’پوتن نے کہا ہے کہ وہ یوکرین تنازعے کو نہیں بڑھائیں گے‘

یوکرینی صد رولودومیر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد منگل کو ایک پریس کانفرنس میں ایمانوئل میکروں کا کہنا تھا کہ ان سے روسی صدر نے کہا کہ ’وہ تنازع کو نہیں بڑھائیں گے۔‘

فرانسیسی صدر ماسکو کے دورے کے بعد آٹھ نومبر کو یوکرین پہنچے جہاں انہو ں نے ولودومیر زیلنسکی  سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کی  (اے ایف پی)

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن نے یوکرین کے تنازعے کو مزید نہ بڑھانے کا کہا ہے۔ تاہم ان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس نے تنازع کم کرنے کے حوالے سے کسی بھی معاہدے پر اتفاق کی تردید کی ہے۔ 

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر میکروں نے پوتن کے حوالے یہ بات منگل کو ماسکو کے بعد کیئف کے دورے کے دوران کہی اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ بڑھتے تناؤ کے سفارتی حل کو تلاش کرنے میں ابھی مزید وقت لگے گا۔

یوکرینی صد رولودومیر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد منگل کو ایک پریس کانفرنس میں ایمانوئل میکروں کا کہنا تھا کہ ان سے روسی صدر نے کہا کہ ’وہ تنازع کو نہیں بڑھائیں گے۔‘

میکروں نے کہا: ’میرے خیال میں یہ اہم ہے۔‘

فرانسیسی صدر کے مطابق ولادی میر پوتن نے یہ بھی کہا ہے کہ ’بیلاروس میں کوئی بھی مستقل روسی فوجی اڈہ یا فوجی تعینات نہیں ہوں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس موقعے پر یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا کہ وہ تنازع کو کم کرنے کے حوالے سے پوتن کی جانب سے ٹھوس اقدامات کا خیرمقدم کریں گے۔ تاہم ساتھ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ’عام طور پر الفاظ پر یقین نہیں کرتے۔‘

جبکہ فرانسیسی صدر نے زیادہ امیدیں نہ بندھاتے ہوئے کہا کہ ’بھولے نہ بنیں، جب سے یہ تنازع شروع ہوا ہے فرانس نے اسے بڑھا کر پیش کرنے پر یقین نہیں رکھا، لیکن ایسے میں مجھے نہیں لگتا کہ یہ تنازع  چند گھنٹوں میں بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے۔‘

دوسری جانب روس نے ایسی تمام خبروں کی تردید کر دی ہے کہ میکروں اور پوتن کے درمیان تنازعے کو کم کرنے کے حوالے سے کوئی معاہدہ ہوا ہے۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق روس کے ترجمان دیمتری پیسکوو نے کہا کہ ’موجودہ صورت حال میں ماسکو اور پیرس کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ یوکرین کے بارڈر پر اس وقت ایک لاکھ کے قریب روسی فوجی موجود ہیں لیکن ماسکو کا کہنا ہے کہ وہ حملے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

یوکرین کے معاملے پر حالیہ ہفتوں کے دوران مغربی ممالک کے رہنماؤں کی اعلیٰ سطح پر ملاقاتیں جاری رہی ہیں، اور مزید بھی ہونی ہیں جبکہ دوسری جانب روس اور بنیلاروس کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حال ہی میں نیٹو پر برسنے اور مغرب کو دھمکیوں کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن اب یوکرین کے تنازعے کو مزید نہیں بڑھانا چاہتے ہیں۔

ولادی میر پوتن نے منگلکو خبردار کیا تھا کہ روس کے ساتھ جنگ میں یورپی ممالک خود بخود شامل ہو جائیں گے جس کا ’کوئی بھی فاتح نہیں ہو گا‘، اگر یوکرین کو نیٹو میں شامل کیا گیا اور پھر اس کے کرائمین جزیرہ نما پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جو   2014 سے روس کے پاس ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا