’موت کو قریب سے دیکھ رہا ہوں‘: وانا کے صحافی جاوید نور چل بسے

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں انتہائی مشکل حالات میں 25 سال تک صحافت کے شعبے سے منسلک رہنے والے جاوید نور وزیر 55 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

جاوید نور  کافی عرصے سے شوگر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے (تصویر: اہل خانہ)

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں انتہائی مشکل حالات میں 25 سال تک صحافت کے شعبے سے منسلک رہنے والے جاوید نور وزیر ہفتے کو 55 برس کی عمر میں انتقال کرگئے، جس پر صحافتی تنظیموں، سیاسی و سماجی رہنماؤں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

 جاوید نور کے بھائی سبیل خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ کافی عرصے سے شوگر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔

جاوید نور 60 کی دہائی میں وانا کے گاؤں ڈبکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1992 میں گومل یونیورسٹی، ڈیرہ اسماعیل خان سے جرنلزم کی ڈگری حاصل کی تھی۔ جرنلزم کی ڈگری سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے تین سال تک افغان پناہ گزینوں کے کیمپ میں بحثیت تحصیل دار فرائص بھی انجام دیے اور بعد میں تحصیل داری کا عہدہ چھوڑ کر روزنامہ ’مشرق‘ میں بطور رپورٹر صحافت شروع کی۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک سرکاری ہسپتال میں زیر علاج جاوید نور نے اپنی وفات سے تین دن پہلے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی کہ وہ موت کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں، جس پر ان کے دوستوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔

مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب وانا میں حالات بہت زیادہ خراب تھے۔ طالبان عسکریت پسند نہ صرف سرکاری املاک پر حملے کر رہے تھے بلکہ اہم شخصیات اور صحافیوں کے گھروں کو بھی نشانہ بنا رہے تھے۔ پورے علاقے میں اتنا خوف پھیل گیا تھا کہ دیواروں اور درختوں کے سایوں سے بھی ڈر لگتا تھا۔ غیر ملکی میڈیا سے منسلک صحافیوں کو تو اپنے اپنے اداروں نے علاقہ چھوڑنے کا کہہ دیا تھا مگر ملکی میڈیا اپنے رپورٹروں کو تحفظ دینے سے قاصر تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وانا میں کسی بھی صحافی کے اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقے میں اپنے خاندان کے اخراجات پورے کرسکتے، یہی وجہ ہے کہ جاوید نور بھی غربت اور خوف کے سائے میں وانا ہی میں رہنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

ایک دن میں بی بی سی پشاور کے دفتر میں موجود تھا کہ خبر چل پڑی کہ جاوید نور کے گھر پر حملہ ہوا ہے۔ میں نے فوراً ان سے رابطہ کیا اور حال احوال پوچھنے پر بتایا گیا کہ ’بس شکر ہے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ گھر دوسرا بھی بن جائےگا۔‘

اس وقت جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ جاوید مروت نے بتایا تھا کہ دھماکے سے جاوید نور کے گھر کا دروازہ اور چار دیواری مکمل طور پر منہدم ہوگئی تھی اور گھر کے اندر کمروں کو نقصان پہنچا تھا۔

پولیٹیکل ایجنٹ کی باتوں سے کچھ امید بندھی تھی کہ جاوید نور کو معاوصہ مل جائے گا، لیکن 12 سال گزرنے کے بعد بھی ایسا نہ ہوسکا۔ جاوید نور اس فانی دنیا سے چلے گئے، لیکن تحقیقات مکمل ہوئی اور نہ ہی جاوید نور کو کوئی معاوضہ ملا۔

جاوید نور نے پسماندگان میں ایک بیوہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان