کووڈ صورت حال کی پیش گوئی: ’یہ کوئی قطعی سائنس نہیں‘

معاشرے میں بڑے پیمانے پر تقسیم کے وقت کووڈ ماڈلنگ کی تصور کی جانے والی ناکامیوں کا فائدہ ان لوگوں نے اٹھایا ہے جو وبا کے خلاف برطانیہ کی حکمت عملی میں خامیوں کی تلاش میں ہیں۔

17 جنوری 2022 کو برطانوی شہر بلیک برن میں ایک شہری کو کرونا ویکسین لگائی جا رہی ہے (اےایف پی)

موسمیات کے کسی ماہر سے پوچھیں کہ اگلے دو ہفتے میں موسم کیسا ہو گا تو وہ کندھے اچکاتے ہوئے کہیں گے کہ یہ جاننا ناممکن ہے۔

وسیع تر فضائی پیٹرنز، تاریخی رجحانات اور سیٹلائٹس ڈیٹا کی بنیاد پر پیشگوئیاں کی جا سکتی ہیں لیکن ٹھوس اعدادوشمار کی عدم موجودگی میں امکانات اور غیر یقینی کا دائرہ اتنا وسیع ہو گا کہ اس سے کوئی مدد نہیں ملے گی۔

لیکن جوں جوں زیر بحث وقت قریب آتا ہے اس کے ساتھ  ساتھ واضح اور زیادہ قابل اعتماد معلومات حاصل ہوتی ہیں اور دائرہ سکڑتا ہے جس کے نتیجے میں ماہرین زیادہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آیا آنے والے دنوں میں بارش اور برفباری ہو گی یا دھوپ نکلے گی۔

برطانوی حکومت کے بہت سے سائنسی مشیروں میں ایک پروفیسر مائیک ٹلڈسلی کووڈ 19 کے ماڈل تیار کرنے سے متعلق پیچیدگیوں کو بیان کرنے کے لیے اسی مثال کا استعمال کرتے ہیں۔  ’آپ ایک ماڈل تیار کر سکتے ہیں کہ 10 دن کے عرصے میں اس بات کا 10 فیصد امکان ہے کہ بارش ہو گی یا دھوپ نکلے گی اور صرف ایک فیصد امکان ہے کہ برفباری ہو گی۔ لیکن بلاشبہ جب آپ عملی طور پر اس دن تک پہنچتے ہیں تو ان میں سے صرف ایک ہی ہوتا ہے۔‘

جب بات اومیکرون کی ہو تو لہر کے آغاز میں دستیاب محدود ڈیٹا کے پیش نظر کرسمس کے دوران کیا ہو سکتا ہے اس حوالے سے ماہرین بہت سے حالات کی پیشگوئی کی تھی۔ تاہم حالات جب آئے تو پیمانے اور حقیقت میں کئی گئی پیش گوئیوں سے مختلف تھے۔ لیکن پھر بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے حتمی اور پیشگوئی کرنے والے نہیں تھے۔

پروفیسر ٹلڈسلی کے بقول: ’بہت سے لوگ یہ خیال کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہم یقینی باتیں کرنی چاہییں لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔‘

تو پھر یہ ممکنہ حالات کیا خاکہ پیش کر رہے تھے؟ سرکاری سطح پر کووڈ ماڈلنگ کرنے والے  پروفیسر جان ایڈمنڈز کے بقول، انتہائی بدترین حالات، وہ جن پر ’اخبارات زیادہ زور دیتے ہیں،‘ ان میں پیش گوئی کی گئی کہ اگر پابندیاں نہ لگائی گئیں تو اومیکرون کے پھیلاؤ کے عروج پر ایک دن میں چھ ہزار ہلاکتیں اور لاکھوں ہسپتال داخل ہو سکتے ہیں۔ سب سے بہتر حالات میں یومیہ چار سو اموات ہوتیں اور تین ہزار سے کم لوگ ہسپتال داخل ہوتے۔

جب ہم ایک کے بعد اگلے ویک اینڈ کے لیے منصوبہ بندی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو موسم کی ایسی ہی غیر یقینی صورت حال کو قبول کر لیتے ہیں، اس طرح حکومت نے بھی ان امکانات کو سامنے رکھ کر وائرس کی موسم سرما میں آنے والی لہر کا مقابلہ کرنے کی تیاری کی اور فیصلہ کیا کہ آیا اسے کسی چھوٹی چھتری کی ضرورت ہے یا نئے برساتی لباس کی۔

اس موقعے پر حکومت نے ہلکی حکمت عملی اختیار کی۔ شکر ہے کہ اس حکمت عملی کا فائدہ ہوا۔ اس دوران بدترین حالات، جن کا خاکہ ماہرین نے تیار کیا تھا، وہ نہیں پیش آئے۔‘ پروفیسر ٹلڈسلی کہتے ہیں ’ان کے عملی شکل اختیار کرنے کا امکان ایک فیصد تھا۔‘

اس کے باوجود سائنٹفک پنڈیمک انفلوئنزا گروپ آن ماڈلنگ (ایس پی آئی۔ایم) کے ارکان سمیت پروفیسر ایڈمنڈز اور  ٹلڈسلی کو دسمبر کے آغاز میں وزرا کے لیے یہ ماڈل  تیار کرنے میں معاونت پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ وقت تھا جب امیکرون کے معاملے میں خوف بڑھ رہا تھا۔

حکومت اور عوام جاننا چاہتے تھے کہ کتنے لوگ مریں گے، کتنے متاثر ہوں گے، روزانہ ہسپتالوں میں داخلوں کی تعداد کتنی بڑھے گی، کون سی پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے۔ یہ معاملہ موسم کی پیشگوئی سے بہت زیادہ مختلف تھا۔ جو مشکل درپیش تھی وہ اس وجہ سے بڑھ گئی کہ اومیکرون کی شدت اور اس کی مدافعتی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت کے بارے میں ڈیٹا کی کمی تھی۔ ان تفصیلات کے بغیر حالات کے جو ماڈل تیار کیے گئے حقیقت کے زیادہ قریب نہیں رہے۔

پروفیسر ایڈمنڈز کے مطابق: ’کرسمس سے عین پہلے ہمیں اعدادوشمار مل گئے کہ حقیقت میں اومیکرون کی شدت کم ہے۔‘

لیکن اس وقت تک اخباروں کی سرخیاں طے ہو چکی تھیں جب کہ ناقدین بظاہر اس جانب اشارہ کر رہے تھے کہ دراصل یومیہ چھ ہزار لوگ اومیکرون کی وجہ سے ہلاک نہیں ہو رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک اور بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ جو ماڈل تیار کیے گئے وہ پیشگوئیاں تھیں جن کے بارے میں ایس پی آئی۔ایم کے سربراہ پروفیسر گریم میڈلی کا کہنا ہے کہ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’ہم حکومت کے لیے امکانات کے ماڈل تیار کر رہے تھے۔ یہ ماڈل وہ منظرنامے ہیں جن کا مقصد فیصلہ سازوں کی مدد کرنا تھا تاکہ وہ مختلف پالیسیاں اختیار کرتے وقت ان کے مضمرات کو سمجھ سکیں۔‘

انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ ایس پی آئی۔ایم کے ماڈل عام کیے جانے سے پہلے ہی پرانے ہو چکے ہوتے۔ ’اس صورت میں ہم ایسی بات کی  وضاحت کرنے کی کوشش کے لیے رہ جاتے کہ خبر اس لحاظ سے واقعی پرانی  ہے کہ حکومت پہلے ہی اس جائزہ کا لے چکی اور پالیسی بنا چکی تھی۔‘

اگرچہ ماہرین تسلیم کریں گے کہ ان کی مہارت خامیوں سے پاک نہیں ہے۔ اس کے بالکل برعکس ایس پی آئی۔ایم کے جن ارکان نے دی انڈپینڈنٹ کے ساتھ بات کی انہوں نے تسلیم کیا کہ ماڈلز کی تیاری میں انسانی رویہ تکنیکی طور پر سب سے مشکل حصہ ہے۔ جب وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اور نئی پابندیوں کے نفاذ کا امکان بڑھتا ہے، جیسا کہ ہم نے دسمبر میں اومیکرون کے معاملے میں دیکھا، تو لوگوں کے ردعمل ظاہر کرنے کے طریقوں میں انتہائی نوعیت کی تبدیلیاں آئیں۔

یہاں تک کہ حکومت کی طرف سے ایسا کرنے کے اعلان سے بھی پہلے بہت سے لوگوں نے معاشرے سے مکمل طور پر کٹ جانا تھا۔ دوسرے یہ مانتے ہوئے کہ انہیں ویکیسن کی تمام خوراکیں لگ چکی ہیں معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھتے۔ بعض لوگ ہر قسم کی رہنمائی کو غیرضروری سمجھتے ہوئے اسے نظرانداز کر دیتے۔ 

پروفیسر ٹلڈسلی کے مطابق: ’یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ یہ ردعمل معاشرے کے مختلف حصوں میں کس طرح مختلف ہوتے ہیں۔ ممکن تھا کہ عمر کے اعتبار سے مختلف گروپس کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ اور برادریاں مختلف انداز میں ردعمل ظاہر کرتے۔ اس لیے اس چیز کو ماڈلز کا حصہ بنانا مشکل کام ہے۔‘

یہی وجہ ہے کہ ایس پی آئی۔ایم کے بہت سے ماڈلز میں انسانی رویے کو شامل نہیں کیا گیا۔ مختلف جامعات مختلف منظرنامے تیار کرتی ہیں جو وزرا کو پیش کیے ڈیٹا میں ملا کر شامل کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزرا کو گذشتہ دسمبر میں پیش کیے گئے امکانات اتنے وسیع تھے۔ 

ناقدین کا ماننا ہے کہ ان معلومات کے بغیر منظرنامے ہمیشہ ہدف سے دور رہیں گے۔ اور یقنینی طور دلیل موجود ہے کہ اس کو ماڈل سازی کا حصہ بنایا جائے، خاص طور پر جب عالمی سطح پر کئی مطالعے جاری ہوئے ہیں اور گذشتہ دو سال کا ڈیٹا موجود جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ وبا کے تمام عرصے کے دوران انسانی رویے کس طرح تبدیل ہو چکے ہیں۔

برطانیہ کے سڑرٹیجک ایڈوائزری گروپ آن امیونائشن ’سیج‘ کے حالیہ اجلاس میں تسلیم کیا گیا کہ متاثرین کی ہسپتال میں داخل ہونے کی تعداد میں جس اضافے کی توقع کی جا رہی تھی ’وہ ابھی تک نہیں دیکھا گیا۔‘

سائنس دانوں نے مفروضہ پیش کیا ہے کہ ’ہو سکتا ہے کہ ایسا ہسپتال میں داخل ہونے سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کا حفاظتی ویکسین لگانا، ویکیسن کی افادیت زیادہ دیر تک رہنا اور خطرے میں سب سے زیادہ گھرے افراد یا ان کے اردگرد موجود لوگوں کا احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے رویے کا نتیجہ ہو۔‘

تاہم یہ مخصوص اس بات کی نشاندہی نہیں کرتی ہے کہ ماڈل سازی بےکار اور ناقابل اعتماد ہے۔ اس کی بجائے یہ ایک یاد دہانی ہے کہ ماڈل میں ہر بات شامل نہیں۔ ماہرین خود اتنا ہی کہیں گے۔ پروفیسر ٹلڈسلی کہتے ہیں کہ یہ کوئی قطعی سائنس نہیں ہے۔‘

لیکن معاشرے میں بڑے پیمانے پر تقسیم کے وقت کووڈ ماڈلنگ کی تصور کی جانے والی ناکامیوں کا فائدہ ان لوگوں نے اٹھایا ہے جو وبا کے خلاف برطانیہ کی حکمت عملی میں خامیوں کی تلاش میں ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ ہم نے جن پابندیوں کا سامنا کیا ان کے بدلے میں معاوضہ دیا جائے۔

ماڈلنگ پر اپنی تنقید میں ایک غیر معروف رکن پارلیمنٹ اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے ونسٹن چرچل کے الفاظ دہرا دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اتنے کم، قابل گرفت اور ممکنہ طور پر خامیوں سے بھرے ڈیٹا کی بنیاد پر چند لوگوں نے اتنے زیادہ لوگوں کو جو نقصان پہنچایا اس سے پہلے کبھی نہیں پہنچایا گیا۔‘

ایس پی آئی۔ایم کے ایک رکن جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے بات کو اچھے انداز میں مکمل کیا۔

’درحقیقت یہ سب سیاسی معاملہ ہے اور سیاسی استدلال میں ان ثبوتوں، جو اس عمل کی حمایت میں دکھائی دیتے ہوں، جو آپ نہیں چاہتے ہو، کو نشانہ بنانا ایک جائز کام ہے۔‘

افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ واحد کام نہیں کہ جسے کرنے کی کوشش سائنس دانوں نے کبھی نہ کی ہو۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ