حکومت سے نکلا تو زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا: عمران خان

وزیر اعظم نے عوام سے ٹیلی فون پر سوال و جواب کے ایک سیشن میں مزید کہا کہ ان کی پارٹی موجودہ اور اگلی حکومت کی مدت پوری کرے گی۔

وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کو عوام سے ٹیلی فون پر سوال و جواب کے ایک سیشن میں کہا ہے کہ وہ حکومت میں ہونے کی وجہ سے خاموش ہیں لیکن اگر وہ حکومت سے نکلے تو زیادہ خطرناک ہو جائیں گے۔

آج عوام کے ٹیلی فون پر براہ راست سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف موجودہ اور اگلی حکومت کی مدت پوری کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف انہیں بات نہیں کرنے دیتی اور شور مچا دیتی ہے۔ ’این آر او کا پورا گروپ بیٹھا ہوا ہے جو کہتا ہے کہ این آر او نہیں دو گے تو بات نہیں کرنے دیں گے۔‘

23 مارچ کو حزب اختلاف کے مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا  کہ ’یہ سب تین سال سے جاری ہے۔ حزب اختلاف لوگوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن عوام اب سمجھ دار ہے ان کی کال پر سڑکوں پر نہیں آئے گی۔‘

عمران خان نے حزب اختلاف کو مخاطب کرتے ہوئے  خبردار کیا کہ ’میں ابھی حکومت میں ہوں اس لیے   خاموش ہوں، اگرحکومت سے نکل گیا تو زیادہ خطرناک ہوجاؤں گا اور پھر آپ کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔‘

  وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’آپ کی دھمکیاں کہ اقتدار سے نکالا گیا تو مزید خطرناک ہو جاؤں گا گیدڑ بھبکیوں کے سوا کچھ نہیں۔

’جس دن آپ اقتدار سے نکلے عوام شکرانے کے نفل پڑھیں گے۔ نا آپ نواز شریف ہیں جس کے پیچھے عوام کھڑی تھی نا ہی آپ بیچارے اور مظلوم ہیں۔ آپ سازشی ہیں اور مکافات عمل کا شکار ہوئے ہیں۔‘

مریم نواز نے عمران خان کے اتوار کے بیان کے حوالے سے مزید کہا: ’آج عمران خان نے جو الفاظ کہے ہیں وہ ان کی خود پر اور پارٹی کے مستقبل سے ناکامی اور نامایدی کو ظاہر کرتے ہیں۔

’یہ تو ناگزیر تھا۔ عمران خان آپ تاریخ بن چکے ہیں اور ایسی تاریخ جو لوگوں کو سازش اور سازشوں پر انحصار کرنے والوں سے خبردار رہنے کا سبق دے گی۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر الزمان کائرہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات  کرتے ہوئے تبصرہ کیا: ’خان صاحب کے پاس اب کہنے کو کچھ نہیں۔ وہ اپنی کارکردگی کے بارے میں نہیں بتا رہے وہ لوگوں سے کسی ریلیف کا ذکر نہیں کر رہے۔

’ایک بیانیہ تھا جس کو وہ بربادی کا بیانیہ بنا کر بیان کرتے تھے۔ کہتے تھے سونامی سونامی سونامی اور وہ کہتے تھے کہ وہ لوٹی ہوئی دولت لائیں گے اور وہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے میں احتساب کروں گا۔ مگر نہ وہ اپنے مخالفوں کا احتساب کر سکے نہ ہی وہ اپنوں کا احتساب کر سکے۔

’جو الزامات انہوں نے مخالفوں پر لگائے اس سے کئی گنا بڑے الزام ان کی اپنی جماعت کے لوگوں پر لگے۔ پونے چار سالوں میں خان صاحب کے اس دور حکومت میں کسی ایک سیاست دان سے وہ ایک پائی نہیں نکلوا سکے۔

انہوں نے مزید تنقید کرتے ہوئے کہا بقول ان کے نہ وہ احتساب کے نظام کو مستحکم کر پائے، وہ پراسیکیوشن کا گلا کرتے ہیں عمران خان اس کو بھی ٹھیک نہیں کر پائے اور نہ ہی کچھ اور۔

قمر زمان کاہرہ کا کہنا تھا کہ ’اب وہ (عمران خان) ایک چیز پر انحصار کر رہے ہیں۔ اگلا انتخاب جیتنے کے لیے ان کی خواہش ہے کہ عوامی ووٹ یا دیگر سہارے تو نہیں مل سکیں گے لیکن اب وہ جعل سازی کا ایک اور طریقہ ووٹنگ مشینیں ہو ان یا الیکٹورل طریقہ کار میں تبدیلی کر کے اور الیکشن کمشن کو چپ کروا کر وہ انتخابات مینیج کرنا چاہتے ہیں تو اس طرح کے خواب کئی حکمرانوں نے دیکھے لیکن وہ پورے نہیں ہو سکے۔‘ 

سینیئر تجزیہ کار اور صحافی سہیل وڑائچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’وزیر اعظم کے حوالے سے افواہیں ہیں کہ انہیں نکالا جارہا ہے تو میرا خیال ہے وزیر اعظم کو افواہوں اور سرگوشیوں پر بات نہیں کرنی چاہیے۔

’ان کے اس طرح کے بیانات سے ان کے خلاف ہونے والی افواہوں اور سرگوشیوں کو وزن بڑھ جائے گا۔

’پہلے تو لوگ زیر لب یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کو نکالنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ اب ان کے بیان کے بعد لوگوں کو موقع مل جائے گا کہ اس ایشو پر بات کریں۔

انہوں نے مزید کہا: ’میرا نہیں خیال کہ وزیر اعظم کو اس طرح کی چھوٹی موٹی باتوں پرجواب دینا چاہیے۔ وزیر اعظموں کے بیانات بہت محتاط ہوتے ہیں۔

’انہیں بھی محتاط ہو کر بات کرنی چاہیے۔ اس طرح افواہوں پر بات کرنا شروع کر دیں گے تو ہر روز کسی افواہ یا سازش پر بات کریں گے جو مناسب نہیں۔‘

اس سوال و جواب کے سیشن میں وزیر اعظم نے قائد حزب اختلاف کے بارے میں کہا وہ انہیں قائد حزب اختلاف نہیں بلکہ ’قوم کا مجرم‘ سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما کی تقریریں اکثر ’نوکری کی درخواست‘ کی طرح لگتی ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اب تک رمضان شوگر ملز والے کیس میں اپنے جواب جمع نہیں کروا سکے، عدالت کو چاہیے کہ اس کیس کی ہر روز سماعت کی جائے۔

وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کسی سے بھی بات کر سکتے ہیں لیکن مجرموں سے نہیں کیونکہ ان سے بات کرنا قوم کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔

ان کے اس بیان کے ردعمل میں مریم نواز نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ’آپ نے شریفوں اور پی ایم ایل این کے خلاف جو مقدمات بنائے وہ جھوٹے اور من گھڑت تھے اور ان کا انجام وہی ہونا تھا جس کا سامنا کرنا پڑا۔

’اب آپ کی حقیقت دنیا کے سامنے آ گئی ہے تو عدلیہ پر الزام نہ لگائیں۔ آپ کے پاس صرف آپ کا انتقام اور انتقام ہے۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے جو ٹیکس اکٹھا کیا وہ گذشتہ حکومت کے لیے گئے قرضے اتارنے میں لگ رہا ہے۔ ’حزب اختلاف ہمیں بلیک میل کرنے کوکوشش کر رہی ہے لیکن ان سے مفاہمت یا رعایت قوم کے ساتھ خیانت ہو گی۔‘  

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک نے پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 5.37 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے کاروبار اور تعمیراتی شعبے کو مراعات دیں جبکہ فصلوں کی بھی ریکارڈ پیداوار دیکھنے میں آئی ہے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ کاروں اور موٹر سائیکلوں کی پیداوار بھی اب تک کی بلند ترین سطح پر ہے۔ اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہ حکومت اپنے ٹیکس وصولی کے ہدف سے تجاوز کر جائے گی اور ہماری حکومت آٹھ ہزار ارب کا ٹیکس اکٹھا کر کے دکھائے گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 30 لاکھ گھر بننا شروع ہوچکے ہیں، موجودہ دور میں تنخواہ دار طبقہ مشکل میں ہے، اسے ریلیف جلد دیں گے۔

’عوام مایوس کرنے والے پراپگینڈا سے بچیں‘

وزیر اعظم نے عوام اور شہریوں سے کہا کہ وہ ’پروپیگنڈے اور جعلی خبروں‘ میں ملوث ہونے سے گریز کریں جو ملک میں ناامیدی پھیلانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مایوسی ایک مافیا پھیلا رہا ہے اور ہمارا چیلنج اس مافیا کا مقابلہ کرنا ہے۔ ’وہ احتساب سے ڈرتے ہیں اور وہ میڈیا کے ساتھ مل کر معاشرے میں مایوسی پھیلاتے ہیں۔‘

’مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی‘

وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں بڑھتی مہنگائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مہنگائی کی وجہ سے راتوں کو نیند نہیں آتی۔ ’مہنگائی مجھے کئی مرتبہ راتوں کو جگا دیتی ہے۔ مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ جب ہماری حکومت آئی تو سب سے بڑا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا، سارا پریشر روپے پر تھا، ہمارے پاس ڈالرز نہیں تھے اس لیے روپیہ گر گیا اور مہنگائی میں اضافہ ہوگیا۔

’اس کے علاوہ پاکستان سے ڈالر افغانستان جانا شروع ہوئے جس سے ہمارے روپے پر مزید دباؤ بڑھ گیا۔‘

وزیر اعظم نے ملک میں مہنگائی کی دوسری وجہ کرونا وبا کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کرونا نے دنیا بھر میں تباہی مچائی اور دنیا بھر میں مہنگائی تاریخی سطھ تک پہنچ گئی۔ ’یہاں تک کہ ہم سے امیر ملکوں کو بھی اس وقت مہنگائی کا سامنا ہے۔‘

مزدوروں اور کارپریٹ سیکٹر کے حوالے سے ہونے والے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انڈسٹری سب سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے، مزدوروں کے حالات بہتر ہوئے ہیں، کسانوں کے پاس پیسہ آیا ہے، ملک میں کارپوریٹ سیکٹر نے ریکارڈ منافع کمایا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ وہ کارپوریٹ سیکٹر سے  ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے بات کریں گے۔

’بلدیاتی انتخابات میں شکست کی وجہ آپسی اختلافات‘

خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کے حوالے سے وزیر اعظم نے قبول کیا کہ ان انتخابات میں شکست کی وجہ پارٹی کی آپس کی لڑائی تھی جو شکست کا سبب بنی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست