’تاریخ رقم ہوگی‘: پیپلز پارٹی کا کسان ٹریکٹر ٹرالی مارچ آج حیدر آباد میں

بلاول ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری حیدرآباد میں آج ٹھنڈی سڑک پر حیدرآباد ڈویژن کے مختلف شہروں اور تحصیلوں سے آنے والی ٹریکٹر ریلیوں کے اجتماع سے خطاب کریں گے۔

حیدر آباد میں کسان ٹریکٹر ٹرالی مارچ میں شامل ہونے کے لیے  24 جنوری کو  ٹریکٹروں کا ایک قافلہ (تصویر: عشا میمن)

وفاق میں اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) ملک میں حالیہ کھاد کے بحران اور وفاقی حکومت کے مبینہ طور پر زرعی معشیت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ نہ کرنے کے خلاف آج (پیر کو) حیدر آباد ڈویژن میں ’کسان ٹریکٹر ٹرالی مارچ‘ کا انعقاد کر رہی ہے۔  

بلاول ہاؤس کراچی سے جاری ایک بیان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری حیدرآباد شہر میں آج سٹیٹ لائف بلڈنگ کے قریب فتح چوک پر حیدرآباد ڈویژن کے مختلف شہروں اور تحصیلوں سے آنے والی ریلیوں کے اجتماع سے خطاب کریں گے۔  

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے بتایا کہ حیدر آباد میں ’کسان ٹریکٹر ٹرالی مارچ‘ کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ مرکزی سٹیج تیار ہے اور مختلف شہروں سے کارکنوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارچ میں بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ پیپلز پارٹی سندھ کی قیادت اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی شرکت کریں گے۔  

نوید قمر نے کہا: ’مارچ میں حیدرآباد ڈویژن کے تمام اضلاع سے کارکنان ٹریکٹر اور بیل گاڑیوں میں سوار ہوکر شرکت کریں گے۔ یہ کسان ریلی ایک نئی تاریخ رقم کرے گی، جس میں بہت بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے۔‘

’کسان ٹریکٹر ٹرالی مارچ‘ کا آغاز 21 جنوری سے سندھ کے لاڑکانہ ڈویژن اور پنجاب میں ساہیوال ڈویژن سے ہوا تھا، جس کے بعد ملک کے مختلف ڈویژنوں میں احتجاج کیا گیا، جو پیر کو اختتام پذیر ہوگا۔  

حیدر آباد میں مارچ میں شرکت کے لیے آنے والے کاشت کار محمدسبحان ہالیپوٹو نے کہا کہ یہ مارچ بہت اہم معاملے پر نکالا جا رہا ہے کیونکہ اس وقت سندھ اور پاکستان بھر کے کاشت کار پریشان ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹنڈو محمد خان سے آئے کاشت کار نے بتایا: ’ایک طرف موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث فصلوں کی پیداوار کم ہے اوپر سے ٹڈی کے حملوں سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا، مگر وفاقی حکومت نے کاشت کاروں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا، بلکہ کھاد کا مصنوعی بحران پیدا کیا، جس سے کسان کو بہت مہنگی کھاد خریدنا پڑی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو اجناس کا ریٹ بھی اچھا نہیں دیا جاتا، اس لیے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہو۔ ’اس لیے میں اور میرے ساتھی اس مارچ میں شرکت کررہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کے خلاف 27 فروری کو اسلام آباد تک مارچ کا اعلان کر چکی ہے۔ یہ مارچ کراچی میں مزارِ قائد سے اسلام آباد تک کیا جائے گا۔  

بلاول ہاؤس سے جاری بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کے کسانوں اور کاشت کاروں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔  

بلاول بھٹو نے کہا: ’موجودہ حکومت نے زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں چاول، گندم اور چینی سے نہ صرف ملک کی ضروریات پوری ہوتی تھیں، بلکہ انہیں برآمد بھی کیا جاتا ہے، مگر اس وقت چینی، چاول، گندم اور دیگر اجناس باہر سے منگوائی جا رہی ہیں۔ ’جب سے موجودہ حکومت آئی ہے تب سے کسانوں کو ان کی فصلوں کی قیمت نہیں مل رہی۔‘  

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ان کی پارٹی کا یہ نعرہ ہے کہ کسان خوشحال ہے تو ملک خوشحال ہے، زرعی معیشت ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زرعی شعبے کو منافع بخش کاروبار بنانے کے لیے اس میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان