سرمائی اولمپکس کا نصف مکمل، اب تک کیا ہوا؟

تمام پابندیوں، کرونا پروٹوکولز اور عوامی جذبے کی کمی کے باوجود اس اولمپکس میں ایتھلیٹس پرجوش ہیں۔

چین کے شو منگفو بیجنگ 2022 سرمائی اولمپکس میں 13 فروری کو الپائن سکیئنگ کے مردوں کے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں (تصویرژنہوا)

دنیا کے دوسرے وبائی اولمپکس کے نصف تک بہت کچھ ہوچکا ہے۔ ہمارے پاس روس سے ڈوپنگ سکینڈل ہے، ایک امریکی سکیئر جو غیر متوقع طور پر ناکام ہوگئے اور بہت سارے لوگ مشکلات کے باوجود کھیلوں کے پہلے ہفتے میں کرونا کو قابو میں رکھنے کے لیے مکمل حفاظتی طبی سامان کا انتظام کر رہے ہیں۔

اب تک کے بارے میں سوچنے کے لیے سب سے قابل ذکر چیزیں کون سی ہیں؟

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے عبوری عالمی سپورٹس ایڈیٹر ہووی رمبرگ نے ان چیزوں کو ترتیب دیا ہے۔

آپ کے لیے سب سے نمایاں کیا ہے؟

تمام پابندیوں، کرونا پروٹوکولز اور اولمپک جذبے کی عمومی کمی کے باوجود ایتھلیٹس اب بھی پرجوش ہیں۔

اولمپک کے جذبے کی کمی کھیلوں کے دوران میزبان شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

ناتھن چن کا مختصر پروگرام، ایلین گو کی تیسری دوڑ، ہاف پائپ سے باہر نکلتے ہوئے آیومو ہیرانو اور شان وائٹ کا سنو بورڈنگ سے باہر ہوجانا فوراً ذہن میں آتا ہے۔

خیالات کے دوسرے سرے پر روسی ڈوپنگ کیس دل دہلا دینے والا ہے۔ کمیلا ویلیوا کی عمر صرف 15 سال ہے۔

روس کی ڈوپنگ کتنی اہم ہے؟

بہت زیادہ۔ اس نے نہ صرف کھیلوں کے مارکی ایونٹ یعنی خواتین کی فگر سکیٹنگ میں سونے کے تمغے کے لیے پسندیدہ ایتھلیٹ کو پھنسا کر رکھ دیا بلکہ اس میں ایک بار پھر روس شامل ہوا جو یہاں تکنیکی طور پر بھی نہیں کیوں کہ اس پر 2014 میں سوچی اولمپکس میں بڑے پیمانے پر ریاستی سرپرستی میں ڈوپنگ پروگرام چلانے کا الزام عائد تھا اور اس کے بعد اس پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ آیا انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) اور ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) روس پر بین الاقوامی مقابلوں کی غیر موثر پابندی کو دو سال سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرتی ہے یا نہیں۔

روسی کھلاڑی روسی اولمپک کمیٹی کے نام سے مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں لیکن وہ پھر بھی روسی سرخ لباس پہنتے ہیں اور زیادہ تر شائقین فرق نہیں پہچان سکتے۔

اس کے علاوہ جو چیز اسے ممکنہ طور پر زیادہ اہم بناتی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ والیوا کی ٹیم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکتا ہے مثلاً روسی کوچز، ڈاکٹرز یا ٹرینرز کے خلاف قانونی کارروائی روڈچینکوف اینٹی ڈوپنگ ایکٹ کے تحت کی جا سکتی ہے جسے 2020 میں کانگریس نے منظور کیا تھا۔

سوچی گیمز کے دوران ماسکو میں روسی اینٹی ڈوپنگ لیب کے سربراہ گریگوری روڈچینکوف کے نام سے منسوب قانون کے تحت امریکی پراسیکیوٹرز بین الاقوامی ایونٹس میں ڈوپنگ اسکیموں کے حلاف قانونی کارروائی کر سکتے ہیں جن میں امریکی بطور کھلاڑی، سپانسرز یا براڈکاسٹر شامل ہوتے ہیں۔

کیا کرونا کی پابندیوں نے ان کھیلوں کو بالکل مختلف بنا دیا؟

کرونا پابندیوں کی شدت اور ’کلوزڈ لوپ‘ سسٹم کے تحت اولمپکس کے تمام اسٹیک ہولڈرز ان سرمائی کھیلوں کو بہت مختلف بناتے ہیں۔

یہ اولمپکس گذشتہ موسم گرما کے ٹوکیو گیمز سے بھی زیادہ اہم ہیں جنہیں پہلے وبائی اولمپکس کہا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایتھلیٹک کامیابیوں کے علاوہ جن کی اہمیت کو کم نہیں ہونا چاہیے، یہ ایونٹ اولمپکس کی طرح محسوس نہیں ہوتا ہے۔

ٹوکیو میں کم از کم مقامی لوگوں میں بہت زیادہ دلچسپی دکھائی دے رہی تھی اور لوگ جاپان میں صرف ابتدائی 14 دنوں تک اپنی نقل و حرکت تک محدود رکھے ہوئے تھے۔

لیکن اس حد تک پابندیاں لگانا مکمل طور پر مایوس کن ہے۔ یہ عجیب طور پر درمیان میں لٹکے رہنے کے مترادف ہے کہ ہم بیجنگ میں ہیں بھی اور نہیں بھی۔

اگلے ہفتے میں دیکھنے کو کیا باقی رہ گیا ہے؟

اولمپکس میں ابھی کافی ایکشن باقی ہے۔ خواتین کی فگر سکیٹنگ کے علاوہ ایلین گو کے فری اسٹائل سکیئنگ کے مزید دو ایونٹس باقی ہیں۔

صنعتی ماحول میں اسنوبورڈ کا بڑا فضائی مقابلہ اور خواتین کی ہاکی میں ممکنہ گولڈ میڈل کے لیے امریکہ اور کینیڈا کا دوبارہ میچ شامل ہے۔

کرلنگ میں طلائی تمغے کا فیصلہ ہونا باقی ہے اور بوبسلیڈنگ اور سپیڈ سکیٹنگ میں بھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل