بھارت مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو پاکستان کو بھی جلدی نہیں: قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان انتظار کر سکتا ہے مذاکرات ہوں گے تو باوقار طریقے سے ہوں گے لیکن اگر انہوں (بھارت) نے مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کی تو ہم ان کا تعاقب نہیں کریں گے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اگر بھارت مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے تو پاکستان کو بھی کوئی جلدی نہیں ہے۔

کرغستان کے دارالحکومت بشکیک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہندوستان کی سرکار ابھی تک الیکشن موڈ سے باہر نہیں آئی کیونکہ انتہا پسندی اور ہندوتوا کی بنیاد پر انہوں نے الیکشن جیتا ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کے ساتھ آگے بڑھنے ان کے لیے وقت مناسب نہیں ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کے سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’پاکستان کا موقف ساری دنیا کے سامنے ہے لیکن اگر بھارت بات چیت پر تیار نہیں ہے تو پاکستان کو بھی کوئی جلدی نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان انتظار کر سکتا ہے مذاکرات ہوں گے تو باوقار طریقے سے ہوں گے۔ اگر انہوں (بھارت) نے مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کی تو ہم ان کا تعاقب نہیں کریں گے۔‘

وزیراعظم عمران خان اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’جب بھارتی وزیراعظم سے ملاقات طے ہی نہیں تھی تو ملاقات کیسے ہوتی؟‘

انھوں نے بتایا کہ ’بھارتی وزیراعظم کا پاکستان کی جانب سے اجازت ملنے کے باوجود فضائی راستہ استعمال نہ کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ابھی بات چیت نہیں چاہتے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خیال رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 19ویں اجلاس کے لیے وزیراعظم عمران خان پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے بشکیک میں موجود ہیں۔

کرغستان کے صدر کی جانب سے عشائیہ صدارتی محل میں ہی رکھا گیا تھا جہاں سفارتی ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان بھارتی ہم منصب کے علاوہ سب سے ملے۔

ذرائع کے مطابق جب عشائیے کے لیے سربراہان ہال میں داخل ہوئے تو پاکستانی اور بھارتی وزرا اعظم نے ایک دوسرے کو نظر انداز کیا۔

سفارتی ماہرین کے مطابق پہلے پاکستان کی جانب سے بار بار مذاکرات کی دعوت دینا، مبارکباد کے فون کرنا، خط لکھنا لیکن بھارت کے سرد رویے جو دیکھتے ہوئے پاکستان نے بھی اپنا رویہ تبدیل کیا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کے حوالے سے پالیسی پر نظر ثانی کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان