۔ 

انہوں نے کہا: ’ریحان سمیت میں کسی بھی ملزم کو جانتی ہوں اور نہ مجھ سے زیادتی ہوئی ہے۔‘ 

لڑکی نے اپنے بیان حلفی میں کہا: ’پولیس نے یہ سارا معاملہ خود بنایا ہے، میں نے کسی بھی ملزم کو شناخت کیا اور نہ ہی کسی پیپر پر دستخط کیے۔‘ 

یاد رہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون کے ایک فلیٹ میں چھ افراد نے مبینہ طور پر ایک لڑکے اور لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جب کہ انہیں برہنہ حالت میں ناچنے پر بھی مجبور کیا نیز اس دوران ان کی ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔ 

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد کی عدالت میں جمع کیے گئے چالان کے مطابق عثمان مرزا، حافظ عطا الرحمن، فرحان شاہین، قیوم بٹ، ریحان حسن مغل عمر بلال اور محب بنگش مذکورہ جرائم کے مرتکب ہوئے۔ 

عدالت نے چھ ملزمان پر فرد جرم عائد کیا تھا، تاہم منگل کو مبینہ طور پر متاثرہ لڑکی تمام الزامات سے انکار کر گئیں۔ 

بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک درخواست کے نتیجے میں مقدمے کی کاروائی دو مہینے میں نمٹانے کے احکامات جاری کیے تھے، جب کہ متاثرہ لڑکے اور لڑکی نے 16 جولائی کو اڈیالہ جیل ملزمان کی شناخت بھی کی تھی، جس متعلق لڑکی نے مقامی عدالت کو بتایا کہ انہوں نے کوئی دستخط نہیں کیے۔ 

وکیل شیر افضل نے لڑکی کے بیان کے بعد کہا: ’آج یہ محترمہ کہہ رہی ہیں کہ انہوں (ملزمان) نے کچھ نہیں کیا۔‘ 

اس پر جج محمد عطا ربانی نے کہا: ’اگر تو آپ نے تاریخ لینی ہے تو لے لیں۔‘ 

وکیل شیر افضل نے کہا کہ وہ آج ہی جرح کریں گے۔  

وکیل ملک جاوید اقبال وینس کا کہنا تھا کہ ’ایسی صورت حال میں جرح کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ جب کہ وکیل ظفر وڑائچ نے بھی جرح کرنے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔  

جج محمد عطا ربانی نے وکیل ملک جاوید اقبال سے مکالمے کے دوران کہا: ’اب کیس کو کسی طرف لگانا ہے آپ جرح تو کریں۔‘  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم وکیل آصف بٹ نے کہا کہ وہ جرح کریں گے۔ 

منگل کی پیشی کے دوران مفرور ملزم فرحان شاہین کے وکلا یاسر ملک اور اخلاق اعوان بھی عدالت پہنچ گئے۔ 

مبینہ طور پر متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ملزم ریحان سمیت دیگر ملزمان کو مجھے تھانے میں دکھایا گیا تھا، جب کہ ریحان یا کسی بھی دوسرے ملزم نے ان سے زیادتی کی کوشش نہیں کی۔ 

انہوں نے کہا: ’میں ریحان کو نہیں جانتی اور نہ ہی وہ ویڈیو بنا رہا تھا۔‘ 

سماعت کے دوران لڑکی نے عدالت کو کہا کہ وہ دوبارہ سماعت میں پیش نہیں ہونا چاہتیں، تاہم جج محمد عطا ربانی نے کہا کہ انہیں حاضری لگانا پڑے گی۔ 

عدالت نے لڑکی پر جرح کے لیے 18 جنوری کی تاریخ مقرر کر لی۔ 

 اس کیس میں وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو کیس کی خود نگرانی کرنے کی ہدایت کی تھی۔  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان