پارلیمان کے ایک اجلاس میں منظور ہونے والے 31 بِلوں میں ہے کیا؟

پارلیمان کے ایک اہم مشترکہ اجلاس میں کلُ 33 بل منظور کیے گئے جس میں سے دو اپوزیشن کے تھے۔ منظور ہونے والے بِلوں میں سب سے زیادہ انتخابی اصلاحات، کلبھوشن یادو کیس اور سٹیٹ بینک سے متعلق بل زیر بحث رہے۔

حکمران جماعت  پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں  33 بلوں کے منظور ہونے کو ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا ہے(اے ایف پی )

پارلیمان کے بدھ کو اہم مشترکہ اجلاس میں 33 بِل منظور کیے گئے جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا جبکہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اسے ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا۔

ان 33 بِلوں میں سے دو بِل اپوزیشن  کے پرائیویٹ ممبر بِل تھے جب کہ 31 حکومتی بِل، جو اب قانون بن چکے ہیں۔

منظور ہونے والے بِلوں میں سب سے زیادہ انتخابی اصلاحات، کلبھوشن یادو کیس اور سٹیٹ بینک سے متعلق بِل زیر بحث رہے مگر اس کے علاوہ بھی ایسے بِل منظور ہوئے جو اہمیت کے حامل ہیں۔

ان 31 حکومتی بِلوں میں ہے کیا؟

  • انتخابات ترمیمی بِل 2021 کے مطابق عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVMs) کے استعمال اور  بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق مل سکے گا۔
  • ’عالمی عدالت انصاف نظرثانی و غورِ  مکرر  بِل 2021‘ بھی منظور کرلیا گیا جس کے مطابق کوئی بھی غیر ملکی خود یا اپنے نمائندے، اپنے ملک کے کونسلر آفیسر یا کسی خاص کیس میں وزارت قانون و انصاف ہائی کورٹ میں ملٹری کی جانب سے دی گئی سزا کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کر سکتا ہے۔

اس بِل کی منظوری کی وجہ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ تھا جس میں پاکستان کو کہا گیا تھا کہ وہ کلبھوشن یادو کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے جنہیں اپریل 2017 میں پاکستان کی فوجی عدالت نے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔

  • نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ بِل، جس میں نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔
  • سٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن آرڈیننس 2001 میں ترمیم کی گئی ہے جس کا مقصد سٹیٹ بینک کی آپریشنل صلاحیت کو بہتر کرنا ہے۔

ترمیم کے تحت ایکٹنگ منیجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی 60 دن کے اندر اندر کرنا ہے جب کہ سٹیٹ بینک کے افسران کو اپنی خدمات کے دوران لیے گئے اقدامات پر قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

  • اسلام آباد میں فلاحی تنظیموں کی رجسٹریشن، ریگولیشن اور سہولت کاری کے لیے اتھارٹی کے قیام کا بِل بھی مجلس شوریٰ سے پاس ہوا ہے۔
  • مسلم فیملی لا ترمیمی بِل (شق 4) کی منظوری، جس کے مطابق اہل تشیع کی بیوہ کو خاوند کی وراثت فقہ جعفریہ کے مطابق دی جائے گی۔

یہ قانون سازی لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے حکم کی روشنی میں کی گئی جس میں کہا تھا حکومت اہل تشیع سے تعلق رکھنے والی بیوہ کے حقوق کے تحفظ کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔

  • مسلم فیملی لا ترمیمی بِل (شق 7) کی منظوری، جس میں اہل تشیع کے لیے فقہ جعفریہ کے مطابق طلاق کے معاملے پر قانون سازی کی گئی۔

اس سے قبِل مسلم فیملی لا کا اطلاق تمام فقوں پر ہوتا تھا مگر فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والوں کے مطالبے پر اس قانون میں قران و سنت کی ان کی تشریح کے مطابق قانون سازی کی گئی۔

  • انسداد ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) بِل، جس میں خصوصی عدالتوں کے قیام ، پبِلک ہسپتالوں میں انسداد ریپ سیل بنانے اور تفتیش کے دوران جدید آلات استعمال کرنے کی منظوری دی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس بِل کے مطابق سپیشل پراسیکیوٹر کی تعیناتی، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم، ریپ کرنے والوں کا نادرا کے ذریعے ڈیٹا جمع کرنے کے علاوہ دیگر اقدامات کیے جا سکیں گے۔

اس میں جھوٹی تفتیش اور غلط درخواست دینے والوں کے لیے سزا کا تعین بھی کیا گیا ہے۔

اس بِل کی منظوری کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے تین ممبران قومی اسمبِلی ڈاکڑ نفیسہ شاہ، نوید قمر اور حسین طارق نے اختلافی نوٹ لکھا جس میں یہ کہا گیا کہ خصوصی عدالتوں کے قیام سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑے گا۔

  • حیدر آباد انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنیکل و مینجمنٹ سائنسز کو ڈگری عطا کرنے والے ادارے کے طور پرقائم کرنے کے انتظامات کرنے کا بِل۔
  • اسلام آباد رینٹ ریسٹرکشن ترمیمی بِل منظور کیا جس کے مطابق کرایے دار اور مالکان کے مابین ہونے والا بِل ریکارڈ کنٹرول کے پاس محفوظ ہوگا اور تمام تر ادائیگیاں کراس چیک یا رسید کے ذریعے ہوگی اور مالکان اور کرایہ دار کی نئی تحریر کے علاوہ ہر سال رہائشی اور غیر رہائشی عمارت کا کرایے میں 10 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔
  • کرمنل لا ترمیمی بِل، جس میں غیر قانونی گرفتاری اور کسی شہری کی گمشدگی کی روک تھام کے لیے ایسا کرنے والے کو 10 سال تک کی سزا متعین کی گئی ہے۔
  • کارپوریٹ کمپنیز ریسٹرکچرنگ بِل کا تعلق سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سے ہے۔ ترمیم کا مقصد مشکلات میں گھری کمپنیوں کو مشکلات سے نکالنے کے لیے قانونی قواعد اور ضوابط کو بہتر بنانا ہے۔
  • کمپنیوں کی محفوظ ٹرانزیکشنز کی رجسٹری کے حوالے سے انتظامی امور وفاقی حکومت سے لے کر سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کو دینا ہے۔
  • فیڈرل پبِلک سروس کمیشن (قواعد کی توثیق) بِل کا مقصد ایف پی ایس سی کے تحت 2016 اور 2017 میں ہوئے مقابِلے کے امتحانات کے حوالے سے جاری کردہ قواعد کی توثیق کرنا ہے۔
  • بحریہ گالف سٹی اسلام آباد میں یونیورسٹی آف اسلام آباد کے قیام کا بِل بھی منظور کیا گیا۔
  • ریوینیو ریکارڈ کو بہتر کرنے، ای-بک کے اجرا اور زرعی قرض میں آسانی کے لیے قرض برائے زرعی، تجارتی و صنعتی مقاصد ترمیمی بِل۔
  • کمپنیز ترمیمی بِل کا مقصد ملک میں سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہیں۔

بِل میں کاروبار کرنے میں آسانی، سٹارٹ اپس کی سہولت کاری اور ریگولیشن کے لیے فریم ورک کو ترتیب دینا ہے۔

  • ووکیشنل اور ٹیکنیکل تعلیم کے بورڈ معاملات میں بہتری کے لیے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کا ترمیمی بِل۔
  • پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ترمیمی بِل، جس میں لفظ وفاقی حکومت نکال کر متعلقہ وزات کا نام ڈالنے کی ترمیم کی گئی جس سے فیصلہ سازی میں آسانی ہو سکے گی۔
  • امیگریشن ترمیمی بِل، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی ترمیمی بِل اور گوادر پورٹ قاسم اتھارٹی ترمیمی بِل کے ذریعے پورٹ قاسم اتھارٹی

معاملات کو تیز  کرنے اور قومی خزانہ کی بچت کے لیے اختیارات اتھارٹی کو دیے گئے ہیں۔

  • پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ترمیمی بِل میں وفاقی حکومت کی جگہ اتھارٹی کا نام لکھنے کی ترمیم کی گئی۔
  • نجکاری کمیشن کے قوانین میں ترمیمی بِل کے تحت مختلف اختیارات وفاقی حکومت (وفاقی کابینہ) سے لے کر وزیراعظم کو دے دیے گئے ہیں۔
  • پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں کووڈ 19 (پریونشن آف ہورڈنگ) بِل ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے لیے منظور کیا گیا اور اس کا اطلاق اسلام آباد میں ہوگا۔

اس بِل کے مطابق ذخیرہ اندوزی کرنے والے کو تین سال تک قید سامان کی مالیت کا 50 فیصد کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔

ذخیرہ اندوز کی معلومات شہری ڈپٹی کمشنر کو فراہم کر سکتے ہیں اور ایسی معلومات جس کے نتیجے میں ذخیرہ اندوز کو سزا اور قومی خزانے میں رقم جمع ہوگی تو ایسے میں جمع کردہ رقم کا 10 فیصد معلومات فراہم کرنے والے کو بطور انعام دیا جائے گا۔

  • اسلام آباد میں شہریوں کو صاف غذا کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوڈ اتھارٹی کے قیام کے لیے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اتھارٹی فوڈ سیفٹی بِل منظور کیا گیا۔
  • انسداد کرپشن ترمیمی بِل میں بدعنوانی کے کیسوں میں سزاؤں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
  • نیپرا ایکٹ میں بہتری لانے کے لیے  ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹریبیوشن آف الیکٹرک پاور ترمیمی بِل منظور کیا گیا۔
  • یونانی، آیورویدک اینڈ ہومیوپیتھک پریکٹیشنرز ایکٹ میں یونانی، ، آیورویدک اور ہومیوپیتھک کے داخلے کے لیے تعلیمی قابِلیت کا تعین کیا گیا ہے۔
  • ایمبولینسز اور فائر برگییڈ کو راستہ فراہم کرنے کی ترغیب کے لیے پرووینشل موٹر وہیکل ترمیمی بِل اور ریگولیشن آف جنریشن میں ترمیم کی گئی۔

ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کو راستہ فراہم نہ کرنے والے کو تین ہزار روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے اور اس کا اطلاق اسلام آباد میں ہوگا۔

اس کے علاوہ اپوزیشن کے پیش کردہ دو بِل بھی منظور ہوئے جس میں الکرم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ بِل 2021 اور انسداد کورپورال سزا کا بِل جو پاکستان مسلم لیگ ن کے جاوید حسنین اور مہناز اکبر نے پیش کیے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست