کراچی میں کئی ایدھی مراکز تجاوزات کی زد میں: پورا نظام شدید متاثر

فیصل ایدھی کے مطابق اب کراچی میں کسی بڑے حادثے یا قدرتی آفت کی صورت میں ایدھی ایمبولینس شہریوں کی مدد کے لیے نہیں جا سکتی۔

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ انسداد تجاوزات نے ملک کے سب سے بڑے فلاحی ادرے ایدھی فاؤنڈیشن کے تین مراکز کے کچھ حصے اور شہر کی دس مختلف جگہوں پر موجود حادثے کی صورت میں زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کے لیے کھڑی ایمبولینس کے شیڈ کو گرا دیا ہے۔

شیڈ گرانے کے باعث ملک کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کا کراچی میں موجود مواصلاتی نظام متاثر ہوگیا ہے۔ فیصل ایدھی کے مطابق اب کراچی میں کسی بڑے حادثے یا قدرتی آفت کی صورت میں ایدھی ایمبولینس شہریوں کی مدد کے لیے نہیں جا سکتی۔

سپریم کورٹ کے احکامات پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کا محکمہ انسداد تجاوزات کچھ عرصے سے شہر میں تجاوزات ہٹانے کی مہم چلا رہا ہے۔ اس مہم کے دوران شہر کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ کی 1100 دکانوں کو مسمار کیا گیا ہے۔ کئی علاقوں میں گھروں اور دکانوں کے کچھ حصے تو کہیں پوری پوری کالونی کو مسمار کردیا گیا ہے۔

حال ہی میں کراچی سرکیولر ریلوے کی زمین خالی کرانے کے لیے غریب آباد اور ریلوے کالونی میں کئی گھروں کو مکمل طور پر مسمار کیا گیا تھا۔ اسے سلسلے میں جمعرات کو محکمہ انسداد تجاوزات کے عملے نے ایدھی فاؤنڈیشن کے ٹاور کے ریجنل آفیس، کلفٹن مرکز اور سٹار گیٹ کے مراکز کے باہر لگے شیڈ کو بھی تجاوزات قرار دیکر مسمار کردیا ہے۔

جبکہ لانڈھی کی مرتضی چورنگی، نیشنل ہائی وے ملیر، بھینس کالونی، سٹیل ٹائون، فائیو سٹار چورنگی، سخی حسن، لیاقت نیشنل ہسپتال، سول ہسپتال، انڈس ہسپتال اور قیوم آباد چورنگی پر موجود ایدھی ایمبولینسز کے لیے بنائے گئے بوتھ کو بھی مسمار کردیا ہے۔

بقول فیصل ایدھی ان مراکز اور ایمبولینس بوتھ پر ایمبولیس کو ہدایت دینے والا مواصلاتی نظام نصب تھا جو ان بوتھ کو مسمار کرنے سے تباہ ہوگیا ہے۔ اب ایدھی مرکز ٹاور سے شہر بھر میں موجود ایمبولینس سے رابطہ کرکے انھیں ہدایت جاری کرنے کی سہولت اب ممکن نہیں۔

'جب ایمرجنسی میں کوئی ایدھی کی ہیلپ لائین پر فون کرتا ہے تو وہ فون ایدھی مرکز ٹاور میں وصول کیا جاتا ہے۔ جہاں سے ہمارے رضاکار ایدھی کی وائرلیس سروس جو ہر ایک ایمبولینس میں نصب ہے پر ایمبولینس ڈرائیور سے رابطہ کرکے انھیں ہدایت دیتا ہے کہ کہاں جانا ہے، کتنا جلدی جانا ہے۔ اور اگر کوئی بڑی ایمرجنسی ہوتی ہے تو ایک سے زائد ایمبولینس بھیجنے کے لئے اسی مواصلاتی نظام کے ذریعے رابطہ کیا جاتا تھا۔ مگر یہ نظام اب 70 سے 80 فیصد تباہ ہوچکا ہے۔ اس لیے شہر میں اگر کوئی ایمرجنسی ہوئی تو ہم کچھ نہیں کرسکتے' فیصل ایدھی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات نے شہر میں ہیٹ ویو کی پیش گوئی کی ہے جس کے دوران شہر قائد میں کوئی ایمرجنسی ہوسکتی ہے مگر اس ایمرجنسی میں ایدھی گرمی کی شدت سے متاثر مریضوں کو ہسپتال لے جانے کے لئے ایمبولینس نہیں بھیج سکتا کیوں کہ مواصلاتی نظام متاثر ہو گیا ہے۔

انھوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں صرف ایدھی ایمبولینس پر انحصار نہ کیا جایا بلکہ ہوسکے تو اپنے مریضوں کو نجی گاڑی، رکشے یا موٹر سائیکل پر جلد سے جلد ہسپتال پہنچایا جائے تاکہ قیمتی جان کو بچایا جاسکے۔

کچھ سال پہلے حکومتی اداروں نے سروے کیا کہ کراچی میں سب سے زیادہ حادثات کہاں ہوتے ہیں اور وہ جگہیں جہاں سب سے زیادہ حادثات ہوتے تھے ان کے آس پاس فٹ پاتھ یا خالی جگہوں پر ایدھی فاؤنڈیشن نے ایمبولینس کھڑی کرنے کے لئے بوتھ بنائے تھے تاکہ حادثے کی صورت میں زخمی کو جلد ہسپتال پہنچایا جائے۔ 'ہم نے یہ خیال رکھا تھا کہ پیدل چلنے والوں کو کوئی مسئلہ نہ ہو اور ہماری وجہ سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ مگر اس کے باوجود ہمیں وہاں سے ہٹادیا گیا جو کہ افسوس ناک ہے۔'

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کراچی سرکولر ریلوے کے لیے کتنے ہی گھر مسمار کیے گئے تو وہاں کے مکینوں نے احتجاج کیا جس میں انہوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہوں نے مزید کہا، 'مجھے لگتا ہے کہ کراچی سرکیولر ریلوے کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کرنے کی سزا کے طور پر ایدھی ایمبولینس شیڈ اور مراکز کو مسمار کیا گیا ہے۔'

فیصل ایدھی نے مزید کہا کہ توڑے گئے شیڈ ایدھی فاؤنڈیشن دوبارہ بنا سکتی ہے مگر اب حکومتی گارنٹی دی جائی کہ آئندہ توڑا نہیں جائے گا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ایدھی کو ایمبولینس کے لیے وہ جگہیں جو عوامی مقصد کے لئے استعمال کی جانی ہیں جنھیں ایمینٹی پلاٹ کہا جاتا ہے، الاٹ کی جائیں۔ 'شہر بھر میں ایمینٹی پلاٹ پر قبضہ کرکے کاروبار کیا جارہا ہے ہم تو عوام کے سہولت کا کام کر رہے ہیں تو ہمیں کیوں الاٹ نہیں کی جارہی؟'

حال ہی میں کراچی سول ہسپتال اور جناح ہسپتال کے اندر موجود ایدھی ایمبولینس کی جگہ کو ہسپتال سے باہر نکال دیا گیا تھا۔

جب  بلدیہ عظمی کراچی سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو محکمہ انسداد تجاوزات کے ڈائریکٹر بشیر صدیقی نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان