’شفقت انکل کی جانب سے مزید شفقت نہیں‘

تعلیمی ادارے بند ہوں گے یا نہیں اس کا فیصلہ اب آئندہ ہونے والے اجلاس میں متوقع ہے۔ مگر ٹوئٹر پر اس معاملے پر دلچسپ تبصرے اب بھی جاری ہیں۔

تعلیمی اداروں کے حوالے سے اجلاس کے خبر کے بعد جمعرات کو شفقت محمود سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بنے رہے (شفقت محمود/ٹوئٹر)

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ایک بار پھر کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یکم جنوری کو پاکستان میں کرونا کی شرح ایک فیصد تھی جو بڑھ کر اب چھ فیصد ہو چکی ہے۔

اس حوالے سے حکومت کی جانب سے بھی ویکسینیشن کے عمل میں تیزی دیکھی گئی اور مختلف اقدامات کے لیے اجلاس بھی طلب کیے جا رے ہیں۔

ایسا ہی ایک اجلاس تعلیمی اداروں کے بارے میں بھی جمعرات کو طلب کیا گیا تھا۔

اس اجلاس کا سنتے ہی سوشل میڈیا پر ایک بار پھر وزیر تعلیم شفقت محمود ٹرینڈ کرنے لگے اور صارفین کی جانب سے امید کا اظہار کیا جانے لگا کہ تعلیمی ادارے شاید پھر سے بند ہونے جا رہے ہیں۔

تاہم تعلیمی اداروں کے متعلق فیصلوں کے لیے 13 جنوری کو وفاق سمیت چاروں صوبوں کے وزرائے تعلیم کے درمیان اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

جس کے بعد تعلیمی ادارے بند ہوں گے یا نہیں اس کا فیصلہ اب آئندہ ہونے والے اجلاس میں متوقع ہے۔ مگر ٹوئٹر پر اس معاملے پر دلچسپ تبصرے اب بھی جاری ہیں۔

کچھ صارفین تعلیمی ادارے بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور کچھ اس کی مخالفت جبکہ دوسری جانب بعض صارفین میمز کی صورت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

وزیر تعلیم شفقت محمود کے نام سے ٹوئٹر چلنے والے ٹرینڈ میں ایک ویڈیو بھی شیئر کی جا رہی ہے جس میں ایک تقریب کے دوران وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بچوں سے اپنا تعرف ’چھٹیاں دینے والا انکل‘ سے کرایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک ٹوئٹر صارف نے  اجلاس ملتوی ہونے پر بالی ووڈ اداکار سنی دیول کا ڈائیلاگ شئیر کیا۔

تحسین قاسم نے کہا کہ ’تعلیمی ادارے بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم آن لائن کلاسز سے تنگ آچکے ہیں۔‘

سارا نامی صارف لکھتی ہیں کہ ’یونیورسٹیز بڑی تعداد میں طلبا کے ساتھ کھلی ہیں انہیں بند کر کے آئن لائن کلاسز پر منتقل کرنا چاہیے۔‘

راجہ حسین کیانی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ لکھا: ’کیسا لگا میرا مذاق۔‘

حماد نے عدنان صدیقی کی تصویر جو کئی میمز کا حصہ رہی شئیر کرتے ہوئے لکھا : ’شفقت انکل کی جانب سے مزید شفقت نہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ