ہنزہ: قبر سے نکالی لاش کی تدفین، محصور 120 طلبہ بازیاب

بلتستان میں گزشتہ روز قبرستان سے نکالی گئی لاش کی دوبارہ تدفین آج کر دی گئی۔ گزشتہ روز علاقے کے ایک نجی سکول میں محصور ہوجانے والے 120 طلبہ اور طالبات کو 24 گھنٹے بعد بحفاظت نکال کر ان کے گھروں تک پہنچایا دیا گیا ہے۔  

29 مارچ 2022 کو علاقہ رہائشیوں کا احتجاج (تصویر: اجلال حسین)

پاکستان کے سابق شمالی علاقہ جات کے گلگت بلتستان ریجن میں گزشتہ روز قبرستان سے نکالی گئی لاش کی تدفین منگل کو دوبارہ کر دی گئی ہے۔ گزشتہ روز علاقے میں پرتشدد حالات کے باعث گنش شہر کے ایک نجی سکول میں محصور ہوجانے والے 120 طلبہ اور طالبات کو 24 گھنٹے بعد بحفاظت نکال کر ان کے گھروں تک پہنچایا دیا گیا ہے۔  

ہنزہ پولیس کے مطابق گنش کے ایک رہائشی منظور حسین کی تدفین وادی ہنزہ کے علاقے نگر ون کے شہر گنش اور ہنزہ خاص کے درمیاں واقع ایک متنازع زمیں کے قبرستان میں کی گئی تھی۔ پیر کے روز کچھ افراد نے ان کی لاش کو نکال کر روڈ پر پھینک دیا جس کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے تاہم آج دوبارہ ان کی تدفین دونگداس میں کر دی گئی ہے۔

اس موقعے پر دو گروپس کے درمیان پھتراؤ کے باعث آٹھ افراد زخمی ہوگئے جب کہ سینئر سپرانٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ہنزہ طاہرہ یعسوب بھی زخمی ہوگئیں۔  

 انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے منگل کی شام ساڑھے تین بجے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہنزہ طاہرہ یعسوب نے بتایا ’تاحال امن و امان کی صورتحال خراب ہے۔‘  

ایس ایس پی ہنزہ آفس کے افسر نے نام نہ لکھنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گنش اور ہنزہ خاص کے درمیان 1200 کنال زمین کی ملکیت پر دونوں شہروں کے رہائشیوں کے درمیان گزشتہ کئی دہائیوں سے تنازع چل رہا ہے۔ دونوں شہروں کے رہائشیوں میں اکثر لڑائی ہوتی رہتی ہے۔ 21 مارچ کو نوروز تقریبات کے دوران بھی فریقین کے درمیان لڑائی ہوگئی تھی جس میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔ جرگے میں فرقین کے درمیان صلح کرا کے لڑائی ختم کر دی گئی جس کے بعد کل دوبارہ یہ واقعہ سامنے آیا۔  

گزشتہ روز کشیدہ حالات کے باعث گنش کے ایک نجی تعلمی ادارے اُساوا پبلک اسکول کے 120 طلبہ اور طالبات سکول میں محصور ہوگئے تھے ان طلبہ کے والدین سوشل میڈیا پر حکومت سے اپیل کرتے رہے کہ ان کے بچوں کو باحفاظت گھر بھیجا جائے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اُساوا پبلک اسکول ایک استاد نوشاد حسین نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کشیدگی کے باعث طلبہ محصور ہوگئے تھے مگر 24 گھنٹے کے بعد انھیں بحفاظت نکال کر ان کے گھروں تک پہنچایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ’کیوں کہ باہر حالات خراب تھے۔ اس لیے ہم نہیں چاہتے تھے کہ طلبہ کو کچھ ہو اس لیے ہم نے طلبہ کو سکول کے اندر ہی رکھا۔ یہ 120 طلبہ تھے جن میں طالبات بھی شامل تھیں۔‘

’انھیں رات کو اپنے اُساوا کالج کے ہاسٹل میں ٹھہرایا گیا تھا، ان کی حفاظت بھی کی گئی، پیر کی دوپہر پولیس کی موجودگی میں تمام طلبہ کو ان کے گھر پہنچایا دیا گیا ہے۔‘

ہنزہ میں سما نیوز کے رپورٹر اجلال حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پیر کی شام تک لاش گنش کے سرکاری ہسپتال میں رکھی ہوئی ہے جس کی تدفین نہیں ہوسکی اور علاقے میں کشیدگی جاری ہے۔

اجلال حسین کے مطابق نوروز کی تقریبات کے دوران ہونے والی لڑائی کا فیصلہ جرگے نے کروا کے صلح کرائی تھی مگر پیر کو لاش دفنانے کے لیے آنے والوں پر پھتراؤ کے بعد دوبارہ یہ تنازع شروع ہوگیا ہے۔ لوگوں نے احتجاج کرکے مین روڈ بھی بند کردیا ہے اور پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات کردی گئی ہے۔   

علاقہ مکینوں کے مطابق دونوں گاؤں کے درمیاں والی یہ زمین بنجر ہے جس کی ملکیت پر فریقین کا انگریز دور حکومت سے تنازع جاری ہے اور لڑائی جھگڑا جاری رہتا ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان