بھارت کا میزائل سسٹم غیر محفوظ؟

میزائل چلانے کے کچھ ایس او پیز ہوتے ہیں۔ یہ کوئی شرلی یا پٹاخہ تو نہیں کہ ماچس سے چل پڑے۔

پاکستان کے سکیورٹی حکام نو مارچ، 2022 کو میاں چنوں میں گرنے والے میزائل کے مقام پر تحقیقات کر رہے ہیں (روئٹرز)

نو مارچ، 2022 کی رات کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے میاں چنوں میں ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی تو لوگوں کو لگا شاید کوئی تربیتی طیارہ گر گیا ہے۔

تاہم ایئرفورس حکام نے بتایا کہ ان کے تمام طیارے محفوظ ہیں۔ جب جائے وقوعہ سے تصاویر سامنے آئیں تو ایسا لگا کہ کوئی یو اے وی یا میزائل گرا ہے۔ 

دہشت گرد راکٹ سے تو حملہ کر سکتے ہیں لیکن میزائل نہیں فائر کر سکتے تو یہ میزائل کہاں سے آیا؟ عسکری حکام کے مطابق نو مارچ کو ایک ’آبجیکٹ‘ بھارتی حدود سے پاکستان میں داخل ہوئی۔

یہ سرسا ہریانہ سے لانچ ہوا اس نے سو کلومیٹر کا فاصلہ بھارت میں مکمل کیا اس دوران اس کی اونچائی 30 ہزار فٹ سے 40 ہزار فٹ تھی۔ اس اونچائی پر کمرشل پروازیں اڑتی ہیں۔

تاہم بھارت نے اپنے کمرشل فضائی آپریشن کو مطلع کیا اور نہ ہی ہاٹ لائن پر پاکستان کو اطلاع دی۔ کوئی نوٹم جاری نہیں کیا گیا جو غیر ذمہ داری کی انتہا ہے۔

یہ میزائل پاکستانی حدود میں داخل ہوا اور 124 کلومیڑ فاصلہ طے کیا اور تین منٹ اور 24 سیکنڈ پاکستان کی فضا میں رہا پھر کریش کر گیا۔

یہ بھارت کا سپر سونک میزائل براہموس تھا جس نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ بھارت اور پاکستان نے باظابطہ طور پر براہموس میزائل کی تصدیق تو نہیں کی لیکن عسکری ماہرین اور میڈیا پر اسے براہموس میزائل ہی بتایا جا رہا ہے۔

بھارت کی تینوں افواج کے پاس موجود یہ سپر سونک کروز میزائل فضا، زمین، زیر آب اور سمندر سے فائر کیے جا سکتے ہیں۔

براہموس میڈیم رینج ریم جیٹ انجن سپر سانک میزائل ہے ۔ براہموس کا ویرئنٹ این جی ابھی آپریشنل نہیں ہے لیکن اس کے ٹیسٹ ٹرائل ہو رہے ہیں۔

اس میزائل کی حد رفتار ماک تین سے چار ہے (ایک ماک آواز کی رفتار کے برابر ہوتا ہے یعنی 1234 کلومیٹر فی گھنٹہ) جبکہ یہ 290 سے 400 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔ حال ہی میں فلپائن نے یہ میزائل خریدنے کے لیے بھارت سے 375 ملین ڈالرز کی ڈیل کی ہے۔

 20 جنوری، 2022 کو بھارت نے چندی پور اڑیسا کوسٹ پر براہموس کا تجربہ کیا تھا۔ پانچ مارچ کو بھارتی نیوی نے آئی این ایس چینائی سے براہموس میزائل کا بحیرہ عرب میں اپنی مغربی نیول کمانڈ کی طرف سے تجربہ کیا۔ بھارت سخوئی 30 جہاز سے بھی اس کے تجربے کر رہا ہے۔

جو براہموس میزائل میاں چنوں میں گرا اس پر وار ہیڈ نصب نہیں تھا۔ پہلے تو بھارتی حکام اس واقعے کی تردید کرتے رہے، تاہم جمعے کو نئی دہلی کی طرف یہ بیان آیا کہ میزائل غلطی سے پاکستان کی طرف فائر ہو گیا۔ بیان میں اسے تکنیکی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ حادثاتی طور پر فائر ہوا۔

واضح رہے بھارت کی پریس ریلیز میں صرف میزائل لکھا ہے اور پاکستان نے سپر سونک میزائل کہا ہے تاہم تصاویر سے یہ بات واضح ہے کہ یہ براہموس میزائل ہے۔

بھارت نے اپنے بیان میں میزائل کے چلنے کو ’غلطی‘ قرار دیا ہے لیکن یہ غلطی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔

ہوا بازی حکام کے مطابق اس میزائل کے روٹ کے نزدیک سے دو بین الاقوامی اور دو ملکی ایئر لائنز کا روٹ تھا۔ اگر یہ میزائل ان کمرشل فلائٹس سے ٹکرا جاتا تو یہ فضائی تاریخ کے بدترین حادثوں میں سے ایک ہوتا۔  

میزائل کا یوں غلطی سے دوسرے ملک میں آجانا جنگ کو شروع کر سکتا ہے۔ دو روایتی حریف جو تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور 26 اور 27 فروری، 2019 کو ایک دوسرے کے مدمقابل آ چکے ہیں۔

ان دونوں کے درمیان کشمیر تنازع ہے اس سب صورت حال میں اتنی فاش غلطی کیسے ہو سکتی ہے؟ پاکستان ایئرفورس نے ریڈار پر اس میزائل کو ٹریک کرلیا اور یہ بھی جانچ لیا کہ اس پر وار ہیڈ نصب نہیں ہے۔

ناکارہ میزائل سسٹم خطے کے لیے خطرہ ہے۔ ایسا حادثہ کیسے ہوا؟ جس وقت یہ فائر ہوا اسی وقت بھارت نے اس کو تباہ کیوں نہیں کیا اور بروقت انہوں نے پاکستان کو اطلاع کیوں نہیں دی۔

کمرشل فلائٹس کے لیے نوٹم جاری کیوں نہیں کیا۔ پاکستان کی ایئر فورس ایئر ڈیفنس نے اس کو لانچ کے بعد پک کیا۔

جنرل (ر) ہارون اسلم کہتے ہیں کہ ’بھارت نے یہ جان بوجھ کر کیا کیونکہ اس سے پہلے بھی ان کی کلوری کلاس سب میرینز کو پاک بحریہ نے ٹریس کیا پھر بالا کوٹ حملہ ہمارے سامنے ہے۔ ’میزائل کو پاکستان کی طرف لانچ کرنا مودی سرکار نے اپنے عوام کو دکھانے کے کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ ’ٹیکنکل فیلیئر نہیں بلکہ کور سٹوری ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ ہمارا رپسانس دیکھنا چاہ رہے تھے لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ ہم بھی میزائل کے جواب میں میزائل داغ دیتے۔ ہم ایک ذمہ دار ریاست ہیں۔ اب یہ میزائل یہاں گرا اس سے ان کی ٹیکنالوجی ہمارے سامنے آئے گی۔ میزائل کو لانچ کرنے میں کئی سٹیپ ہوتے ہیں۔ اس کو بھارت نے ارادی طورپر پاکستان کی طرف بھیجا۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا:  ’اس میزائل کے آنے کے پیچھے پاکستان کو لے کر نفرت اور جنونیت کارفرما ہیں یہ غلطی نہیں پلاننگ سے ہوا۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان جلد بازی میں جواب نہیں دے گا پاکستان کا جواب ویسا ہوگا جیسا ابھی نندن کے کیس میں ہوا۔

ایئر کموڈو (ر) خالد چشتی کہتے ہیں کہ ایئرفورس نے سپر سانک کو ٹریس کر لیا تھا۔ ’یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت اتنا بڑا ملک ہے ایک جوہری طاقت ہے تو وہ تکنیکی طور پر اتنا کمزور ہے؟ حادثاتی طور پر ان سے اتنی بڑی چیز فائر ہوگئی۔ دونوں جوہری ملک ہیں ایک چیز جو وہاں سے آ رہی ہے وہ جوہری حملہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بھارت ایک غیر ذمہ دار اور تکنیکی طور پر کمزور جوہری ریاست ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’ہماری کوئی دیوار نہیں لگی ہوئی کہ کچھ بھی ہمسائے سے آئے تو ہم فائرنگ کرنا شروع کر دیں۔ گراؤنڈ سے رسپانس دینے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ تاہم اس کو ریڈار پر ٹریس کر لیا گیا تھا۔‘

 زمانہ امن میں کسی بھی میزائل کے آنے کی صورت میں اس کو مانیٹر کیا جاتا ہے کہ اس پر وار ہیڈ ہے یا نہیں اور یہ جوہری ہے یا نہیں یا یہ شہری آبادی یا عسکری تنصیات کو ہٹ تو نہیں کر رہا۔ زمانہ جنگ میں صورت حال مختلف ہوتی ہے، اس کا فوری جواب دیا جاتا ہے۔

جو لوگ اسرائیل کے طرز کی آئرن ڈوم کی بات کررہے تھے تو وہ راکٹس سے بچاؤ کرتی ہے میزائل سے نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایسا دفاعی نظام صرف اہم جگہوں پر نصب کیا جا سکتا ہے، پوری سرحد پر یہ کرنا ناممکن ہے۔ سپر سونک میزائل، بلاسٹک میزائل اور ہائپر سونک میزائل کے خلاف آئرن ڈوم میں اتنی افادیت نہیں۔

یہاں پر کچھ سوالات جنم لے رہے ہیں۔ میزائل چلانے کے ایس او پیز ہوتے ہیں۔ یہ کیسے پاکستان آیا؟ کیا اس کو پاکستان کی طرف ارادی طور پرلانچ کیا گیا تھا؟ خود کیسے کریش ہوا؟ کیا ایسی ہی لانچ کیا گیا تھا؟ یہ فوج کی طرف سے داغا گیا یا یہ شرپسند عناصر کے ہاتھ لگ گیا تھا؟

بھارت نے کمرشل طیاروں کے لیے ایئر سپیس کیوں نہیں بند کی؟ پاکستان کو آگاہ کیوں نہیں کیا؟ کیا بھارت کا میزائل سسٹم کارآمد اور محفوظ ہے؟

کیا یہ ایک میزائل دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ شروع کروا سکتا تھا؟ بھارت میں پہلے یورنیم کی خرید وفرخت اوراب میزائل کا یوں ہمسائے کی طرف آ جانا ان کی عسکری صلاحتیوں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ