مستقبل قریب میں کراچی کو واقعی سونامی سے خطرہ ہے؟

ڈائریکٹر جنر ل محکمہ موسمیات محمد ریاض کے مطابق: ’سندھ اور بلوچستان کا ساحل سونامی زون میں آتا ہے اور یہاں سونامی آ بھی سکتے ہیں مگر سونامی کب آئے گا؟ یہ بتانا ممکن نہیں ہے۔‘

کراچی کے ساحل سی ویو پر سمندری لہریں شہریوں تک آتے ہوئے ۔ کراچی کے ساحلوں کے ساتھ کئی آبادیاں موجود ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستانی ذرائع ابلاغ پر یہ خبریں گرم ہیں کہ کسی بھی وقت بلوچستان کے ساحل مکران پر بڑے زلزلے کے بعد سونامی جنم لے سکتا ہے اور اس سونامی سے کراچی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

ایک کثیرالاشاعت اخبار نے تو گوادر میں ہلکی نوعیت کے زلزلے کے جھٹکے کے بعد ’سونامی کا خطرہ منڈلانے لگا‘ جیسی سرخی بھی لگادی، جس کے بعد محکمہ موسمیات کو بیان جاری کرکے تردید کرنی پڑی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اچانک مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں کیوں گردش کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات محمد ریاض نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’پاکستان کے محکمہ موسمیات نے کئی سال قبل ارلی سونامی وارنگ مرکز قائم کیا تھا جس کے تحت نہ صرف ملک بھر میں آنے والے چھوٹے بڑے زلزلوں کا ہروقت مشاہدہ کیا جاتا ہے بلکہ کسی سونامی کی صورت میں عوام الناس اور حکومتی اداروں کو بھی آگاہی دی جاسکتی ہے۔‘

ان کے مطابق: ’اس مرکز کے تحت مشاہدے کے علاوہ عوام اور مختلف اداروں کو سونامی کے بارے میں معلومات دینے کے لیے مختلف سرگرمیاں بھی کی جاتی ہیں۔ اسی سلسلے میں چند روز قبل کراچی سونامی کی آگاہی کے لیے ایک ورکشاپ منعقد کی گئی تھی، جس میں مقامی صحافی بھی شریک ہوئے تھے۔‘

محمد ریاض نے بتایا کہ ’ورکشاپ کے دوران ماہرین نے 1945 میں بلوچستان کے مکران ساحل پر آنے والے زلزلے کے بعد پیدا ہونے والے سونامی کا بھی ذکر کیا جو کراچی تک بھی پہنچا تھا اور خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں بھی ایسا سونامی آسکتا ہے، جس سے کراچی کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔‘

ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات کے مطابق: ’اس ورکشاپ کے بعد خبروں میں ایسا تاثر دیا گیا جیسے ہم نے مستقبل قریب میں سونامی آنے اور کراچی سے ٹکرانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ سندھ اور بلوچستان کا ساحل سونامی زون میں آتا ہے اور یہاں سونامی آ بھی سکتے ہیں مگر سونامی کب آئے گا؟ یہ بتانا ممکن نہیں ہے۔‘

سونامی کیسے بنتا ہے؟

سونامی جاپانی زبان کا لفظ ہے، جس کی معنی ہیں خراب لہر۔ محکمہ موسمیات کراچی کے ڈائرکٹر امیر حیدر لغاری کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ یا زلزلے کے باعث اگر پانی پریشر سے لہروں کی صورت میں خشکی پر آجائے تو اسے سونامی کہا جاتا ہے۔ عام طور پر سمندر میں انتہائی طاقتور زلزلے کے آنے کے بعد ہی سونامی جنم لیتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے امیر حیدر لغاری نے بتایا: ’کسی طاقتور زلزلے، جس کی شدت سات یا اس سے زیادہ ہو اور گہرائی 35 کلومیٹر سے کم ہو تو اس کے بعد سونامی جنم لے سکتا ہے اور اس زلزلے کے باعث زمین ہلنے سے پیدا ہونے والی قوت پانی کو پریشر کے ساتھ خشکی طرف دھکیلتی ہے۔‘

’اس قوت کے باعث بننے والی لہر اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ اس سے پیدا ہونے والا سونامی کئی ممالک تک پہنچ سکتا ہے۔‘

زلزلے کی پیش گوئی کرنا ناممکن ہے؟ 

چند اقسام کے پرندوں، مینڈکوں اور دیگر جانوروں کو کسی زلزلے سے ایک دن پہلے پتہ چل جاتا ہے، مگر تاحال انسان زلزلے کی پیش گوئی کرنے کے قابل نہیں ہوسکا ہے۔

محمد ریاض کے مطابق دنیا بھر میں اس پر کام ہو رہا ہے کہ کس طرح زلزلے آنے سے پہلے اس کے وقت اور شدت کا اندازہ لگایا جاسکے۔

محمد ریاض نے بتایا کہ ’تاحال اس کا کوئی خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکل سکا ہے، مگر اب سائنسی طریقے کے بعد شاید یہ ممکن ہوجائے۔‘

کیا واقعی کراچی کو سونامی کا خطرہ ہے؟ 

بلوچستان کے مکران ساحل پر کسی بڑے زلزلے کی صورت میں پیدا ہونے والے سونامی سے کراچی کو خطرہ ضرور لاحق ہوسکتا ہے۔ 

امیر حیدر لغاری کے مطابق: ’یہ تو نہیں بتایا جاسکتا کہ ایسا کب ہوگا، مگر چوں کہ مکران ساحل پر ماضی میں سونامی کی تاریخ رہی ہے تو دوبارہ سونامی آنے کا خدشہ تو ہے۔ مگر اس کی کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ مکران ساحل پر کسی بڑے زلزلے کے بعد سونامی بننے اور کراچی سے ٹکرانے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔‘

امیر حیدر لغاری کے مطابق مکران ساحل پر دنیا کی تین اہم ٹیکٹونک یا ارضیاتی پلیٹوں کا ملاپ ہوتا ہے اور تینوں پلیٹس آپس میں دھنس رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مکران ساحل ارضیاتی فالٹ لائن پر واقع ہے۔ ارضیاتی سائنس میں فالٹ کا مطلب ہے دو ارضیاتی پلیٹوں کا آپس میں دھنسنا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جیسے انسانی ہڈی اگر توٹ جائے اور اسے درست طریقے سے نہ جوڑا جائے بلکہ ایسے ہی چھوڑ دیا جائے اور ٹوٹے ہوئے حصے آپس میں دھنستے جائیں گے۔ بالکل اسی طرح ارضیاتی پلیٹس کے آپس میں دھسنے کو فالٹ کہا جاتا ہے اور جس جگہ پر فالٹ ہو اسے فالٹ لائن کہا جاتا ہے۔‘

بلوچستان کے مکران ساحل پر موجود فالٹس کے باعث اس علاقے کو ارضیاتی سائنس میں ’مکران سبڈکشن زون‘ قرار دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہاں ارضیاتی تحریک یا زلزلے آنا عام بات ہے۔

موجودہ جدید دور میں دنیا بھر کی ارضیاتی پلیٹس کی حرکت، اپنے جگہ سے سرکنے یا دو یا اس سے زائد پلیٹس کے آپس میں دھسنے کو گلوبل پوزیشننگ سسٹم یا جی پی ایس سے متعلق سٹیشن سے مانیٹر کیا جاتا ہے۔

امیر حیدر لغاری کے مطابق: ’محکمہ موسمیات پاکستان بھی گلوبل پوزیشننگ سسٹم یا جی پی ایس سے متعلق جدید سٹیشنز کی مدد سے مکران سبڈکشن زون کی نگرانی کررہا ہے۔‘

انہوں نے بتایا: ’اس وقت مکران سبڈکشن زون پر موجود ارضیاتی پلیٹس سالانہ 90 ملی میٹر کی رفتار سے حرکت کر رہی ہیں، جو اس ریجن میں آنے والے وقتوں میں کسی بڑے زلزلے کا الارم ہے۔‘

ارضیاتی پلیٹس کی حرکت کے باعث زمین کے اندر بے پناہ قوت اکٹھی ہو رہی ہے، جو کسی بڑے زلزلے کی صورت میں ایک دن پھٹ کر باہر آسکتی ہے۔

امیر حیدر لغاری نے اس پورے خطے کی ارضیاتی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1808 میں ایران کے ساحل پر آنے والے زلزلے کے بعد سونامی نے جنم لیا تھا۔ اس سونامی کے ٹھیک 90 سال بعد 1897 میں مکران ساحل پر زلزلہ آنے پر بھی سونامی نے جنم لیا تھا۔ اس سونامی کے 48 سال بعد 1945 میں دوبارہ سونامی آیا، جس کے باعث پرانے اخبارات کے مطابق چار ہزار کے قریب اموات ہوئیں اور سونامی کراچی سے بھی ٹکرایا۔

ان کے مطابق: ’اس وقت کے لوگوں نے بتایا ہے کہ سونامی کے باعث سمندری لہروں کا پانی کراچی کے میری ویدر ٹاور تک گیا تھا، جبکہ اس وقت کراچی شہر تھا ہی ٹاور تک۔ کچھ ایسی بھی شہادتیں ملی ہیں کہ مکران ساحل سے جنم لینے والا 1945 کا سونامی ممبئی یا سابق بمبئی سے بھی ٹکرایا تھا۔‘

1945 کے سونامی سے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہیں، جس کا سبب یہ ہے کہ قیام پاکستان سے قبل آنے والے اس بڑے زلزلے اور اس کے بعد بننے والے سونامی کو ریکارڈ رکھنے کے لیے نہ تو زیادہ تکنیکی سامان تھا اور نہ ہی سائنس نے اتنی ترقی کی تھی۔

اس وقت اس خطے میں موسمیات کا ایک بھی مرکز نہیں تھا۔ اس زلزلے کی شدت کا بھی بعد میں مکران کوسٹ پر زلزلے کے باعث پھٹنے والی زمین کو دیکھ کر اندازہ لگایاگیا تھا۔

1945 میں دنیا بھر کے ممالک دوسری عالمی جنگ کے باعث مصروف تھے، اس لیے اس زلزلے اور سونامی کے بارے میں کوئی زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔ پاکستان کا پہلا موسمیاتی مرکز 1952 میں کوئٹہ میں قائم ہوا تھا۔

امیر حیدر لغاری کے مطابق: ’جس جگہ ایک بار سونامی آجائے تو وہاں بار بار آنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ عام طور پر ارضیاتی ماہر سمجھتے ہیں کہ سونامی دوبارہ اس علاقے میں ایک صدی تک آتا ہے۔ 1945 کے سونامی کو 77 سال گزر چکے ہیں۔ اب کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کس وقت سونامی دوبارہ آجائے۔‘

انہوں بتایا کہ ’سونامی کے بعد مکران ساحل سے اونچی لہروں کو کراچی پہنچنے میں 30 سے 90 منٹ لگ سکتے ہیں، اس کا دارومدار زلزلے کی شدت پر ہے۔ کراچی سے ٹکرانے کے بعد سونامی کے باعث لہریں کم از کم 10 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ 20 کلومیٹر اندر تک آسکتی ہیں۔‘

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ تجارتی مرکز ہے، جہاں دو اہم پورٹ اور 129 کلومیٹر طویل ساحل پر بہت بڑی انسانی آبادی مقیم ہے، جس میں مچھر کالونی جیسی کچی آبادی، مچھیروں کی قدیم بستیاں اور ڈی ایچ اے اور کلفٹن جیسی پوش آبادیاں بھی موجود ہیں۔

ممکنہ سونامی کے لیے سرکاری تیاری کیا ہے؟ 

امیر حیدر لغاری کے مطابق پاکستان کے مکحمہ موسمیات کے پاس ملک بھر میں 20 مراکز کے ساتھ سونامی کی وارنگ جاری کرنے کے لیے ارلی سونامی وارنگ مرکز قائم ہے، جو 24 گھنٹے زلزلوں کی مانیٹرنگ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سونامی آنے کی صورت میں عوام کو آگاہ کرنے کے لیے سندھ اور بلوچستان میں پانچ سائرن ٹاور لگائے گئے ہیں تاکہ سونامی کی صورت میں سائرن سے آگاہی دی جائے اور لوگ ساحل سے دور چلے جائیں۔

’یہ سائرن ٹاور اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی کے تعاون سے لگائے گئے ہیں۔ یہ ٹاور گوادر، پسنی، کراچی کے علاقے کیماڑی ٹاون میں سومرا گوٹھ اور ابراہیم حیدری کے قریب ریڑھی گوٹھ میں لگائے گئے ہیں۔‘

ان کے مطابق: ’یہ ٹاور شمسی توانائی سے چلتے ہیں اور سیٹیلائٹ فون سے منسلک ہیں۔ سونامی کی صورت میں سونامی مرکز کے دفتر میں موجود ڈیوٹی افسر ایک بٹن دباکر سب سائرن کو بیک وقت بجا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہم ہر زلزلے کی رپورٹ تمام متعلقہ اداروں کو دیتے ہیں اور ان کے ساتھ سونامی ڈرل بھی کرتے ہیں۔‘

اس کے علاوہ سونامی کے باعث لہروں کی اونچائی ناپنے کے لیے پاکستان نیوی کے زیر انتظام ٹائیڈل گیجز بھی کئی جگہوں پر لگے ہوئے ہیں، جن کی معلومات تمام متعلقہ اداروں کو بھیجی جاتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان