’ملک کی بقا صدارتی نظام میں‘۔۔۔ کیا واقعی؟

بلاشبہ ہمارے ہاں پارلیمانی نظام کا تجربہ بھی مثالی نہیں رہا ہے۔ مثالی تو کیا بسا اوقات تو یہ معقول بھی نہیں رہتا لیکن اگر اس کو رد کرنا ہے تو متبادل کا اچھا ہونا بھی تو ضروری ہے۔

قیام پاکستان سے لے کر  اب تک 75 سالوں میں سے ملک میں پارلیمانی نظام کا دورانیہ صرف اسلام19 سال ہے، جب کہ صدارتی اور نیم صدارتی نظام کا دورانیہ 58 سال ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

اب کی بار جاڑے میں برف کے ساتھ ایسی دانش اتری ہے کہ راتوں رات ’ملک کی بقا صدارتی نظام‘کے ٹرینڈ چل پڑے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پارلیمانی نظام کو رد کرنے اور صدارتی نظام اختیار کرنے کے دلائل کیا ہیں؟پارلیمانی نظام میں آخر کیا خرابی ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے اور صدارتی نظام میں ایسی کون سی خوبی ہے کہ اسے اپنا لیا جائے؟

ملک کی 74 سالہ تاریخ میں پارلیمانی نظام کا دورانیہ ہے ہی کتنا؟ صرف 19 سال۔ جس نظام کو کبھی چلنے ہی نہیں دیا گیا خرابی کا سارا الزام اس پر کیسے دھرا جا سکتا ہے؟

قیام پاکستان کے وقت عملاً اگرچہ پاکستانی کابینہ اپنے گورنر جنرل کے انتخاب میں آزاد تھی لیکن آئینی پوزیشن یہ تھی کہ فروری 1952 تک کنگ جارج ششم ہمارے بادشاہ تھے اور گورنر جنرل کی حیثیت ان کے نمائندے کی تھی۔ چھ فروری 1952 سے 23 مارچ 1956 تک ملکہ الزبتھ پاکستان کی ملکہ اور آئینی سربراہ رہیں۔آئینی طور پر گورنر جنرل کی حیثیت ان کے نمائندے کی تھی۔ پاکستان کے سفیروں کی بیرون ملک تقرری کا پروانہ 1956 تک بادشاہ اور پھر ملکہ ہی جاری کرتے تھے۔

یہ صورت حال 23مارچ 1956 کو تبدیل ہو گئی جب پاکستان نے اپنا ایک آئین بنا لیا اور گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی آئینی حیثیت ختم ہوگئی۔ نہ ملکہ اب ہماری آئینی سربراہ رہیں نہ ان کے نمائندے یعنی گورنر جنرل کا عہدہ باقی رہا۔ گورنر جنرل کی جگہ اب صدر پاکستان نے لے لی۔

 23مارچ 1956کو جو آئین نافذ ہوا وہ اگر چہ پارلیمانی تھا لیکن عالم یہ تھا کہ بنگال (مشرقی پاکستان) سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت جناب سکندر مرزا اتنے طاقتور تھے کہ دو سالوں میں چار وزرائے اعظم بدل ڈالے۔

موصوف کا اسی پر دل نہیں بھرا بلکہ آٹھ اکتوبر 1958 کو موصوف نے جو ہز ایکسی لنسی بھی تھے، صدر بھی تھے، میجر جنرل بھی تھے، بیوروکریٹ بھی تھے، پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لا نافذ کر دیا۔ 11 اگست 1947 سے 1956تک، ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے جو آئین نو سال کی محنت کے بعد قوم کو دیا وہ مشرقی پاکستان کے سکندر مرزا نے دو سال بھی نہ چلنے دیا۔ یہ دو سال بھی گویا پارلیمانی جمہوریت کے سال نہیں تھے، صدارتی نظام کے سال تھے۔

اسی سال بلکہ اسی مہینے، سکندر مرزا کو ایوب خان نے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ 1958سے لے کر 1969 تک ملک میں فیلڈ مارشل ایوب خان صاحب کا صدارتی نظام رائج رہا۔ قائداعظم کے ساتھی اسی دور میں ایبڈو کے ذریعے نا اہل قرار دے کر ایک طرف کر دیے گئے۔

محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ ایک افسوسناک باب ہے۔ جی ایم سید سے شیخ مجیب تک جس جس نے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا، غدار ٹھہرا۔ جس طرح انہیں الیکشن میں ہرایا گیا، اس نے مشرقی پاکستان کی نفسیاتی گرہوں میں ایک بہت بڑی گرہ کا اضافہ کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایوب خان صاحب سے اقتدار جنرل یحییٰ خان نے چھینا اور خود کو تیسرا صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر قرار دے دیا۔ موصوف اقتدار سے اس وقت الگ ہوئے جب ملک ٹوٹ چکا تھا۔ان کے قریب تین سال کے دور اقتدار میں بھی عملاً ملک میں صدارتی نظام ہی تھا۔ 1970 کے انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کیے گئے اور ملک ٹوٹ گیا۔

ملک ٹوٹنے کے بعد اقتدار بھٹو صاحب کو ملا تو وہ بھی پارلیمانی حکومت نہ تھی۔ ملک ٹوٹنے کے چوتھے دن بھٹو صاحب صدر پاکستان اور چیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر بنا کر حکومت میں بٹھا دیے گئے۔

قیام پاکستان کے 26 سال بعد 1973 کے انتخابات کے بعد ملک میں پہلی بار عملی طور پارلیمانی نظام آیا، لیکن صرف چار سال چل پایا اور پھر جنرل محمد ضیا الحق صاحب نے مارشل لا لگا دیا اور خود صدر مملکت بن گئے۔ جنرل ضیا الحق کے 11 سال بھی ملک میں صدارتی نظام ہی رائج رہا۔

ضیا الحق کے بعد جمہوریت آئی تو سہی لیکن یہ نظام پارلیمانی کم اور صدارتی زیادہ تھا۔ کہنے کو ایک عدد پارلیمان موجود تھی لیکن صدر محترم کے پاس 58(2) B کی وہ تلوار موجود تھی جو پلک جھپکنے میں کسی بھی پارلیمان کا سر قلم کر سکتی تھی۔

دسمبر 1988 میں بے نظیر صاحبہ کی حکومت بنی، ڈیڑھ سال بعد صدر غلام اسحق خان نے اسمبلی توڑ دی۔ نومبر 1990 میں نواز شریف وزیراعظم بنے، تیسرے سال صدر غلام اسحق خان نے اسمبلی توڑ دی۔ اکتوبر 1993میں پھر بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں  لیکن نومبر 1996میں صدر فاروق لغاری نے اسمبلی توڑ دی۔

نواز شریف جب دو تہائی اکثریت سے وزیراعظم بنے تو انہوں نے تیرہویں ترمیم کے ذریعے 58(2) B کو ختم کر دیا۔ یہ دو سال بھی پارلیمانی نظام حکومت کے سال ہیں۔ دو سال بعد پرویز مشرف نے نواز حکومت کا تختہ الٹ دیا اور  58(2) B کو پھر سے آئین میں شامل کر دیا۔ مشرف صاحب کے دور حکومت میں بھی معین قریشی،  شوکت عزیز، ظفر اللہ جمالی اور چوہدری شجاعت جیسے وزیراعظم تو موجود تھے لیکن عملاً  یہ صدارتی نظام حکومت ہی تھا۔

اٹھارویں ترمیم میں  58(2) B کو ایک بار پھر ختم کر دیا گیا۔ گویا 2010 سے ایک بار پھر ہم ایک پارلیمانی نظام میں رہ رہے ہیں۔ 13 سال یہ ہو گئے، دو سال نواز شریف کے اور چار سال بھٹو کے۔ یہ کل ملا کر 19 سال بنتے ہیں۔

قیام پاکستان سے اب تک 75 سالوں میں سے ملک میں پارلیمانی نظام کا دورانیہ صرف 19 سال ہے، جب کہ صدارتی اور نیم صدارتی نظام کا دورانیہ 58 سال ہے۔ ہمارے کمالات دیکھیے ہمارے ہاں شور مچا ہے کہ پارلیمانی نظام بہت برا ہے اور ملک کی بقا صدارتی نظام میں ہے۔

بلاشبہ ہمارے ہاں پارلیمانی نظام کا تجربہ بھی مثالی نہیں رہا ہے۔ مثالی تو کیا بسا اوقات تو یہ معقول بھی نہیں رہتا لیکن اگر اس کو رد کرنا ہے تو متبادل کا اچھا ہونا بھی تو ضروری ہے۔ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارا صدارتی نظام کسی بھی اعتبار سے ہمارے پارلیمانی نظام سے بہتر نہیں رہا۔

صدارتی نظام معاشرے سے سیاسی حساسیت، فعالیت اور شعور تک چھین لیتا ہے۔ ایسے معاشرے کو مینیج کرنا تو شاید آسان ہوتا ہو لیکن اس کے نتیجے میں سماج اپنے فکری ارتقا اور بانکپن سے محروم ہو جاتا ہے۔ کسی بھی سماج کے لیے اس سے تباہ کن چیز کوئی نہیں ہو سکتی۔


نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ