تم جانو تمہاری پارلیمان جانے

لوگ پیدا ہوتے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں، اس سارے دورانیے میں کبھی ایک لمحہ ایسا نہیں آتا کہ ان کا کوئی مسئلہ، کوئی دکھ اور کوئی پریشانی آئین کی وجہ سے حل ہوئی ہو۔

آئین انگریزی میں ہے اس لیے عوام کی اکثریت اسے سمجھنے سے قاصر ہے (اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے یہاں کلک کریں 

 

حزب اختلاف پارلیمان اور آئین کی بالادستی کے رجز پڑھ رہی ہے لیکن عوام لاتعلق ہو کر بیٹھے ہیں کہ تم جانو، تمہارا آئین اور تمہاری پارلیمان جانے، ان چونچلوں سے ہمیں کچھ نہیں لینا۔

آئین مقدس ہو گا اور پارلیمان محترم لیکن عوام کے لیے یہ دونوں ’چندا ماموں دُور کے‘ ہیں۔ مہنگائی کے ستائی عوام اب ’دور کے چندا ماموؤں کا‘ سہرا کیسے کہیں کہ انہیں تو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں۔

اصول یہ ہے کہ آئین مقدس ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آئین اجنبی ہے۔ ملک کی 40 فیصد آبادی ناخواندہ ہے لیکن آئین انگریزی میں ہے۔ عوام کی اکثریت آئین اور اس کی اہمیت دونوں سے لاعلم ہے۔ چنانچہ اس ملک کے گلی کوچوں میں سجی عوامی محفلوں میں جب ضیا الحق اور بھٹو کا یا پرویز مشرف اور نواز شریف کا تقابل ہوتا ہے تو وہ آئینی اور غیر آئینی کی بنیاد پر نہیں، مہنگائی امن عامہ اور خلق خدا کی ضروریات سے جڑی زمینی حقیقتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

لوگ پیدا ہوتے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں۔ اس سارے دورانیے میں کبھی ایک لمحہ ایسا نہیں آتا کہ ان کا کوئی مسئلہ، کوئی دکھ اور کوئی پریشانی آئین کی وجہ سے حل ہوئی ہو۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ انہیں کوئی چیز اس لیے مل جائے کہ یہ ان کا آئینی حق ہے۔ بچپن سے بڑھاپے تک آئین کبھی ان کے لیے سایہ فراہم نہ کر سکا۔ انہیں ہر پہر اپنی پیاس بجھانے کے لیے اپنا کنواں خود کھودنا ہوتا ہے اور اپنا جائز حق بھی رائج الوقت طریقوں سے خرید کر حاصل کرنا پڑتا ہے۔

نہ کسی نے انہیں آئین پڑھایا، نہ کسی نے انہیں آئین میں درج حقوق دیے۔ چنانچہ ان میں آئین کے ساتھ کوئی وابستگی پیدا ہی نہیں ہو سکی۔ آئین پامال ہو جائے یا آئین بحال ہو جائے، عوام کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آئین بحال ہوتے ہوئے بھی یہ سڑکوں پر مارے جاتے ہیں، ہسپتالوں میں دھتکارے جاتے ہیں اور تھانوں میں ذلیل کیے جاتے ہیں۔ آئین نے اقوال زریں کی صورت جو حقوق دیے وہ عام آدمی کو کبھی مل ہی نہ سکے۔ اور جو حقوق صرف برائے وزن بیت لکھ دیے گئے ان میں بھی یہ بے نیازی کہ صحت شامل ہی نہیں۔ چنانچہ آئین کی رو سے آج بھی صحت بنیادی انسانی حق نہیں ہے۔

سیاسی اشرافیہ کے ہاں کبھی آئین کی بالادستی کی بات ہوتی ہے تو اس کا مطلب اس سیاسی اشرافیہ کے حق اقتدار کے تحفظ کے سوا کچھ نہیں۔ جب یہ اشرافیہ بال بچوں سمیت ایوانوں میں پہنچ جاتی ہے تو آئین بحال ہو جاتا ہے جب کوئی آمر انہیں پارلیمان سے نکال دیتا ہے تو آئین پامال ہو جاتا ہے۔ سیاسی بیانیے میں آئین کی بالادستی کا مطلب عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی بجائے صرف ان شقوں کی بالا دستی ہے جو اہل سیاست کے اقتدار کے حق سے متعلق ہیں۔ یہ جب آئین کی بالادستی کا نوحہ پڑھتے ہیں تو یہ صرف اپنے حق اقتدار کو رو پیٹ رہے ہوتے ہیں۔

پارلیمان بھی مقدس ہے مگر عام آدمی کے لیے یہ علاقہ غیر ہے۔ تعصبات کی لاٹھی تھام کر تجوریوں پر چل کر یہاں آنا پڑتا ہے۔ پارلیمان منتخب تو ہوتی ہے، نمائندہ نہیں ہوتی۔ صرف پانچ فیصد اشرافیہ ہے جو اپنی طاقت، دولت اور عصبیت کی بنیاد پر پچانوے فیصد کی نمائندگی کرتی ہے۔ سینیٹ کے انتخابات تو اخلاقی المیے کا انتساب بن چکے ہیں۔ انتخابی قوانین ہیں مگر ادھورے۔ جو ہیں ان پر بھی عمل نہیں ہو پاتا۔ دکھانے کو سبھی آہ و فغاں کرتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ سب مزے میں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 چند خاندان ہیں جو ہمیشہ اقتدار میں ہوتے ہیں۔ پارلیمان انہی خانوادوں کی جاگیر ہے۔ حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو اقتدار انہی خاندانوں کے پاس ہوتا ہے۔ ان کا ضمیر حسب ضرورت سو جاتا ہے اور حسب ضرورت جاگ جاتا ہے۔ آمریت ہو تب بھی یہ اقتدار میں ہوتے ہیں، ن لیگ آ جائے تب بھی یہی مزے میں ہوتے ہیں، پیپلز پارٹی کی حکومت آ جائے تب بھی اقتدار انہی کے پاس ہوتا ہے اور تحریک انصاف کا اقتدار قائم ہو جائے تو یہی ہمیں بتانے آ جاتے ہیں کہ پچھلوں نے بڑی بربادی کی تھی، ہم تو بے قصور ہیں۔

 قیادت یہاں میراث میں آتی ہے۔ ترکے کی طرح وصیت کی بنیاد پر لی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں چند خاندانوں کے جملہ حقوق محفوظ کا اعلان بن کر رہ گئی ہیں۔ بزرگ، معاف کیجیے گا، عمر رسیدہ پارلیمنٹیرین عزت نفس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان خانوادوں کے بچوں کے پیچھے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہنر اور صلاحیت کی کوئی قدر نہیں۔ عوام تو کیا دیرینہ کارکن بھی اس سیاسی عمل میں ایندھن سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ عام آدمی کے لیے پارلیمان تک پہنچنا ممکن ہی نہیں رہا۔ نجیب اور نفیس لوگ اجنبی ہو گئے، پست لوگ تجوری اور خوشامد کی بنیاد پر معتبر ہو تے چلے گئے۔

سیاست اپنے اخلاقی وجود سے بے نیاز ہو گئی اور معاشرے میں اخلاقی قدروں کا سقوط ہو گیا۔ اب مفادات کا ایک کھیل ہے جس میں کسی کھلاڑی کو کسی پر کسی قسم کی کوئی اخلاقی برتری حاصل نہیں۔ رومان دم توڑ چکا۔ قدریں روندی جا چکیں۔ نظریاتی سیاست ختم ہو گئی۔ عوام شکست دل سے ایسے بے حس ہوئے کہ آئین، پارلیمان، جمہوریت جیسے الفاظ ان کے لیے بے معنی ہو گئے۔ آئین بحال ہو تو وہ خوش ہوتے ہیں نہ آئین اور جمہوری قدریں پامال ہونے پر انہیں کوئی دکھ ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ درجن بھر سیاسی جماعتیں مل کر بھی معاشرے میں کوئی سیاسی ارتعاش پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔

پڑھنے کی صلاحیت ہو تو نوشتہ دیوار سامنے ہے کہ پارلیمان کی بالادستی کی بہار جن خاندانوں کے آنگن سے باہر آتی ہی نہیں ہے، پارلیمان کی بالادستی کی لڑائی بھی اب وہی خانوادے لڑیں۔ عوام کیوں لڑیں۔ عوام اس محبت سے باز آئے، آپ اپنا پاندان بھلے نہ اٹھائیں۔ کل کو عمران خان کے آنگن میں بھی گرم ہوا کے تھپیڑے آئے تو عوام لاتعلق ہی رہیں گے۔ کیونکہ عمران کے میمنہ میسرہ پر بھی وہی جنگجو ہیں جو ہر حکمران کے دربار میں پیٹ کے بل چل کر آتے ہیں اور ہر مسئلے کو پیٹ کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔

معاشرہ آگے بڑھ گیا اور اہل سیاست پیچھے رہ گئے۔ کوئی المیہ سا المیہ ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ