جب میں بیجنگ سرمائی اولمپکس میں شریک ہوئی

آخر ایسا کتنی بار ہوتا ہے کہ آپ عارضی طور پر کسی ملک میں مقیم ہوں اور آپ کے قیام کے دوران وہ ملک اولمپکس کی میزبانی کر رہا ہو اور آپ کو اس کی اختتامی تقریب دیکھنے کے لیے مدعو کیا جائے۔

جنوری کے اختتام پر جب مجھے یونیورسٹی کی طرف سے بیجنگ سرمائی اولمپکس کی اختتامی تقریب میں شمولیت کا دعوت نامہ ملا تو مجھے وہ پچھلے دو سالوں میں کرونا کی عالمی وبا کے باعث ملنے والی تمام تکالیف کا ازالہ لگا۔

جنوری 2020 میں کرونا کی عالمی وبا کے بارے میں تواتر سے خبریں آنے لگی تھیں۔

چین نے ووہان سمیت کئی شہروں میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دارالحکومت بیجنگ میں بھی سخت پابندیاں نافذ کر دی تھیں جہاں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے مقیم ہوں۔

مارچ 2020 میں چینی یونیورسٹیوں نے بین الاقوامی طالب علموں کو کیمپس سے باہر جانے سے روک دیا تھا۔ہماری زندگی بس یونیورسٹی کی حد تک ہی محدود ہو کر رہ گئی تھی۔

ستمبر میں ہمیں کیمپس سے باہر جانے کی اجازت ملی۔تاہم بیجنگ سے باہر جانا تب بھی ممنوع تھا۔ ہم ملک چھوڑ سکتے تھے لیکن اس کے بعد واپس چین نہیں آ سکتے تھے۔ مجھ سمیت کوئی بھی طالب علم اتنا بڑا رسک لینے کے لیے تیار نہیں تھا۔

اسی لیے بیجنگ سرمائی اولمپکس کی اختتامی تقریب میں شمولیت کی دعوت کا ملنا میرے لیے بہت بڑی بات تھی۔

آخر ایسا کتنی بار ہوتا ہے کہ آپ عارضی طور پر کسی ملک میں مقیم ہوں اور آپ کے قیام کے دوران وہ ملک اولمپکس کی میزبانی کر رہا ہو اور آپ کو اس کی اختتامی تقریب دیکھنے کے لیے مدعو کیا جائے۔

اور وہ بھی کرونا کی عالمی وبا کے دوران،ایک ایسے ملک میں جو دو سال بعد بھی وبا کے خلاف زیرو ٹالیرینس پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

بیجنگ سرمائی اولمپکس ایک بند لوپ میں بغیر شائقین کے منعقد ہوئے۔

تاہم اولمپکس کی ابتدائی اور اختتامی تقریب میں کچھ مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ اختتامی تقریب میں مدعو مہمانوں میں ایک نام میرا بھی تھا۔

لیکن تقریب میں شمولیت کے لیے مجھ سمیت ہر فرد کو کچھ شرائط پر پورا اترنا لازمی تھا۔ 20 جنوری، 2022 سے پہلے کرونا ویکسین کی دو ڈوز سمیت بوسٹر شاٹ بھی لگوانا ضروری تھا۔

تقریب سے ایک ماہ پہلے تک بیجنگ میں ہی مقیم رہی ہوں۔ضروری شرائط میں ہم پانچ فروری 2022 سے کسی ایسے انسان کے ساتھ رابطے میں نہ رہے ہو جسے کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہو اور ایسے علاقے جہاں نئے کیسز دریافت ہوئے ہوں اور وہاں گئے بھی نہ ہوں۔

تقریب سے دو دن قبل سے روزانہ پی سی آر ٹیسٹ کروائے ہوں جن کا نتیجہ منفی آنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں چار دستاویزات بھی دی گئیں جن میں تقریب میں شمولیت کے بارے میں ہدایات درج تھیں۔

ایک دستاویز میں پارکنگ لاٹ میں گاڑی کھڑی ہونے، سٹیڈیم میں جانے، وہاں بیٹھ کر تقریب دیکھنے اور وہاں سے واپسی پر پارکنگ لاٹ میں گاڑی تک واپس آنے تک کی ہدایات درج تھیں۔

یونیورسٹی کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ہم اپنے ساتھ صرف اپنا موبائل فون اور پاسپورٹ رکھیں۔

سٹیڈیم میں کسی بھی قسم کا بیگ لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمیں کہا گیا کہ ہم اپنے بیگ یونیورسٹی کی بس میں چھوڑ سکتے ہیں۔

ہم یونیورسٹی سے دو بجے بس میں سوار ہو کر بیجنگ نیشنل سٹیڈیم کی طرف روانہ ہوئے۔ تقریب رات آٹھ بجے شروع ہونی تھی۔

ہمیں یونیورسٹی کی بس بیجنگ کے مرکز میں موجود ایگریکلچر نمائش سینٹر لے کر گئی۔ راستے میں ہمیں ہماری ٹکٹ اور کارڈ دیے گئے۔ کارڈ کے ذریعے سٹیڈیم میں داخلہ ہونا تھا۔

ایگریکلچر سینٹر کے اندر ہی ہماری رجسٹریشن کی گئی جس کے بعد ہمیں سیکیورٹی چیک پوائنٹ سے گزار کر بیجنگ اولمپکس کے لیے مخصوص بس میں بٹھایا گیا۔

ہر سیٹ پر کھانے کا ایک پیکٹ موجود تھا۔ کھانے میں ایک بریڈ، دہی کا ڈبہ،چاکلیٹ اور ساسج دیا گیا تھا۔

اس پیکٹ میں بیجنگ اولمپکس کے لوگو والے ماسک بھی موجود تھے۔ سب نے فٹا فٹ اپنے سادے ماسک اُتار کر وہ ماسک پہن لیے۔

ساڑھے پانچ بجے بس چلی اور ہم سوا چھ بجے بیجنگ نیشنل سٹیڈیم پہنچے۔ ہماری بس کی باری آنے پر ہمیں بس سے اترنے کا کہا گیا پھر ایک قطار میں سیکیورٹی چیک پوائنٹس سے گزار کر سٹیڈیم کے اندر تک لایا گیا۔

 راستے میں اردو بھی کان میں پڑی۔ دیکھا تو میرے پیچھے تین خواتین آپس میں اردو میں بات کرتے ہوئے چلی آ رہی تھیں۔ بات کرنے پر پتہ چلا کہ وہ بیجنگ میں موجود پاکستانی سفارت خانے میں کام کرتی ہیں۔

سیکیورٹی چیک پوائنٹس پر فیشل ریکگنیشن سسٹم نصب تھے۔ تقریب کے تمام شرکا کی معلومات پہلے سے ہی سسٹم میں موجود تھیں۔

کیمرے کے سامنے آنے پر سب کی تصویر سکرین پر آ جاتی تھی۔ اس کے بعد آگے جانے کی اجازت ملتی تھی۔ پارکنگ لاٹ سے لے کر سیکیورٹی چیک پوائنٹ تک اور وہاں سے لے کر سٹیڈیم کے دروازے تک ہر قدم پر عملہ اور رضا کار موجود تھے جو مسکرا مسکرا کر بیجنگ میں خوش آمدید،

برڈز نیسٹ میں خوش آمدید، اپنی شام سے لطف انداز ہوں وغیرہ کہہ رہے تھے۔

سٹیڈیم میں داخل ہونے والے ہر فرد کو ایک بیگ دیا گیا جس میں ایک ہلکا کمبل، دستانے، ٹوپی، چین اور اولمپکس کا جھنڈا، چاکلیٹ اورماسک موجود تھے۔

سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر سوشل دوری نہ ہونے کے برابر تھی لیکن سٹیڈیم کے اندر بند لوپ افراد کو ایک طرف اور بیجنگ میں مقیم افراد کو دوسری طرف بٹھایا گیا تھا۔

ہر فرد ایک نشست چھوڑ کر بیٹھا ہے۔ ہر چہرے پر ماسک موجود تھا۔ بلاشبہ یہ کرونا کی وبا کے دوران ہونے والی محفوظ ترین تقریبات میں سے ایک ہے۔

اب میں اپنی سیٹ پر بیٹھی اس سٹیڈیم کو دیکھ رہی ہوں جس کو دیکھ کر وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ’چینیوں کا لیول ہی اور ہے۔‘

تقریب کا آغاز ہو چکا ہے۔سٹیڈیم میں درجنوں چینی نوجوان پر جوشی سے اچھلتے ہوئے اولمپکس کے کھلاڑیوں کا استقبال کر رہے ہیں اور میں یہ خبر مکمل کر رہی ہوں۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی