یوکرین پر سمجھوتے کے لیے تیار ہیں: پوتن

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کے ساتھ ماسکو میں ملاقات کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتن کا کہنا ہے کہ وہ میکروں کی پیش کردہ تجاویز پر غور کریں گے، مگر کشیدگی کا مورد الزام مغرب کو ہی ٹھہرایا۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کے معاملے پر سمجھوتے کے لیے تیار ہیں جبکہ مغربی رہنماؤں نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو پابندیوں سمیت ’شدید نتائج‘ ہوں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ولادی میر پوتن نے پیر کو ماسکو کے دورے پر آئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں سے ملاقات کی جس کے بعد انہوں نے سمجھوتے کے حوالے سے بیان دیا، تاہم انہوں نے یوکرین پر کشیدگی بڑھانے کے لیے مغرب کو مورد الزام ٹھہرایا۔ 

پانچ گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے بعد روسی اور فرانسیسی صدور نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں پوتن کا کہنا تھا کہ وہ فرانسیسی صدر کی پیش کردہ تجاویز پر غور کریں گے۔ 

پوتن کا کہنا تھا: ’ان کے بہت سے خیالات، تجاویز...  آگے کے اقدامات کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں لیکن کہا کہ منگل کو ایمانوئل میکروں کی یوکرینی صدر ولادو میر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد دونوں رہنما فون پر بات کریں گے۔

دونوں صدور نے امید ظاہر کی کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد روس اور مغرب کے درمیان بدترین بحران کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

میکروں نے کہا کہ انہوں نے روس اور مغرب دونوں کے خدشات دور کرنے کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ روسی صدر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ’اگر روس محفوظ نہیں ہے تو یورپی شہری بھی محفوظ نہیں ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فرانسیسی صدارت کے مطابق میکروں کی تجاویز میں دونوں اطراف سے کوئی نئی فوجی کارروائی نہ کرنے کا عہد، ایک نئے سٹرٹیجک ڈائیلاگ کا آغاز اور ملک کے مشرق میں ماسکو کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے ساتھ یوکرین کے تنازعے میں امن عمل کی بحالی کی کوششیں شامل ہیں۔

روسی صدر نے ایک بار پھر اس بات کی تردید کی کہ کشیدگی کا ذمہ دار روس ہے۔ پوتن نے کہا: ’یہ کہنا کہ روس جارحانہ رویہ اختیار کر رہا ہے غیر منطقی ہے۔‘

انہوں نے مشرقی یورپ میں نیٹو اتحاد کی تعیناتیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’یہ ہم نہیں کہ جو نیٹو کی سرحدوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘

ماسکو میں یہ ملاقات یوکرائن بحران پر ایک ہفتے کی انتہائی سفارت کاری کے آغاز پر ہوئی جس میں امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کو واشنگٹن میں جرمن چانسلر اولاف شولز کی میزبانی بھی کی۔

مغربی طاقتوں کے مطابق ماسکو نے یوکرائن کی سرحدوں پر ہزاروں فوجی جمع کر لیے ہیں جس سے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ اپنے حامی ہمسایہ ملک یوکرین پر ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ روس ایسے کسی ارادے کی تردید کرتا ہے۔ 

مغرب نے بار بار خبردار کیا ہے کہ اگر روس حملہ کرتا ہے تو اس کے ’شدید نتائج‘ برآمد ہوں گے۔ 

ایسے ہی بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو وہ روس سے یورپ کو گیس کی فراہمی کی اہم پائپ لائن نورڈ سٹریم ٹو کا منصوبہ ختم سمجھے۔ 

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جو بائیڈن نے پیر کو جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس میں کہا: ’اگر روس نے حملہ کیا تو اس کا مطلب ہے ٹینکوں یا فوجیوں کا یوکرین میں ہونا، دوبارہ، پھر نورڈ سٹریم ٹو نہیں رہے گا۔ ہم اسے ختم کر دیں گے۔‘

اس پر صحافی نے جو بائیڈن سے سوال کیا کہ آپ ایسا کیسے کریں گے، کیونکہ یہ منصوبہ اور اس کا کنٹرول جرمنی کے کنٹرول میں ہے، تو جواب میں صدر بائیڈن نے کہا: ’میں وعدہ کرتا ہوں، ہم ایسا کریں گے۔‘

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اعادہ کیا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کی صورت میں فوری طور پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

منگل کو اخبار دی ٹائمز میں لکھتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ یوکرین پر روسی حملے کی صورت میں ان کی حکومت پارلیمنٹ سے روسی افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرے گی۔

بورس جانسن کا کہنا تھا کہ برطانیہ جنوب مشرقی یورپ کی حفاظت کے لیے رائل ایئر فورس ٹائیفون فائٹرز اور رائل نیوی کے جنگی جہازوں کی تعیناتی پر غور کر رہا ہے۔ 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو نے یوکرین کے ساتھ سرحد کے قریب ایک لاکھ دس ہزار فوجی جمع کر لیے ہیں اور فروری کے وسط تک مکمل حملے کے لیے ایک بڑی فوج یعنی تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار فوجی جمع کرنے جا رہا ہے۔

یوکرین کی سرحد پر تنازع کئی ہفتے سے جاری ہے جہاں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ روس کا مطالبہ ہے کہ جمہوریہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت پر مستقل پابندی عائد کی جائے اور یہ بلاک مشرقی یورپ میں تعینات اپنے فوجی واپس بلائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا