یوکرین کی وجہ سے دنیا افغانستان کو نہ بھولے: اقوام متحدہ

یو این ایچ سی آر کے سربراہ نے تشویش ظاہر کی ہے کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے افغانستان کے لیے عطیات جمع کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے سربراہ فیلیپو گرانڈی نے بدھ کو اپنے دورہ افغانستان میں کہا کہ روس کے یوکرین پر حملے کی وجہ سے کہیں دنیا افغانستان کو بھول نہ جائے اور یہ کہ اس کی انسانی امداد نظر انداز کرنا خطرناک ہو گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جاری کردہ ویڈیو میں گرانڈی کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام دنیا کی توجہ یوکرین پر مرکوز ہے۔

’میری تنظیم کی بھی توجہ وہیں ہے۔ آج جب ہم یہاں بات کر رہے ہیں تو 30 لاکھ پناہ گزین یوکرین کی سرحد پار کر چکے ہیں۔

’اس لیے سمجھا جا سکتا ہے کہ دلچسپی زیادہ ہے۔ وہاں بہت خطرناک جنگ بھی ہے۔ ایک بڑا انسانی سانحہ ہے۔‘

تاہم گرانڈی نے افغانستان کی موجودہ صورت حال کو نظر انداز نہ کرنے کے حوالے سے اپنی گفتگو میں آگے کہا کہ ’میرا یہاں آنا ایک پیغام ہے کہ دیگر صورت حال کو نہ بھولیں جہاں توجہ اور وسائل درکار ہیں۔ افغانستان بھی ان میں سے ایک ہے۔‘

گرانڈی نے موجودہ افغان حکام سے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا: ’یہاں بہت سے گھمبیر مسائل ہیں جیسا کہ ہم سب کو علم ہے کہ خواتین، اقلیتوں اور تعلیم کے حقوق کو لے کر بہت فکر مندی ہے۔ ان تمام پر کھل کر گفتگو ہو سکتی ہے۔‘

موجودہ افغان حکام کی ان مسائل پر معاملہ فہمی کے حوالے سے یو ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں موجودہ حکام کو اس بات کی آگہی ہے کہ بین الاقوامی برادری خصوصاً عطیہ دینے والوں کو ان میدانوں میں بہتری کی توقع ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی ایجینسیوں کے مطابق رواں موسم سرما میں تین کروڑ 80 لاکھ آبادی والے افغانستان میں آدھے لوگ بھوک کا شکار تھے۔

جنوری میں اقوام متحدہ نے کسی ایک ملک کے لیے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی پانچ ارب ڈالرز امداد کی اپیل کی تھی تاکہ ملک میں انسانی المیے کو ٹالا جا سکے۔

یو این ایچ سی آر کے سربراہ کے مطابق یوکرین جنگ کی وجہ سے افغانستان کے لیے عطیات جمع کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 2022 میں یو این ایچ سی آر نے افغانستان کے لیے 34 کروڑ ڈالرز کی امداد اکٹھی کرنے کی اپیل کی ہے لیکن اب تک صرف 10 کروڑ ڈالرز اکٹھے ہو سکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا